برما کے روہنگیا مسلمان ایک بار پھر مظالم کا شکار۔۔۔۔مسلم ممالک کو آگے آنا ہو گا

برما کے روہنگیا مسلمان ایک بار پھر مظالم کا شکار۔۔۔۔مسلم ممالک کو آگے آنا ہو ...

جوہانسبرگ۔۔۔۔۔۔۔فہیم شبیر سے:

برما کی مسلمان اقلیت کو مظالم سے نجات دلانے کے لیے عالمی طاقتیں آگے آتی ہیں نہ مسلم ممالک آواز اٹھاتے ہیں۔ریاست اپنے تمام شہریوں کے حقوق کی ضامن اور محافظ ہوتی ہے۔اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر بسنے والے تمام افراد اور گروہوں کی یکساں طور پر نگہداشت کرے اور رنگ، نسل، جنس اور مذہب سمیت کسی بھی بنیاد پر شہریوں میں تفریق نہ کرے، لیکن انسانیت کا المیہ ہے کہ آج کے مہذب دور میں بھی ایسے ملک موجود ہیں جہاں شہریوں کا ایک بڑا طبقہ تعصب اور ظلم کا شکار ہے۔ برما، جس کا نام اب میانمار ہوچکا ہے، بھی ایک ایسا ہی ملک ہے۔ برما کے مسلمان، جن کی پہچان روہنگیا ہے، ایک مدت سے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ان کے خلاف ہونے والے مظالم اس قدر خوف ناک ہیں کہ انھیں دنیا کی مظلوم ترین اقلیت قرار دیا گیا ہے۔یوں تو برمی مسلمان طویل عرصے سے ظلم کا شکار ہیں، مگر حالیہ افسوس ناک اور دل خراش واقعات کا سلسلہ 2012 سے جاری ہے۔ اس ملک میں بدھوں کی اکثریت ہے، جب کہ مسلمان پانچ فی صد اقلیت ہیں۔ ان میں روہنگیا برادری کے مسلمانوں کی تعداد اسّی ہزار ہے۔ یہ ریاست اراکان میں آباد ہیں اور 2012میں شروع ہونے والے مسلم کش فسادات نے انہیں بے گھری کے عذاب سے دوچار کر دیا ہے۔ اب یہ سلسلہ ملک کی مختلف مسلمان آبادیوں تک پھیل چکا ہے۔ میانمار میں ہر طرف آگ اور دھوئیں کے بادل ہیں، خاموشی کا راج ہے۔ریاست میں روہنگیا مسلمانوں کے اس قتل کے بعد مختلف شہروں اور دیہات میں مسلمانوں پر حملے کیے جانے لگے۔ تشدد، قتل اور املاک کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ زور پکڑتا چلا گیا۔ برما کی حکومت اور سیکیوریٹی اداروں کی طرف سے خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا جاتا رہا، لیکن دنیا کے شور مچانے پر مختلف علاقوں میں کرفیو اور ایمرجینسی نافذ کرنے کے اقدامات کیے گئے، تاہم حکومت قیمتی انسانی جانیں بچانے میں ناکام رہی۔ ان واقعات میں 90 ہزار افراد بے گھر ہوئے۔ مسلمانوں کے 13 سو سے زیادہ گھر جلا دیے گئے۔ ان واقعات میں 31 بوھ مت کے پیروکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔ بے گھر مسلمان خاندان مختلف خیمہ بستیوں میں بدترین حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور حقوق انسانی کی تمام عالمی تنظیموں نے برمی حکومت کو اس ظلم و ستم کو روکنے اور اقلیتوں کے تحفظ میں ناکامی پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ برمی صدر تھین سین نے اس تنقید پر عجیب بات کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کو کسی دوسرے ملک میں آباد کر دیا جائے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ان برمی مسلمانوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ انہیں آج تک تارکین وطن کہا جاتا ہے۔ انہیں بنگلادیشی اور دیگر پڑوسی ملکوں کے مہاجرین میں شمار کیا جاتا ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کی بات کی جائے تو انہیں مقامی لوگ بنگلادیشی کہتے ہیں جب کہ بنگلادیش انہیں اپنا نہیں مانتا۔ جنوری 2012 میں ایک بنگلادیشی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مختلف روہنگیا عسکریت پسند گروہ بنگلادیش میں داخل ہو رہے ہیں، جن میں روہنگیا سولیڈیریٹی آرگنائزیشن، ارکان موومنٹ، ارکان پیپلز فریڈم پارٹی اور ارکان نیشنل آرگنائزیشن بڑے نام ہیں۔ ان تنظیموں نے گٹھ جوڑ کرکے برما کے صوبہ اراکان کو الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسی دوران بنگلادیش کے وزیر خارجہ دیپومونی نے بنگلادیش کی ایک مذہبی جماعت پر عسکریت پسند روہنگی مسلمانوں کی سرپرستی کا الزام عاید کر دیا۔ ستمبر میں ایک بنگلادیشی اخبار نے رپورٹ شائع کی کہ برما کے صوبے اراکان کی ایک جماعت ’’الاراکان‘‘ عسکری سرگرمیوں میں مصروف ہے اور اس کا تعلق ایک کالعدم بنگلادیشی مجاہدین کی جماعت سے ہے۔ ان حالات میں بنگلادیشی عوام برمی مسلمانوں کے لیے کیسے اپنے دل میں ہم دردی محسوس کرسکتے تھے۔ برما میں فسادات بڑھتے گئے اور جب روہنگیا مسلمانوں نے بنگلادیش کی سرحد کا رخ کیا تو انہیں مار پیٹ کر لوٹا دیا گیا۔ بنگلادیشی حکومت نے اس کی تردید کی اور کہا کہ انہوں نے ہزاروں برمی مسلمانوں کو پناہ دی ہے۔ میانمار میں مسلمانوں کو بنگلادیشی ہی نہیں بل کہ ہندوستانی ہونے کا طعنہ بھی دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 1921 میں میانمار میں مسلمانوں کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی اور اس میں سے نصف نے ہندوستان سے یہاں کا رخ کیا تھا۔ آج وہاں آٹھ لاکھ سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔برما کی موجودہ صورت حال پر عالمی میڈیا، تنظیموں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اسی سال ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ برما میں سیکوریٹی فورسز نے نہ صرف اپنے سامنے مسلمانوں کا قتلِ عام ہونے دیا بلکہ وہ خود بھی اس میں شریک ہوئے۔ رپورٹ میں برما کی حکومت کو گذشتہ برس مغربی صوبے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور وہاں رہنے والے مسلمانوں کے قتل عام کا ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے۔ان حالات میں مسلم ممالک کو آگے آنا ہو گا اور میانمار کی حکومت پر دباؤ ڈالنا ہو گا کہ وہ مسلمانوں کا تحفظ کرے اور انہیں اپنا شہری تسلیم کر کے بنیادی حقوق فراہم کرے۔روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام روکے۔

مزید : عالمی منظر