کماد کی بروقت کٹائی اور ملوں کو سپلائی

کماد کی بروقت کٹائی اور ملوں کو سپلائی

کماد ایک نقد آور فصل ہے اوراس کو کاشتکاروں کی معاشی ترقی میں بہت اہمیت حاصل ہے ۔ ملک میں چینی ،گڑ اور شکر کے حصول کیلئے کما دکی فصل پر ہی انحصار کیا جا تا ہے۔ ملک میں اس وقت 83شوگر ملیں چینی تیار کر رہی ہیں جن میں سے 44صوبہ پنجا ب میں ہیں۔ جن کی پلائی کی کل استعداد تقریباً3 لاکھ 50 ہزار ٹن یومیہ ہے۔ اس کی بروقت برداشت کا بنیادی مقصد چینی اور گڑکا زیادہ حصول ہے ۔ کماد کی تیار شدہ فصل سے فی ایکڑ زیادہ گنا اور چینی کا حصول اس کی بروقت کٹائی اور پیلائی کے مختلف عوامل پر ہے۔ کاشتکار کماد کی کٹائی مختلف اقسام کو مدنظر رکھ کر کریں تاکہ چینی کی زیادہ یافت حاصل ہوسکے۔فصل کی کٹائی وقت سے پہلے شروع کرنے سے نہ صرف گنے کا وزن کم رہتا ہے بلکہ چینی وشکر کی مقدار بھی پوری نہیں ملتی ۔اسی طرح فصل پکنے کے بعد کٹائی میں تاخیر بھی پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہے۔کماد کے کاشتکار سب سے پہلے مونڈھی فصل کو کاٹیں کیونکہ یہ سب سے پہلے تیار ہوتی ہے اور اس کی پیداوار بھی زیادہ ہوتی ہے۔اسی طرح ستمبر کاشتہ فصل کو بہاریہ فصل سے پہلے کاٹا جائے کیونکہ یہ بہاریہ فصل سے پہلے پک کر تیارہوتی ہے اور اس سے چینی بھی زیادہ حاصل ہوتی ہے۔کماد کے کاشتکار لیراکاشتہ فصل کوسب سے آخر میں کاٹیں کاشتکار اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ پہلے اگیتی ، اس کے بعد درمیانی اور آخر میں پچھیتی پکنے والی اقسام کی کٹائی کریں۔اگیتی پکنے والی اقسام پیلائی میں زیادہ یافت دیتی ہیں اگر ان کو آخر سیزن میں کاٹا جائے تو ان کے وزن میں خاطر خواہ کمی آجاتی ہے۔گنے کی پچھیتی اقسام جنوری کے مہینے میں پک کر تیار ہوجاتی ہیں لہٰذا ان کو جنوری کے آخر اور فروری کے وسط تک کاٹیں تاکہ ان کی بڑھوتری کا عمل مکمل ہونے کے ساتھ چینی کی زیادہ ریکوری حاصل ہو سکے ۔ کماد کی فصل کی اچھی قیمت وصول کرنے کے لیے ضروری ہے کہ فصل کو زمین کے برابر کاٹا جائے، گنوں سے کھوری اور جڑوں کو اچھی طرح صاف کرلیا جائے۔ چھیلائی کے دوران آغ اتارنے کے ساتھ 2 یا 3 کچی پوریاں بھی اتارلی جائیں ۔فصل کاٹنے کے بعد گنے کی 24 گھنٹے کے اندرمل کو سپلائی کی جائے تاکہ فصل کے وزن اور ریکوری میں کمی نہ ہوسکے۔کماد کی بروقت اورمنافع بخش برداشت کے لئے درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

کٹائی بلحاظ اقسام :کماد کو برداشت کے لحاظ سے اگیتی ،درمیانی اور پچھیتی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پچھیتی اقسا م کی کٹا ئی اگر شرو ع موسم میں کر دی جا ئے تو ان سے بہت کم چینی و گڑ حاصل ہوتا ہے۔ پچھیتی اقسا م نومبر میں 6 فیصد ریکوری دیتی ہے جبکہ جنوری تا مارچ 10 تا 11 فیصدتک پہنچ جاتی ہے جبکہ اگیتی ا قسام شروع سیزن سے ہی 8.5 فیصد سے اوپر ریکوری دیتی ہیں اور سیزن کے آخر تک 11تا 12 فیصد تک پہنچ جاتی ہیں مگر اگیتی اقسا م کو آ خر سیزن میں کا ٹنے سے ان کے وزن میں کمی �آ جا تی ہے۔ لہٰذاشروع موسم میں پچھیتی اور آخیر موسم میں اگیتی اقسام کی کٹائی اور پیلائی ایک قومی نقصان کے مترادف ہے۔ یہ ایک نہا یت اہم نکتہ ہے جس کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔تحقیقاتی ادارہ کماد فیصل آباد کے ماہرین نے ایچ ایس ایف 242 کی کٹائی اکتوبر کے پہلے پندھواڑے سے شروع ہو کر فروری کے پہلے پندھواڑے تک، سی پی 77-400 اور سی پی ایف 237 کی کٹائی اکتوبر کے دوسرے پندھواڑے سے شروع ہو کر مارچ کے آخر تک، ایچ ایس ایف 240 کی کٹائی نومبر کے آغاز سے مارچ کے آخر تک جبکہ ایس پی ایف 213 ، ایس پی ایف 234، ایس پی ایف 245، سی پی ایف 246 ، سی پی ایف247 اور سی پی ایف 248 کی کٹائی نومبر کے آغاز سے اپریل کے پہلے پندھواڑے تک مکمل کرنے کی سفارش کی ہے۔فصل کی کٹائی اور پیلائی کے لئے درج ذیل باتوں کا خیال رکھا جائے:

