بھوک ہڑتالی فلسطینی اسیر انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل،حالت بدستور تشویشناک

بھوک ہڑتالی فلسطینی اسیر انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل،حالت بدستور تشویشناک

الخلیل (اے این این)اسرائیلی جیل میں انتظامی حراست کے خلاف مسلسل دو ماہ سے زائد عرصے سے بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی اسیر انس شدید کی حالت ابترہونے کے بعد اسے اساف ہروفیہ اسپتال میں انتہائی نگہداشت وارڈ میں منتقل کیا گیا ہے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسیر انس شدید کئی روز سے بے ہوش ہے۔ اسرائیلی انتظامیہ اور انٹیلی جنس حکام نے زبردستی خوراک دینے کی تیاری شروع کی ہے جبکہ اسیر کی حالت پہلے ہی انتہائی تشویشناک ہوچکی ہے۔ فلسطینی قیدی کو جمعہ کی شام اساف ہروفیہ اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ مسلسل دو روز سے آئی سی یو وارڈ میں ہیں۔اسیر انس شدید اور احمد ابو فارہ کی وکیلہ احمد حداد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 64دن سے بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی اسیر کو جبری خوراک دینے کی کوشش کی گئی ہے مگر انہوں نے جبری خوراک لینے سے بھی انکار کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں بھوک ہڑتالی اسیران انس شدید اور ابو فارہ کی حالت کافی تشویشناک ہے مگر انس شدید مسلسل انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل ہیں۔ صہیونی حکام مجرمانہ غفلت کو اسیران کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے دباؤکے ایک حربے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ احلام نے کہا کہ دونوں اسیران کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اگران کی بھوک ہڑتال ختم نہیں کی جاتی تو وہ کسی بھی وقت جام شہادت نوش کرسکتے ہیں۔فلسطینی خاتون قانون دان اور انسانی حقوق کی مندوبہ کا کہناہے کہ اسرائیلی اسپتال انتظامیہ نے دونوں اسیران کو دوائی اور پانی دینے کی کوشش کی مگر دونوں اسیران نے پانی اور دوائی سے بھی انکار کردیا۔

دونوں کا موقف ہے کہ وہ شہادت یا رہائی تک بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے۔

مزید : عالمی منظر