فرنیچر سازی کے شعبہ میں دو طرفہ تجارت میں وسعت کا امکان ہے :چینی وفد

فرنیچر سازی کے شعبہ میں دو طرفہ تجارت میں وسعت کا امکان ہے :چینی وفد

 اسلام آباد (اے پی پی) پاکستان کے دورہ پر آئے چین کے اعلیٰ سطح کے کاروباری وفد کے سربراہ لوکیانگ نے کہاہے کہ فرنیچر سازی کے شعبہ میں پاک چین دوطرفہ تجارت میں وسعت کا امکان ہے اور دونوں ممالک کے نجی شعبے نطر انداز کئے گئے سرمایہ کاری کے مختلف مواقعے سے استفادہ کیلئے مشترکہ سرمایہ کاری کرسکتے ہیں ۔ ایکسپو سینٹر لاہور میں جاری انٹریئر پاکستان ایگزی بیشن کے دورہ کے موقع پر اتوار کو لوکیانگ نے پاکستانی فرنیچر کے ڈیزائنوں اور معیار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تیار کی جانے والی فرنیچر مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں بڑی طلب ہے ۔ انہوں نے فرنیچر کے شعبہ سے وابستہ پاکستانی کاروباری برادری کو پیشکش کی کے وہ چین کا دورہ کرے اور دونوں ممالک کی تجارت اور برآمدات کے فروغ کیلئے موجود شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دیں ۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لوکیانگ نے کہا کہ ان کے دورہ پاکستان کا مقصد یہاں کی تجارت برادری کے تجربات سے استفادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دورہ کے موقع پر پاکستان کے تجارتی اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کرنے کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے ’’ سی پیک ‘‘ کے تحت کئی چینی سرمایہ کار پاکستان میں صنعتی یونٹس کے قیام کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مقامی افراد کو روز گار کی فراہمی یقینی بنائیں گے جس سے پاکستان میں بے روز گاری اور غربت کے خاتمہ میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کی مجموعی آبادی ڈیڑھ ارب سے زائد ہے لیکن دونوں ممالک کی باہمی تجارت میں اضافہ کی ابھی بھی ضرورت ہے ۔ پاکستانی فرنیچر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے لوکیانگ نے کہا کہ پاکستان میں تیار کئے جانے والے اعلیٰ معیار کے فرنیچر کیلئے چین ایک بہتر منڈی ثابت ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کے سب سے بڑا تجارتی شراکتدار ہے اور گذشتہ سال 2015ء کے دوران دوطرفہ تجارت 16ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے ۔

انہوں نے پاکستان فرنیچر تیار کرنے والے دستکاروں اور ڈیزائنروں کی مہارتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ فرنیچر کی برآمدات بڑھانے میں ان کا کردار ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا پاکستانی ہنر مند لکڑی کے ٹکڑے کو زندگی بخش سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ذرمبادلہ کمانے کیلئے ان کو مختلف جہتوں میں کام کرنا چاہئے ۔ اس موقع پر پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ پاکستان سالانہ 12ملین ڈالرز سے زائد کی فرنیچر منصوعات برآمد کرتا ہے تاہم یہ اعدادو شمار مقامی صنعت کی حقیقی ترجمانی نہیں کرتے ۔اس حوالے سے انہوں نے مقامی برآمد کنندگان کو مشورہ دیا کہ وہ بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت کے ذریعے مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق فرنیچر تیار کریں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین میں دوطرفہ تجارت کی وسعی امکان موجود ہیں اور اس مقصد کیلئے دونوں ممالک کے نجی شعبے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مزید : کامرس