روس سے قربت کے باوجود شام کے بارے میں موقف تبدیل نہیں ہو گا: ترکی

روس سے قربت کے باوجود شام کے بارے میں موقف تبدیل نہیں ہو گا: ترکی

انقرہ(این ین آئی)ترکی نے واضح کیا ہے کہ روس کے ساتھ تعلقات کے فروغ سے انقرہ کا شام میں صدر بشارالاسد کے بارے میں موقف تبدیل نہیں ہو گا۔غیرملکی خبررساں ادارے کو دیئے گئے ایک انٹرویومیں ترکی کے نائب وزیراعظم نعمان قورتولموش نے کہا کہ ترکی اور روس کے درمیان قربت سے ترکی کا شام کے بارے میں موقف تبدیل نہیں ہوگا۔ ترکی شام کے بحران کے حل کے لیے بشارالاسد کو اقتدار سے علحدہ کرنے کے مطالبے پر قائم رہے گا۔انہوں نے کہاکہ شام کے بارے میں ہمارا موقف واضح ہے، بشارالاسد ایک جنگی مجرم ہے اور اس نے بار بار اپنی قوم کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ بشارالاسد کے بارے میں ترکی اور روس کے درمیان اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں۔ ترکی اور روس شام کے مستقبل کے حوالے سے دو الگ الگ آراء رکھتے ہیں تاہم ہم اس بات پریقین رکھتے ہیں کہ روس اسد رجیم کو تنازع کے پرامن تصفیے پر قائل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ روس شامی حکومت کی فوجی مدد کررہا ہے جب کہ ترکی شامی اپوزیشن کی نمائندہ مسلح قوتوں کا حامی ہے۔نائب وزیراعظم نے امریکا میں مقیم جلا وطن رہ نما فتح اللہ گولن کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور الزام عاید کیا کہ رواں سال جولائی میں منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش فتح اللہ گولن اور اس کے ساتھیوں نے تیار کی تھی۔ حکومت ریاست کے تمام اداروں کو گولن کے وفاداروں سے پاک کرنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس میں مزید وقت بھی لگ سکتا ہے

مزید : عالمی منظر