مونڈھی فصل اور ستمبر کاشتہ کماد لیرا فصل اوربہاریہ کاشتہ کماد سے پہلے پیلائی کے قابل ہو جاتی ہے۔

ستمبر کاشت میں بہاریہ کاشت کی نسبت 0.5 تا 1.0 یونٹ زائدچینی ہوتی ہے لیکن فصل کھیت میں زیادہ دیر تک کھڑی رہے تو وزن اور ریکوری میں کمی ہونے لگتی ہے۔

مونڈھی اور ستمبر کاشت میں سے کٹائی کاانتخاب کرنا ہو تو پہلے اگیتی اقسام کی مونڈھی فصل اور پھر ستمبر کاشتہ فصل کاٹی جائے۔ اسی طرح پھر درمیانی اقسام کی مونڈھی اور ستمبر اور سب سے آخر میں پچھیتی اقسام کی کٹائی کی جائے۔مگر گری ہوئی فصل کی کٹائی ان سب سے پہلے کرلی جائے۔

گنے کی کٹائی اور مونڈھی: گنے کی کٹا ئی سطح زمین سے ایک سے ڈیڑھ انچ نیچے سے کی جا ئے کیونکہ اس سے ناصر ف مونڈھی کی پھوٹ بہتر ہوتی ہے بلکہ ان میں چھپے ہوئے گڑووں کی سنڈیاں بھی تلف ہو جا تی ہیں۔کٹائی کے دوران اگے ہوئے پوگے بھی لازمی کا ٹیں ورنہ بہتر مونڈھی کے حصول میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ فصل کی کٹائی کے بعد بہتر طریقہ تو یہ ہے مونڈ ھی کو کٹا ئی کے بعد روٹا ویٹر یا سٹبل شیور کے ساتھ چھیل دیا جا ئے کیونکہ ایسا کرنے سے سیاڑوں پر اگی گھا س وغیرہ ختم او ر ان پر نر م مٹی کی تہہ بھی چڑھ جائے گی جو کہ پودوں کی نئی جڑیں پھیلنے میں مددگار ثابت ہو گی ۔ کماد کی مونڈھی کھڑی ہو ئی فصل سے رکھی جائے کیو نکہ گری ہوئی فصل کی مونڈھی سے اچھی پیداوار حاصل نہیں ہوتی۔جس فصل کو مونڈھی رکھنا مقصود ہواسے فروری کے مہینے کے آخر یا بعد میں کاٹا جا ئے تاکہ فصل کا پھٹا ؤ کہر اور سردی کے اثرات سے محفوظ رہے ۔ اگیتی اور ستمبر کاشتہ فصل کی کٹائی اگیتی کرنے کی صورت میں کھوری کو مڈھوں پر یکساں طور پر پھیلا دیا جائے تاکہ یہ مڈھ آئندہ آنے والے کہر کے اثر سے محفوظ رہ سکیں۔

آبپاشی:پانی کی زیادتی سے فصل کے پکنے میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ کٹائی سے تقریباً ایک ماہ پہلے فصل کی آبپاشی بند کردی جائے ۔ بارشیں معمول سے زیادہ ہونے کی وجہ سے زمین میں نمی دیر تک موجود رہتی ہے اور فصل پکنے میں تاخیر ہوجاتی ہے۔سیدھی کھڑی ہوئی کماد کی فصل کی ریکوری بہتر ہوتی ہے جبکہ گری ہوئی فصل کی ریکوری بہت کم ہو جاتی ہے۔ گری ہوئی فصل زیادہ عرصہ تک کھیت میں پڑی رہے تو وقت کے ساتھ اس کی ریکوری کم ہوتی رہتی ہے۔ اس لئے گری ہوئی فصل کو جلد کاٹ کر پیلائی کے لئے مل کو سپلائی کر دیا جائے۔

کھادوں کا استعمال: کماد کی اقسام کے بعد جو چیز مٹھاس پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے وہ کھاد وں کا استعمال ہے ۔ اگر کھاد ڈالنے میں تاخیر کر دی جائے تو چینی کی ریکوری کم ہو جاتی ہے۔ جس کھیت میں نائٹروجنی کھاد دیر سے ڈالی جائے اور کماد زیادہ کچا ہو تو اس کی کٹائی میں جلدی نہ کی جائے۔نائٹروجنی کھاد اس طرح ڈالی جائے کہ فصل کٹنے تک ساری نائٹروجنی کھاد پودے اپنے نشوونما میں استعمال کر لیں۔ نائٹروجنی کھاد کے ساتھ فاسفورس اور پوٹاش کھادیں ڈالنے سے چینی کی ریکوری زیادہ اور بہتر کوالٹی کاگڑ تیار ہوتا ہے۔ جس کھیت میں نائٹروجنی کھاد کم ڈالی گئی ہو وہ پہلے پک کر کٹائی کے لئے تیار ہو جا تی ہے۔

کہر سے متاثرہ فصل کی کٹائی :بعض سالوں میں درجہ حرارت بہت نیچے گر جاتا ہے اور شدید کہر پڑتی ہے۔ اگرکہر زیادہ لمبے وقت تک پڑے یا کچھ دن مسلسل کہر پڑتی رہے تو گنے کے پتے جل جاتے ہیں اور چینی کی ریکوری بہت کم ہو جاتی ہے۔اگر کہر پڑے تو پھر متاثرہ علاقوں کی فصل فوری طور پر کاٹ کر مل کو سپلائی کر دی جائے۔ سردی میں تو کچھ دن گزارہ ہو جاتا ہے لیکن اگر کہر کے بعد درجہ حرارت بڑھنے لگے تو رس خراب ہونے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ اس لئے ان علاقوں کے لئے گنے کی کٹائی اور پیلائی کا پروگرام تیز کر دیا جائے۔ اسی طرح کہر سے شدید متا ثرہ فصل کو اگلی فصل کے لئے بطور بیج استعما ل نہ کیا جائے۔

