گوادر پاکستان کی اقتصادی ترقی اور روشن مستقبل کی نوید ہے : امتیاز رفیع بٹ

گوادر پاکستان کی اقتصادی ترقی اور روشن مستقبل کی نوید ہے : امتیاز رفیع بٹ

جس دن سے پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی شاہراہ اور گوادر بندر گاہ کی تعمیر اور اس راستے سے بیرونی دنیا تک تجارتی سامان پہنچانے کے معاہدے جسے پاک چین اکنامک کاریڈور (CPEC)کا نام دیا گیا ہے پر دستخط کئے گئے اُس دن سے پاکستان کی ترقی کے کھلے اور چھپے دشمن اس عظیم منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لئے میدان میں آ گئے ہیں ہمارا ازلی دشمن بھارت کھل کر اس منصوبے کی نہ صرف مخالفت کر رہا ہے بلکہ ہر وہ حربہ آزما رہا ہے جو اس منصوبہ کی راہ میں حائل ہو سکے اُسے بہت سے دیگر ایسے ممالک کی آشیرباد بھی حاصل ہے جو دوستی کے لبادے میں ہمارے ساتھ ہمیشہ دشمنی کرتے آئے ہیں کچھ ہمارے اپنے اندر بھی ایسے نادان موجود ہیں جو ان کھلے دشمنوں کا ہتھیار بنے ہوئے ہیں ان حالات میں جب گوادر تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور پاکستان سمیت دیگر دنیا سے بھی سرمایہ کار وہاں مختلف شعبہ جات میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں اس حوالے سے ’’ روزنا پاکستان ‘‘ نے ملک کے رئیل اسٹیٹ کے ایک نمایاں ترین ادارے رفیع گروپ کے چئیر مین امتیاز رفیع بٹ جو تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن اور ممتاز شخصیت رفیع بٹ کے صاحبزادے ہیں اور اس وقت جناح رفیع فاؤنڈیشن کے چئیر مین بھی ہیں ، ان سے گوادر کی ترقی ، کاروباری مواقع اور مستقبل کی خوشحالی کے حوالے سے گفتگو کی جس کا خلاصہ نذرِ قارئین ہے۔گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے امتیاز رفیع بٹ نے کہا کہ دنیا بھر کے ماہرین اقتصادیات اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر گوادر چین اور پاکستان کی حکومتوں کے پلان کے مطابق آگے بڑھتا رہا تو اقتصادی سرگرمیوں کے حوالے سے گوادر ایشیا ء کی سب سے مصروف ترین بندرگاہ بن جائے گی ۔ گوادر کی بدولت ہی چین ایک پٹی ایک روڈ کے اقدام اور میری ٹائم منصوبہ جات سے پاکستان میں سی پیک کے تحت 50 بلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر رہا ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع جو تاریخی اعتبار سے پہلے اس کیلئے درد سر بنا رہا ہے اب اس کیلئے بے پایاں سرمائے کی صورت سامنے آ رہا ہے جو پاکستانی قوم کیلئے عظیم فوائد کا باعث بنے گا۔ 2007 میں اس بندرگاہ کے افتتاح کے بعد اسے دو مراحل میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اب جبکہ گوادر پورٹ کی بروقت تعمیر و تکمیل کا انتظام و انصرام چینی حکومت کے سپرد کر دیا گیا ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ اس ایک پورٹ پر مجموعی طور پر کراچی اور بن قاسم بندر گاہ سے کہیں زیادہ اقتصادی سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں گی۔ گوادر کا علاقہ بذات خود ایک منفرد اکائی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کا جنوب مغربی شہر ہے جو کراچی سے صرف 600 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ یہ علاقہ 1783سے سلطنت مسقط و اومان کا حصہ رہا ہے اور 1958 میں پاکستانی حکومت نے اسے خرید ا۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی تھی جو امریکہ کے جیالوجیکل سروے ڈیپارٹمنٹ نے 1954میں "ڈیپ واٹر رپورٹ " کے نام سے جاری کی۔اس سروے ٹیم کے سربراہ ورتھ کانڈرک (Worth Condrick)نے اس موقع پر کہا تھا "گوادر ایک ایسی بندرگاہ ہے جسے قدرت نے بنایا ہے" ۔ اس وقت بہت کم لوگ جانتے تھے کہ پاکستان جیسی نئی وجود میں آنے والی قوم نے گوادر کی صورت میں چٹانوں کے اندر دباایک خزانہ دریافت کر لیاہے۔ گوادر کو1977 میں باقائدہ طور پر صوبہ بلوچستان کا حصہ بنایا گیا۔چین سے بڑے پیمانے پر آنے والی سرمایہ کاری کے تناظر میں ہمارے لئے چینی عوام کو پاکستان اور گوادرمیں شروع ہونے والے اس منصوبے سے ملنے والے فوائدکو جاننا بھی ضروری ہے جس کیلئے یہ ساری ایکسرسائز کی جارہی ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین باہمی بھائی چارے اور دوطرفہ دلچسپی کے پیش نظر چین ہمیں بہت کچھ دینے پر آمادہ نظر آتا ہے۔ امتیاز صاحب آپ نے ابھی کہا کہ چین بہت کچھ دینے پر آمادہ نظر آتا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری فوری ڈیمانڈز کیا ہونی چاہئیں امتیاز رفیع بٹ نے پورے وثوق سے بات کرتے ہوئے کہا کہ۔ سب سے پہلے پاکستان کو 27000 میگا واٹ اضافی بجلی مہیا کرنے کی پیش کش کی گئی ہے جس سے پاکستان میں توانائی کا بحران ختم ہو جائے گا اور ڈومیسٹک کے ساتھ ساتھ صنعتی ضروریات کو بھی پورا کرے گااور جس سے ہماری پیداواری لاگت میں بھی کمی آنے کا امکان ہے۔ اس پس منظر میں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ فی الوقت ہم 14000میگا واٹس سے کم بجلی پیدا کر رہے ہیں ۔ ایک عام آدمی کے اندازے کے مطابق یہ مقدار زیادہ ہو سکتی ہے جبکہ مستقبل میں ہماری توانائی کی ضروریات کے پیش نظر پاکستان میں بجلی کی پیداوار کی کمی کو دور کرنا چین جیسی عظیم اقتصادی اور سیاسی طاقت کی مدد کے بغیر محال نظر آتا ہے۔ مزید براں ، سی پیک منصوبے میں تمام سہولتوں سے لیس اقتصادی پارکس کا قیام، تعمیر کے منصوبہ جات اور اکنامک زونز بھی شامل ہیں جس سے مزدور طبقے کے معیار زندگی میں فرق آئے گا اور انھیں شہری آبادی کو میسر آنے والی سہولتوں کے برابر لا کھڑا کرے گا۔ نقل و حمل کے شعبے میں چین نے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں ریلوے ، سڑکوں اور ٹرانسپورٹیشن نیٹ ورک کے شعبہ جات کوبھاری سرمایہ کاری کے ذریعے اپ گریڈ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ دیر سے ہی سہی لیکن پاکستان میں موجود انسانی وسائل کو سی پیک منصوبے میں خصوصی وقعت دی گئی ہے اور انسانی وسائل کی ترقی کیلئے تکنیکی اور تعلیمی ادارے قائم کرنے کی طرف پیش رفت بھی منصوبے کا حصہ ہے تاکہ بے روزگاری کے خاتمے کے ساتھ ساتھ نچلے طبقے کی خوشحالی کو چین کے نچلے طبقے کے برابر ممکن بنایا جا سکے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ تمام پیش رفت گوادر کے بغیر ممکن ہے؟ چین پاکستان اکنامک کوریڈور کو بلا شبہ اس صدی کا تاریخی اور شاندار منصوبہ تصور کیا جائے گا۔ گوادر وسطی ایشائی ریاستوں کی درآمدات اور برآمدات کیلئے بھی سب سے بڑا مرکز بننے جا رہا ہے۔ افغانستان اور چین کے علاوہ بھی یہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے ایک پر کشش جگہ کی حیثیت اختیار کر جائے گا۔ اس بھاری سرمایہ کاری کی بدولت پاکستان کی جی ڈی پی دوگنا رفتار سے ترقی کرے گی۔ پہلے مرحلے کی تکمیل مکمل ہو چکی ہے جبکہ انفرا سٹرکچر کی تعمیر کا کام برق رفتاری سے ہو رہا ہے۔ 653 کلومیٹر پر محیط وسیع و عریض مکران کوسٹل ہائی وے جوگوادر کے ساحل کے ساتھ ساتھ چلتی ہے پہلے ہی مکمل کی جا چکی ہے اور مستونگ سے گوادر تک910 کلومیٹر تک لمبی ریلوے لائن بچھانے کے عمل کا بھی آغاز کیا جائے گا۔ جب گوادرمستقبل کا عروس البلاد بننے جا رہا ہے تو کیا وہاں رہائشی اور دیگر تعمیراتی انفرسٹرکچر کی تعمیر کا کام جو کہ نہائت ضروری ہے ہو رہا ہے سوال کی اہمیت کے پیشِ نظر بٹ صاحب نے زور دے کر کہا کہ ۔ سیاسی ، جغرافیائی اور کاروباری اہمیت کے حوالے سے حکومت گوادر میں رہائشی سیکٹر کی ترقی پر بھی زور دے رہی ہے۔ جدید ترین انداز میں سڑکوں کا وسیع نیٹ ورک بچھایا گیا ہے تاکہ رہائشی آبادی کی ضروریا ت کو پورا کیا جاسکے ۔ مرکزی شاہراہ کے حوالے سے مکران کوسٹل ہائی وے اس سلسلے کی ایک شاندار مثال ہے جو اس علاقے میں ممکنہ تجارتی سرگرمیوں کو ذہن میں رکھ کر بنائی گئی ہے۔ اس سڑک میں توسیع کی بھی برابر منصوبہ بندی کی گئی ہے تاکہ جب تجارتی سرگرمیاں بڑھیں تو اس کو مزید چوڑا کیا جاسکے۔اس وقت پاکستانی عوام اور حکومت کو گوادر پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ گوادر ہمارے مستقبل کی ترقی اور خوشحالی کیلئے دمکتے ہوئے تارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک ابھرتی ہوئی سپر پاور نے اپنے مفادات اور دلچسپی کا جھکاؤ پاکستان کی طرف کر دیا ہے اور ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ جب چین سپر پاور بنے تو ہم بھی اقتصادی اعتبار سے مضبوط ہو چکے ہوں۔جیسا کہ توقع تھی ، قومی سطح کی اس عظیم پیش رفت پر معمولی سیاسی اختلافات اور صوبوں کے درمیان وقتاً فوقتاً تنازعات کا کھڑا ہو جانا ایک قدرتی امر ہے لیکن اس سے مجموعی طور پر منصوبے کی تکمیل میں کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ گوادر کی تکمیل پر پورے پاکستان کی نظریں مرکوز ہیں۔ آپ کا ادارہ رفیع گروپ رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کا نمایاں اور وسیع تجربہ کا حامل ہے کچھ آپ اپنے منصوبے گرین پامز کے متعلق آگاہی دیں ۔گوادر کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے ہمارے ادارے نے درست سمت میں بھاری سرمایہ کاری کی۔ ایک رئیل اسٹیٹ ڈویلپر کے طور پر میں اسے حب الوطنی کا تقاضا سمجھتا ہوں کہ اس عظیم قومی منصوبے میں اپنا حصہ ڈالوں اور میری کمپنی رفیع گروپ نے گرین پامز گوادرکے نام سے ایک رہائشی منصوبہ شروع کیا۔ گرین پامز میں پلاٹ کے سائز مختلف سرمایہ کاروں کی کیٹیگری کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان کی ضرورت کے عین مطابق رکھے گئے ہیں۔