کویت انتخابات میں پولنگ مکمل، ووٹوں کی گنتی جاری، کئی پرانے چہرے غائب

کویت انتخابات میں پولنگ مکمل، ووٹوں کی گنتی جاری، کئی پرانے چہرے غائب

کویت سٹی(این این آئی)کویت میں گذشتہ روز 50 رکن مجلس امہ(پارلیمنٹ) کے انتخابات کے ہونے والی پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔کئی سابق اہم ارکان سیٹیں نہیں جیت سکے۔ ان کی جگہ نئے چہرے سامنے آئے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق اب تک 10 حلقوں کے نتائج سامنے آ چکے ہیں جن میں چار سابق ارکان کی جگہ نئی شخصیات کامیاب ہوئی ہیں۔ابتدائی نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل سنت مسلک کے ارکان کی تعداد اہل تشیع کے ارکان سے زیادہ ہے۔ اب تک کے نتائج کے مطابق اہل تشیع صرف تین نشستیں جیت سکے ہیں جب کہ پچھلے پارلیمنٹ میں اہل تشیع کے ارکان کی تعداد 8 تھی۔ابتدائی غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق کامیاب ہونے والے امیدواروں میں عدنان عبدالصمد، عیسیٰ الکندری، محمد الھدیہ، عبداللہ الرومی، عادل الدمخی، صالح عاشور، مبارک الحریص، اسامہ شاہین، خالد الشطی اور صلاح خورشید کے نام شامل ہیں۔درایں اثناء کویت کی سپریم جوڈیشل کونسل اور دستوری عدالت چیف جسٹس یوسف المطاوعٰ نے ایک بیان میں کہا کہ عدالت نے گذشتہ روز ہونے والے مجلس الامہ کے انتخابات کی مکمل نگرانی کی۔ انتخابی عمل مکمل طور پر شفاف اور غیر جانب دار ہوا ، اب تک کسی حلقے کے انتخاب کو جزوی یا کلی طور پر منسوخ نہیں کیا گیا۔ نتائج تبدیل کرنے کے لیے دھاندلی کی کوئی قابل ذکر شکایت موصول نہیں ہوئی ۔کویتی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کویت کی مرکزی اور ذیلی کمیٹیوں کے دفاتر میں ہونے والے الیکشن کے دوران شہریوں کی بڑی تعداد ووٹ ڈالنے آئی۔ اندازے کے مطابق ٹرن آؤٹ 70 فی صد رہا،پولنگ کے ابتدائی چند گھنٹوں میں ہرعمرکے شہریوں کی بڑی تعداد نے ووٹ ڈالے۔ پولنگ کے دوران 452ذیلی اور اصلی کمیٹیوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔

مبصرین کا کہنا تھا کہ کویت میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات ملک میں سیاسی استحکام کی طرف اہم پیش رفت ثابت ہوں گے۔ تاہم بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پارلیمنٹ مخصوص طبقے کے ہاتھ میں کھلونا ثابت ہوئی۔ سنہ 2006ء کے بعد کویتی مجلس امہ کے یہ ساتویں انتخابات ہیں،پانچ انتخابی حلقوں کے لیے 10 سیٹیں مختص ہیں جب کہ مجموعی طورپر 15 خواتین سمیت 293 امیدوار میدان میں تھے۔ بیشتر ارکان نے اپنی انتخابی مہمات کے دوران بے روزگاری، مہنگائی کے خاتمے اور بنیادی استعمال کی اشیاء پر سبسڈی کی فراہمی کو یقینی بنانے کا نعرہ لگایا تھا۔

مزید : عالمی منظر