نقصان دہ کیڑوں اور بیماریوں سے متاثرہ فصل کی کٹائی: مختلف بیماریوں اور نقصان دہ کیڑوں سے متاثرہ فصل کی ریکوری اور پیداوار بہت کم رہ جاتی ہے۔گنے کے وہ کھیت جو سفید مکھی ، گڑووں اور ملی بگ کے حملے سے شدید متا ثر ہو ئے ہوں ان کی کٹائی الگ کی جائے اورملوں کو جلد سپلائی کی جائے۔ مونڈ ھی رکھتے وقت ان کھیتوں کی کھور ی کو لازمی طور پر جلایا جائے۔ کسی صورت بھی رتا روگ سے متاثرہ فصل کی مونڈھی نہ رکھی جائے۔

باسی گنا:کٹائی کے بعد اگر گنا کچھ عرصہ تک کھیت میں پڑا رہے تو وقت گزرنے کے ساتھ اس کی ریکوری میں کمی آنے لگتی ہے۔ کچھ اقسام میں ریکوری کی کمی بہت تیزی سے رونما ہوتی ہے اور ریکوری کے ساتھ وزن بھی کم ہو جاتا ہے۔ تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ اگر گنا 8 دن باسی ہو تومختلف اقسام کے وزن میں 4.25 سے 6.50 فیصد تک اور چینی کی ریکوری میں 4.75 سے 16.5 فیصد تک کمی واقع ہو جاتی ہے جو کہ ایک بہت بڑا قومی نقصان ہے۔ کوشش کی جائے کہ کماد کی کٹائی کے بعد تازہ گنا پیلائی کے لئے ملوں کو پہنچایا جائے۔ کٹائی کے بعد 24 گھنٹے کے اندر گنے کی پیلائی مکمل کرنا بہت ضروری ہے۔ کچھ ملوں میں پیلائی کا نظام بہت باقص ہونے کی وجہ سے پیلائی میں دنوں کی بجائے ہفتوں تک تاخیر ہو جاتی ہے جس کا چینی کی ریکوری پر بہت منفی اثر پڑتا ہے۔

***

آلو کی فصل کا ضرر رساں کیڑوں اور بیماریوں سے تحفظ

سید اعجاز الحسن

آلو نہ صرف دنیابلکہ پاکستان کی اہم ترین فصلوں میں سے ایک ہے آلو کو ایک طرح سے مکمل غذا کہا جا سکتا ہے جو تمام سبزیوں میں غذائیت اور وافر دستیابی کی وجہ سے برتر حیثیت کی حامل ہے۔ آلو انسانی خوراک میں توانائی حاصل کرنے کا سستا ترین ذریعہ ہے۔ آلو کو ایک طرح سے مکمل غذا کہا جا سکتا ہے ۔ یہ نشاستہ،وٹامنز خاص طور پر وٹامن سی اور بی-1 اور نمکیات کا بھرپور ذریعہ ہیں۔ آلو میں 20.6 فیصد کاربوہا ئیڈریٹس،2.1 فیصد پروٹین،0.3 فیصد چکنائی1.1 فیصد ریشہ پایا جاتا ہے اور اس میں ضروری امائینوایسڈ مثلاًلیوسین، ٹریپٹوفین اور آئسولیوسین کی بھی اچھی خاصی مقدار موجود ہوتی ہے۔ جن ممالک میں لوگوں کی خوراک متوازن نہیں ہے، وہاں ان کی خوراک میں آلو کااستعمال اس کو متوازن بنانے میں خاطر خواہ مدد دے سکتا ہے ۔

آلو کی فصل پر بہت سے ضرر رساں کیڑے اور بیماریاں حملہ آور ہوکر فصل کو نقصان پہنچاتی ہیں اور پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہیں۔درج ذیل مضمون میں ضرررساں کیڑوں اور بیماریوں کاتفصیل سے ذکر کیا گیا ہے ۔

آلو کے ضرررساں کیڑے اور انکا انسداد

چور کیڑا : بالغ پروانہ بھورے رنگ کا اگلے پروں پر سیاہ دھاریاں اور ان کے درمیانی حصہ پر سیاہ رنگ کا گردہ نما نشان پایا جاتا ہے سنڈی کا رنگ سیاہی مائل اور لمبائی کے رخ 2 سیاہ دھاریاں ہوتی ہیں۔

نقصان: سنڈی ننھے پودوں کو رات کے وقت زمین کے قریب سے کاٹ دیتی ہے اور دن کے وقت زمین میں چھپی رہتی ہے۔ پودے کے بالائی حصے جب سخت ہو جاتے ہیں اور نیچے آلو بن جاتے ہیں تو یہ آلو کھانا شروع کر دیتی ہے۔

انسداد: پروانے تلف کرنے کے لئے روشنی کے پھندے لگائے جائیں۔ چور کیڑے کے میزبان پودے خاص طور پر جڑی بوٹیاں تلف کی جائیں۔ کھیت کو مناسب وقفہ سے پانی لگاتے رہیں کیونکہ اس سے کیڑے کا حملہ کم ہوتا ہے ۔ محکمہ زراعت پنجاب کے ماہرین کے مشورہ سے آبپاشی کے ساتھ مناسب زہر کھیت میں ڈالی جائیں۔

