پیپلز پارٹی پنجاب کا قدم صوبائی دفتر سیاسی سرگرمیاں نہ ہونے سے بند ہوگیا

پیپلز پارٹی پنجاب کا قدم صوبائی دفتر سیاسی سرگرمیاں نہ ہونے سے بند ہوگیا

 لاہور(شہزا ملک تصاویر سید علی رضا)صوبائی درالحکومت کے علاقے فیصل ٹاؤن میں واقع پیپلز پارٹی پنجاب کا قدیم صوبائی آفس پچیس اے فیصل ٹاؤن سیاسی سرگرمیاں نہ ہونے کیو جہ سے مکمل طور پر بند ہو گیا ہے اور پیپلز پارٹی کے اس قدیم صوبائی آفس کو اب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے کیمپ آفس میں تبدیل کردیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود یہ آفس ہر وقت بند ہی ملتا ہے پیپلز پارٹی کے پرانے جیالے جن کو ماڈل ٹاؤن میں واقع پیپلز پارٹی کے نئے صوبائی آفس کا علم نہیں ہے ان میں سے کچھ جیالے اس آفس کاوزٹ کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن آفس کو بند دیکھ کر واپس لوٹ جاتے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کا قدیمی صوبائی آفس واقع پچیس اے فیصل ٹاؤن جس میں بے نظیر بھٹو شہید نے بھی دورے کئے تھے اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری بھی جب جیل سے رہا ہوئے تھے تو انہوں نے بھی اس وقت کی پیپلز پارٹی پنجاب ایگزیکٹو کونسل کے ارکان کے ساتھ اسی آفس میں خصوصی طور پر ملاقات کی تھی اور اسی آفس میں پیپلز پارٹی نے تیس سال سے بھی زائد عرصہ پر مشتمل اپنی پارٹی سرگرمیوں کو مرکز بنائے رکھا تھا لیکن جب میاں منظور احمد وٹو کو پیپلز پارٹی پنجاب کا صدر بنایا گیا تو انہوں نے ماڈل ٹاؤن میں ایک الگ صوبائی آفس حاصل کر لیا جس کی ملکیت چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے نام بتائی جاتی ہے جبکہ فیصل ٹاؤن والے صوبائی آفس کی ملکیت بھی بلاول کے نام بتائی جاتی ہے اب پیپلز پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز ماڈل ٹاؤن آفس ہی ہے اور پیپلز پارٹی پنجاب کی نئی قیادت قمر زمان کائرہ نے بھی ماڈل ٹاؤن والے آفس کو ہی اپنی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا ہے یوں پنجاب میں نئی قیادت آنے کے باوجود بھی پرانے صوبائی آفس کی سیاسی سرگرمیاں ماند ہیں ۔اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ چونکہ پرانے صوبائی آفس کو چئیرمین کے کیمپ آفس کا درجہ دیدیا گیا ہے اس لئے یہاں پر چئیرمین کے مشیر ہی بیٹھیں گے یا پھر چئیرمین کی طرف سے نامزد کردہ کوئی بھی پاٹی رہنما یہاں بیٹھا کرے گا اور اس آفس کو بھی دوبارہ آباد کرنے کی کوشش کرے گا ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1