گرین پامز میں مساجد ، کمیونٹی کلب، لانز ، تعلیمی ادارہ جات ، کارپوریٹ ٹاورز اور انفرا سٹرکچرجدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں اور یہ مہیا کی جانے والی سہولتوں کی محض ایک جھلک ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ گرین پامز ہاؤسنگ پراجیکٹ کو گوادر شہر میں مرکزی حیثیت حاصل ہو گی ۔ نجی سیکٹر سے تعلق رکھنے والے میں اپنے تمام دوستوں سے گزارش کروں گا کہ گوادر آئیں اور اپنے کام کی شروعات کریں ۔میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کے مستقبل کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال کر در اصل آپ اپنے کاروبار کی ترقی کا بھی آغاز کریں گے ۔اگر پاکستان نے غربت کے موجودہ عفریت سے نجات حاصل کرنی ہے اور حقیقی معنوں میں عظیم اقتصادی طاقتوں کی صف میں شامل ہونا ہے تو اسے ملک کے طول و عرض میں یہ پیغام عام کرنا ہو گا کہ پاکستان کے تمام راستے گوادر کی طرف جاتے ہیں کیونکہ مستقبل میں گوادر اقتصادی ترقی کے سنگم کی حیثیت سے سامنے آئے گا۔امتیاز رفیع بٹ نے کہا کہ ہم نے گرین پامز ھاؤسنگ پراجیکٹ میں ہر سطح کے لوگوں کی سہولت کے لئے 5 مرلہ ، 10 مرلہ ایک اور دو کنال کے رہائشی پلاٹس اور اسی طرح 4 اور 8 مرلہ کے کمرشل پلاٹس رکھے ہیں آپ صرف 70 ہزار روپے سے پلاٹ کی بکنگ کروا کے بقیہ رقم آسان اقساط میں ادا کر سکتے ہیں یہ منصوبہ گوادر کے بہترین محل وقوع یقینی مین مکران کوسٹل ہائی وے سے ایک کلو میٹر کے فاصلے اور ساحل سمندر سے چند منٹ کی ڈرائیو پر واقع ہے۔جب سے سی پیک معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں کھلے اور چھپے دشمن اس کے خلاف سازشوں میں معروف ہیں میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی امتیاز رفیع بٹ نے پورے یقین تیقن اور جذبے سے کہا کہ یہ دشمن کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے سی پیک کسی ایک حکومت یا علاقے کا منصوبہ نہیں ہے بلکہ یہ پوری قوم اور ملک کے سنہری مستقبل کا منصوبہ ہے دشمن ننگی جارحیت پر اتر آیا ہے لیکن وہ جانتا نہیں کہ سی پیک کے منصوبے کی محافظ ہماری بہادر مسلح افواج ہی نہیں بلکہ عوام ، صنعت کار ، تاجر ، کسان ، مزدور اور ہر فرد اس کا محافظ اور نگران ہے اور اگر اندرونی سطح پر اس پر کوئی معمولی نوعیت کے اختلافات ہیں بھی تو وہ جسے جسے یہ منصوبہ آگے بڑھے گا ختم ہو جائیں یہ منصوبہ قوم اور ملک کی ترقی کا روشن آغاز ہے جبھی تو دشمن ہر صورت اس کو تباہ کرنے کے درپے ہے لیکن انشاء اللہ ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔امتیاز رفیع بٹ نے کہا کہ پاکستان کے صنعت کار ، تاجر اور دیگر سرمایہ کار جذبہ حب الوطنی کے تحت قومی ترقی کے اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لئے نکلیں خود گوادر میں سرمایہ کاری کریں اور بیرونی دنیا سے بھی سرمایہ کاروں کو گوادر لے کر آئیں ہمارا ادارہ بھی پورے یقین کے ساتھ گوادر میں رائل پامز ہاؤسنگ پراجیکٹ کی صورت میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہم سب کا مستقبل ہی نہیں بلکہ روشن مستقبل ہے۔

مزید : ایڈیشن 2