چست تیلہ: اس کا بالغ کیڑا سبزی مائل اور اگلے پروں پر ایک سیاہ نشان ہوتا ہے جبکہ بچہ بالغ کے مشابہ اور بغیر پروں کے ہوتا ہے ۔یہ کیڑا بڑی تیزی سے حرکت کرتا ہے اور ایک پتے سے دوسرے پتے پر منتقل ہوتا ہے۔

نقصان: بچے اور بالغ دونوں پتوں کی نچلی سطح سے رس چوس کر نقصان پہنچاتے ہیں شدید حملہ کی صورت میں پتے جھلسے ہوئے نظر آتے ہیں اور گرنے لگتے ہیں۔ زیادہ نمی کیڑے کی آبادی کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ یہ کیڑا آلو کی بیماری مائیکوپلازمہ پھیلانے کا بھی باعث بنتا ہے۔

انسداد: جڑی بوٹیاں تلف کی جائیں اور کیمیائی انسداد کے لئے محکمہ زراعت پنجاب کے ماہرین کے مشورہ سے مناسب زہر وں کا سپرے کیا جائے ۔

سفید مکھی : اس کے پر سفید جبکہ زردی مائل اور سفید پاؤڈر سے ڈھکے ہوتے ہیں۔ مادہ پتوں کے نیچے الگ الگ انڈے دیتی ہے۔ انڈے اور بچے پتوں کی نچلی سطح پر چمٹے ہوتے ہیں اوربچے اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتے نہ ہی ان کے پر ہوتے ہیں۔

نقصان: بچے اور بالغ دونوں پتوں کا رس چوس کر نقصان پہنچاتے ہیں حملہ شدہ فصل دھندلی سی نظر آتی ہے۔ یہ پتوں اور تنے پر اپنے جسم سے میٹھا لیس دار مادہ خارج کرتی ہے جس پر سیاہ پھپھوندی پیدا ہوتی ہے جس سے ضیائی تالیف کا عمل رک جاتا ہے۔ یہ مکھی وائرسی امراض پھیلانے کا بھی سبب بنتی ہے ۔

انسداد: فصل کے باقیات کوختم کیا جائے۔ متبادل خوراکی پودے اور جڑی بوٹیاں تلف کی جائیں۔سفید مکھی کیکیمیائی انسداد کے لئے محکمہ زراعت پنجاب کے ماہرین کے مشورہ سے مناسب زہر وں کا سپرے کیا جائے ۔

جوئیں: جسامت میں بہت چھوٹی ہوتی ہیں اورعدسے کی مدد سے نظر آتی ہیں ان کا رنگ کانسی جیسا اور 8 ٹانگیں ہوتی ہیں۔

نقصان: جوئیں پتوں کا رس چوس کر نقصان پہنچاتی ہیں پتے کی نچلی سطح پر جالا ساد کھائی دیتا ہے اور پتے مڑ کر سائز میں چھوٹے ہو جاتے ہیں شدید حملہ کی صورت میں پتوں کے کنارے سوکھنا شروع ہو جاتے ہیں۔

انسداد: فصل کو زیادہ گرم موسم میں کاشت نہ کیا جائے۔ پودوں پر پانی کا سپرے کرنے سے جوؤں کا کافی حد تک کنٹرول ہوجاتا ہے۔اگر حملہ زیادہ ہو تو جوؤں کیکیمیائی انسداد کے لئے محکمہ زراعت پنجاب کے ماہرین کے مشورہ سے مناسب زہر وں کا سپرے کیا جائے ۔

سست تیلہ: اس کیڑے کے بالغ 2 قسم کے ہوتے ہیں پہلی قسم کے کیڑوں کے پر ہوتے ہیں اور ان کے اگلے پر جسم سے تقریبا لمبے ہوتے ہیں جسم کا رنگ سیاہی مائل سبز یا سبزی مائل سیاہ ہوتاہے دوسری قسم کے کیڑوں کے پر نہیں ہوتے جن کا رنگ سبزی مائل بھورا ہوتا ہے ۔

نقصان: پتوں کی نچلی سطح سے رس چوستا ہے جس سے پودے کمزور ہو جاتے ہیں. یہ کیڑا وائرسی امراض پھیلانے کا سبب بنتا ہے پودوں پر شہد جیسے مادے کا اخراج کرتا ہے جس کی وجہ سے سیاہ پھپھوندی اگ آتی ہے اور ضیائی تالیف کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

انسداد: متبادل خوراکی پودے اور جڑی بوٹیاں تلف کرنے سے سست تیلے کی تعداد کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ مناسب وقت پر مناسب مقدار میں نائٹروجن والی کھاد کا استعمال کافی فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ سست تیلہ کیکیمیائی انسداد کے لئے محکمہ زراعت پنجاب کے ماہرین کے مشورہ سے مناسب زہروں کا سپرے کیا جائے ۔

آلو کا پروانہ: پروانے کا جسم اور اگلے پروں کا ر نگ سرخی مائل بھورا ہوتا ہے پروں کے کنارے جھالر دار ہوتے ہیں سنڈی کا سر بھورا اور جسم سبزی مائل مٹیالہ ہوتا ہے ۔

نقصان: پہاڑی علاقوں میں جہاں عام حالات میں سردگودام کے بغیرآلو ذخیرہ کیے جاتے ہیں وہاں یہ پروانہ آلو کی آنکھوں پر انڈے دیتا ہے جن سے سنڈیاں نکلتی ہیں جو فوری طور پر سرنگ بنا کر آلو کے اندر داخل ہوجاتی ہیں اور آلو کو کھانا شروع کر دیتی ہیں ۔

انسداد: فصل کی برداشت پر آلو کھیت میں کھلے نہ چھوڑے جائیں بلکہ انہیں مٹی، گھاس یا بوریوں سے اچھی طرح سے ڈھانپ دیا جائے اور حملہ شدہ آلو چن کر زمین میں دبا دئیے جائیں۔پروانوں کو تلف کرنے کے لئے روشنی کے پھندے لگائے جائیں اور میزبان پودوں خصوصا جڑی بوٹیوں کو تلف کیا جائے ۔

آلو کا اگیتا جھلساؤ: یہ بیماری ایک پھپھوند آلٹر نیریاسولانی سے پھلتی ہے اس بیماری کی وجہ سے گہرے بھورے رنگ کے ہم مرکز دھبے پتوں کے حاشیوں پر رونما ہوتے ہیں اور پتے مڑ کر سوکھ جاتے ہیں بعض اوقات بیماری سے تنے بھی متاثر ہو جاتے ہیں پودوں کے بیماری سے متاثر ہونے کی وجہ سے آلوؤں پر سیاہ اور خشک دھبے بن جاتے ہیں اور زیادہ دیر تک رکھنے کے قابل نہیں رہتے گرم اور مرطوب موسم بیماری پھیلنے کے لئے سود مند ہے ۔ پرنم اور خشک موسم کے آگے پیچھے آنے سے یہ بیماری زیادہ پھیلتی ہے لیکن اگر درجہ حرارت گر جائے تو یہ بیماری رک جاتی ہے ۔شدید حملے کی صورت میں پودا جھلسا ہوا نظر آتا ہے ۔اس بیماری کے کنٹرول کے لئے ہمیشہ تندرست فصل کا بیج کاشت کیا جائے ۔ فصل ختم ہونے پر اس کی باقیات کو جلا دیا جائے ۔ متاثرہ کھیتوں میں 2 سے 3 سال تک آلو کی فصل کاشت نہ کی جائے۔ قوت مدافعت رکھنی والی اقسام کاشت کی جائے۔اس بیماری کا حملہ ہونے کی صورت میں محکمہ زراعت پنجاب کے ماہرین کے مشورہ سے مناسب زہر وں کا سپرے کیا جائے ۔

آلو کا پچھیتا جھلساؤ : یہ بیماری پھپھوند فائیٹو فتھرا کی ایک مخصوص قسم کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ زیادہ نمی اورکم درجہ حرارت میں اس بیماری کا حملہ بڑھ جاتا ہے۔ شروع میں چھوٹے اورپیلے رنگ کے دھبے ظاہر ہوتے ہیں۔یہ دھبے ہوا میں زیادہ نمی کی وجہ سے بھورے یا سیاہ زخموں میں بدل جاتے ہے اور یہ زخم زیادہ تر پتوں کے کناروں پر نمایا ں ہوتے ہیں۔اس بیماری کاحملہ زیادہ ہونے کی صورت میں پودوں کے گلنے سڑنے سے سپرٹ جیسی مخصوص بو آتی ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے آلو کی سطح سیاہ رنگ کی ہو جاتی ہے اورآلو باہر سے اندر کی طرف گلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس بیماری کے کنٹرول کے لئے آلو کا بیج ہمیشہ تندرست فصل سے حاصل کیا جائے ۔فصل ختم ہونے پر باقیات کو اکٹھا کر کے جلا دیا جائے ۔جڑی بوٹیوں کی تلفی کی جائے اورقوت مدافعت رکھنی والی اقسام کاشت کی جائیں ۔ اس بیماری سے متاثرہ کھتوں میں 2سے 3 سال تک آلو کی فصل کاشت نہ کی جائے اور فصلوں کا مناسب ہیر پھیر کیا جائے ۔فصل پر بیماری شروع ہوتے ہی بلکہ شروع ہونے سے پہلے اگر زیادہ نمی اور دھند ہو تو محکمہ زراعت پنجاب کے ماہرین کے مشورہ سے مناسب زہر وں کا سپرے کیا جائے اور 7سے 10 دن کے وقفے سے دہرایا جائے۔

آلو کی سفوفی ماتا: یہ بیماری جراثیم کی قسم سپونجو سپورا سب ٹر ینیا کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ اس بیماری سے آلو پر پھنسی نما بھورے چھوٹے داغ ظاہر ہوتے ہے جو بعد میں پھوڑے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جن میں سفید رنگ کا سفوف دکھائی دیتا ہے۔ اس بیماری کی روک تھام کے لئے بیج ہمیشہ تندرست فصل سے حاصل کریں اور قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کاشت کی جائیں۔

آلو کی عمومی ماتا: یہ بیماری جراثیم کی ایک قسم سٹریپٹومائیسز کی وجہ سے ہوتی ہے ۔اس بیماری سے پودے متاثر نہیں ہوتے بلکہ جب برداشت کے وقت آلو نکالتے ہیں توآلوؤں پر بھورے رنگ کے سخت کا رک نماگہرے دھبے نظر آتے ہیں۔یہ دھبے بڑھ کر آپس میں مل جاتے ہیں اور پھوڑے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس بیماری کے کنٹرول کے لئے بیج ہمیشہ تندرست فصل سے حاصل کیا جائے۔یہ بیماری تیزابی خاصیت کو برداشت نہیں کر سکتی اس لئے زمین میں تیزابیت والی کھادیں استعمال کی جائیں اور ممکن ہو توسبز کھادوں کااستعمال کیا جائے۔ آلو کے بیج کو کسی مناسب زہر کے 2 گرام فی لٹر پانی کے محلول میں 5 منٹ تک بھگو کر کاشت کیا جائے۔

آلو کی سیاہ سڑانڈ: یہ بیماری بیکٹریا کی قسم اروینیا کی وجہ سے آلو کی فصل پر حملہ آور ہوتی ہے۔ اس بیماری کے حملے کے باعث زمین سے اوپر کا تنا سیاہ رنگ کا ہو جاتا ہے اسی لئے اس کو سیاہ سڑانڈ کہتے ہیں۔ تنے کو دبانے سے سیاہ رنگ کا مواد نکلتا ہے جو اس بیماری کی خاص علامت ہے ۔ اس بیماری کے روک تھام کے لئے صحت مند اور بیماری سے پاک بیج کا استعمال کیا جائے ۔ بیماری کی علامات نظر آتے ہی محکمہ زراعت پنجاب کے ماہرین کے مشورہ سے مناسب پھپھوند کش زہر وں کا سپرے کیا جائے ۔

تنے اور آلو کا کوڑھ: یہ بیماری پھپھوند کی ایک مخصوص قسم رائیزوکٹونیا سولانی کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ اس کے جراثیم زمین میں موجود رہتے ہیں اور اس بیماری کانئے اگنے والے پودوں پر حملہ زیادہ ہوتا ہے جس سے فصل کا اگاؤ متاثر ہوتا ہے۔ اگر اس کا حملہ ہو تو زیر زمین جڑوں اور زمین کے قریب تنے پر بھورے رنگ کے دھبے دکھائی دیتے ہیں ۔یہ دھبے اوپر کی طرف تنے کے ساتھ بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں جس سے پودوں میں خوراک بنانے کا عمل متاثر ہوتا ہے اور پودے سوکھ جاتے ہیں۔ اگر آلوپر اس بیماری کا حملہ ہو توان کی بیرونی سطح پر سیاہ ابھرے ہوئے کھرنڈ بنتے ہیں۔ اس بیماری کے کنٹرول کے لئے ہمیشہ تندرست فصل کا بیج استعمال کیا جائے۔ فصل کی باقیات کو جمع کر کے جلا دیا جائے ۔ متاثرہ کھیتوں میں 2 سے 3 سال تک آلو کی فصل کاشت نہ کی جائے اور فصلوں کا مناسب ہیر پھیر کیا جائے۔ قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کاشت کی جائیں اور متاثرہ فصل میں آبپاشی کا دورانیہ کم رکھا جائے۔ فصل کو ہفتہ میں 2 مرتبہ پانی لگایا جائے تاکہ زمین کا درجہ حرارت کم ہو کر بیماری کے حملے کا خطرہ ٹل جائے۔ متاثرہ کھیتوں میں سبز کھاد کا عمل دہرایا جائے اور کاشت سے قبل سفارش کردہ پھپھوندکش زہر کا محلول بحساب 2گرام فی لٹر پانی میں 5 منٹ بھگو کر کاشت کیا جائے ۔

مائیکو پلازما : یہ آلو کی ایک نئی مگر بہت نقصان دہ بیماری ہے جس سے صرف آلو کی فصل بدنما ہوتی ہے بلکہ پیداوار بھی متاثرہ ہوتی ہے پودے قد میں چھوٹے رہ جاتے ہیں، تنوں کی تعداد زیادہ ہوجاتی ہے اور پتے چھوٹے اور اوپر کی طرف مڑ جاتے ہیں دوسری صورت میں پودا بہت لمبا ہو جاتا ہے جس کا اوپر کا حصہ جھاڑو کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور آلوؤ ں کی تعداد زیادہ ہو تی ہے لیکن سائز چھوٹا رہ جاتا ہے متاثرہ پودوں پر کورے کا اثر بالکل نہیں ہوتا۔ پتوں کی رنگت گہری سبز اور گانٹھیں موٹی ہوجاتی ہیں۔ بیماری کے نمودار ہوتے ہی تمام متاثرہ پودوں کو کھیتوں سے نکال دیا جائے اور اس عمل کو فصل کی برداشت تک جاری رکھا جائے۔ چونکہ یہ بیماری چست تیلے کی وجہ سے پھیلتی ہے لہذا اس کیڑے کا مکمل سدباب کیا جائے اور 8تا10 دن کے وقفے سے مناسب زہر کا سپرے کیا جائے۔ تندرست فصل سے حاصل کردہ بیج کاشت کیا جائے۔ متاثرہ کھیتوں میں 2 سے 3 سال تک آلوکی فصل کاشت نہ کی جائے، فصلوں کا مناسب ہیر پھیر کیا جائے اورقوت مدافعت رکھنے والی اقسام کاشت کی جائیں۔

آلو کا پتہ لپیٹ وائرس: یہ بیماری سست تیلے کی وجہ سے پھیلتی ہے ۔سب سے پہلے پودے کے اوپر والے پتے پیلے ہو کر اکڑ جاتے ہیں اوربعد میں اوپر کو مڑ کر درمیانی رگ کے ساتھ گول ہو جاتے ہیں۔ پودے کی بڑھوتری رک جاتی ہے اورزیر زمین آلو چھوٹے رہ جاتے ہے۔ اس بیماری کے کنٹرول کے لئے تیلے یا رس چوسنے والے کیڑوں کے خلاف مناسب زہروں کا سپرے کیا جائے۔بیج کیلئے آلو صحت مند پودوں سے حاصل کئے جائیں ۔بیمار پودے نظر آتے ہی کھیت سے نکال کر تلف کردئیے جائیں۔قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کاشت کی جائیں اور ٹشو کلچر سے تیار کردہ وائرس سے پاک بیج استعمال کیا جائے۔

***

کپاس و دیگر فصلوں کے مڈھوں کی تلفی کی اہمیت

(اسحاق لاشاری)

دھان،کماد،مکئی اور کپاس پنجاب کے آبپاش علاقوں میں کاشت ہونے والی موسم خریف کی اہم فصلیں ہیں۔ ان اہم فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لئے اچھے بیجوں، کیمیائی کھادوں اور دیگر زرعی عوامل کے بہتر استعمال کے ساتھ ان فصلوں کو نقصان رساں کیڑوں اور سنڈیوں کے حملہ سے بچانا بھی ضروری ہے۔ فصلوں کے مڈھوں کی تلفی کا اصل مقصد سنڈیوں اور فصلوں کے نقصان رساں کیڑوں کا مربوط انسدادہے۔ نومبر اور دسمبر میں ان مذکورہ فصلوں کی کٹائی و برداشت کا عمل مکمل ہوتا ہے ۔

گذشتہ دنوں پنجاب میں لاہور سمیت وسطی اور جنوبی اضلاع میں سموگ کی وجہ سے فضائی آلودگی نوٹ کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے ماہرین نے بتایا ہے کہ صنعتی آلودگی اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کے علاوہ کھیتوں میں موجود فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے کا عمل سموگ پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے۔حالیہ خشک اور سرد موسم میں سموگ کی موجودگی کی وجہ سے انسانی بیماریوں کے علاوہ ٹریفک حادثات دیکھنے میں آئے ہیں۔ دھان کی کمبائن ہارویسٹر سے برداشت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ کم وقت اور کم خرچ سے کاشتکاروں کو فی ایکڑ 2000 روپے کی بچت ہوجاتی ہے لیکن کمبائن چلانے کے بعد کاشتکار پرالی اور مڈھوں کو آگ لگادیتے ہیں جس کی وجہ سے ماحول کی آلودگی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔دھان ،کماد ، جوار ، باجرہ اور مکئی کی فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے سے فضائی آلودگی کے علاوہ زمین میں نامیاتی مادہ میں کمی ہوجاتی ہے اور خوردبینی جرثومے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے دھان کے کاشتکاروں کوسفارش کی ہے کہ وہ دھان کی کٹائی اور گہائی کے بعد پرالی اور مڈھوں کو ڈسک ہیرو کے ذریعے زمین میں ملائیں۔ ڈسک ہیرو کے استعمال سے دھان کی باقیات کے علاوہ جڑی بوٹیاں اور غیر ضروری سبز مادہ نامیاتی کھاد وں میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور زمین کی زرخیزی بڑھ جاتی ہے ۔ ڈسک ہیرو کے استعمال سے زمین کے اندر روشنی اورہوا کا گزر باآسانی ہوجاتا ہے اور خوردبینی جرثومے تیزی سے افزائش کرتے ہیں۔ زیادہ نامیاتی مادہ کی حامل زمینوں میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے جو پانی میں فراہمی کی کمی کے باوجود بھی پودوں کو نمی پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔مستقبل میں سموگ جیسی صورتحال سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں زیادہ درخت لگائے جائیں، کھیتوں میں مشینری کا غیر ضروری استعمال ختم کیا جائے اوردرختوں کی کانٹ چھانٹ سے ہر ممکن حد تک پرہیز کیا جائے تاکہ فضائی آلودگی پر کمی پائی جائے۔ فصلوں کی برداشت کے بعد پودوں کی باقیات کو ہرگز نہ جلایا جائے اور دھواں پیدا کرنے سے پرہیز کیا جائے۔

خریف کی فصلوں کپاس ، دھان، مکئی ، جوار اور باجرہ کے علاوہ کماد پر حملہ آور ہونے والے نقصان رساں کیڑوں کی سنڈیاں سردیوں کا موسم مڈھوں میں سرمائی نیند کی شکل میں گزارتی ہیں۔اگرہم ان فصلوں کے مڈھوں کو بروقت تلف نہیں کریں گے توآنے والی فصلوں پر ان نقصان رساں کیڑوں کا حملہ شدید ہوسکتاہے۔ ان فصلوں کے مڈھ کھیتوں میں موجود ہونے اور موسم بہار میں نئی پھوٹ نکلنے پر یہ نقصان رساں کیڑے ان پر منتقل ہو جاتے ہیں اور اپنی نسل میں اضافہ کر کے نئی کاشتہ فصلوں پر حملہ آور ہو کر نقصان کا باعث بنتے ہیں۔اگر دسمبر اور جنوری میں روٹا ویٹر یا ڈسک ہیرو چلا کر ان فصلوں کے مڈھوں کو تلف کر کے اچھی طرح زمین میں ملا دیا جائے تو اس عمل سے ہماری اگلے سال کاشت ہونے والی فصلیں نقصان رساں کیڑوں اور سنڈیوں کے حملے سے کافی حد تک محفوظ ہوجائیں گی اور ہمیں زہروں کا استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئے گی ۔ اس وقت ہمارے کھیتوں میں کماد، دھان ، کپاس ،مکئی ، باجرہ اور چری کے مڈھ موجود ہیں۔ سردیوں میں تنے، جڑ اور گورداسپور ی گڑوویں کی سنڈیاں کماد کے مڈھوں میں سرمائی نیند سو کر گزار تی ہیں۔ اگر ہم زمین سے برابر سطح پر کماد کی کٹائی کر یں گے توکافی حد تک مڈھوں میں موجود سنڈیاں تلف ہوجائیں گی۔ اس کے بعد فصل کی کٹائی مکمل ہونے پر کھیتوں میں اچھی طرح سے روٹا ویٹر چلانے پر مڈھ کھیتوں میں ہی کترے جائیں گے۔ اس طرح سے بچی ہوئی سنڈیاں بھی تلف ہوجائیں گی اور ہماری آنے والی فصل بھی سنڈیوں سے محفوظ رہے گی۔دھان،مکئی اور چری کے مڈھوں میں بھی سنڈیاں سردیوں کا موسم گزارتی ہیں۔فصل کی کٹائی کے فوراًبعد کھیتوں میں روٹا ویٹر چلایا جائے۔اس کے بعد گندم یا کوئی اور فصل کا شت کی جائے یا خالی چھوڑ دیا جائے تاکہ فصل کی کٹائی کے بعد تمام مڈھ تلف ہوجائیں۔

کپاس کی گلابی سنڈی کا فصل کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل میزبان پودا نہیں ہے۔ سردیوں میں سرمائی نیند سوئی ہوئی گلابی سنڈی جڑے ہوئے 2 بیجوں میں گزارتی ہے۔ عرصہ دراز سے گلابی سنڈی کی بہاریہ نسل کو فصل مر جانے والی نسل کے نام سے جانا جاتا رہا ہے کیونکہ اس دوران کپاس کی فصل میں موجود نہیں ہو اکرتی تھی۔ مگر اب کپاس کی بے موسمی اگیتی کاشت کی وجہ سے کپاس کی گلابی سنڈی کی یہ نسل بھی زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے ۔کپاس کی نئی نئی اقسام اور اس کی کاشت کے بدلتے ہوئے رجحان کی وجہ سے گلابی سنڈی کے تدارک کی اہمیت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ کپاس کی آخری چنائی مکمل ہونے پر کھیتوں میں بھیڑ بکریاں چرائیں۔ گلابی سنڈی سردیاں ڈبل سیڈ میں گزارتی ہے۔ان ان کھلے ٹینڈوں اور ڈوڈیوں کے خاتمہ سے کپاس کی اگلی فصل گلابی سنڈی کے حملہ سے محفوظ رہے گی۔گلابی سنڈی پھول کے نر اور مادہ حصوں کو کھاتی ہے۔ جب سنڈی ٹینڈے کے اندر داخل ہوتی ہے تو ٹینڈے پر موجود سوراخ بند ہوجاتاہے اور متاثرہ ٹینڈا آسانی سے شناخت نہیں ہوپاتا۔ گلابی سنڈی کے متاثرہ ٹینڈے بمشکل کھلتے ہیں اوران سے حاصل ہونے والی روئی بد رنگ اور ریشہ کمزور ہوجاتا ہے۔ گلابی سنڈی آخری چنائی کے بعد بچ جانے والے ان کھلے ٹینڈوں یا جننگ فیکٹریوں کے کچرا کے اندر سرمائی نیند کازیادہ عرصہ گزارتی ہے۔ امریکن سنڈی اور چتکبر ی سنڈی پیوپا کی شکل میں کھیتوں میں بچے کچے پتوں، ڈوڈیوں، ٹینڈوں اور زمین میں سرمائی نیند سو کر سردیاں گزارتی ہیں۔اس لیے کپاس کی چھڑیوں کی کٹائی زمین کی سطح کے برابر سے یا گہرائی سے کی جائے اور کپاس کے کھیتوں میں گرے ہوئے ٹینڈوں، مڈھوں اور جڑی بوٹیوں کو روٹا ویٹر یا مٹی پلٹنے والا ہل چلا کر ختم کر دیا جائے تاکہ اگلے سال کپاس کی فصل پر ان نقصان رساں کیڑوں اور سنڈیوں کا حملہ نہ ہو سکے۔ کپاس کے بعد خالی ہونے والے کھیتوں میں گندم کاشت کرنے کے بعد کھیت میں اگرکپاس کے ان کھلے اور کچے ٹینڈوں کے علاوہ کھوکھڑیاں وغیرہ موجود ہوں تو ان کو کھول کر دیکھا جائے اگر گلابی سنڈی کے لاروے ڈبل سیڈ میں ملیں تو پھر ڈیڑھ تا 2 لٹر کلور پائری فاس پانی کے ساتھ فی ایکڑ فلڈ کی جائے تاکہ کپاس کی سنڈیوں کے علاوہ ڈسکی کاٹن بگ، ریڈ کاٹن بگ اور دیمک وغیرہ کا خاتمہ ہوسکے۔

کھیت میں اور دیہی آبادی کے گرد ونواح میں جو چھڑیاں جلانے کے مقصد کے لیے رکھی جاتی ہیں، ان کو کھیتوں سے دور کسی جگہ پر ذخیرہ کیا جائے اوران پر بچے کچے ٹینڈوں کو تلف کر دیا جائے۔ چھڑیوں کے ڈھیروں کے پاس فروری سے مئی تک روشنی کے پھندے لگائے جائیں تاکہ پروانوں کو تلف کیا جائے ۔ بچے کچے ٹینڈوں اور کھوکھڑیوں کو جلا دیا جائے اس دوران ہماری آنے والی فصلوں پر سنڈیوں کا حملہ بہت کم ہوگا اور ہماری پیداوار بڑھ جائے گی۔ اس کے علاوہ کھالوں،کھیتوں کی وٹوں اور خالی کھیتوں کے علاوہ باغات میں جڑی بوٹیوں کی تلفی بہت ضروری ہے تاکہ سر دیوں کے موسم میں کیڑوں اور سنڈیوں کو پرورش کا موقع نہ ملے اور اس طرح ہماری فصلیں کافی حد تک کیڑوں کے حملے سے محفوظ رہیں گی اور فصلوں پر کیڑوں کا حملہ بہت کم ہوگا اور سپرے کی ضرورت بھی بہت کم ہوگی اس طرح ہم زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کر سکیں گے۔

***

مزید : ایڈیشن 2