نیب کیلئے تیارکردہ، ایم ڈی اے کی میٹروپولیٹن زون کے حوالے سے رپورٹ تضادات کا مجموعہ

نیب کیلئے تیارکردہ، ایم ڈی اے کی میٹروپولیٹن زون کے حوالے سے رپورٹ تضادات کا ...

ملتان(نمائندہ خصوصی) ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے قومی احتساب بیورو ملتان کے لےئے میٹرپولیٹن زون کے حوالے سے تیار کردہ رپورٹ تضادات سے بھری ہوئی (بقیہ نمبر29صفحہ12پر )

ہے ایم ڈی اے نے یہ رپورٹ جس ماسٹر پلان کی روشنی میں تیار کی ہے اس کا ایم ڈی اے کی ویب سائٹ پر سرے سے وجود ہی نہیں ہے۔ ایم ڈی اے کی ویب سائٹ پر موجود ماسٹر پلان میں میٹروپولیٹن زون کی نشاہدہی توکی گئی ہے لیکن اراضی کی تفصیلات میسر نہیں ہیں نیب حکام نے ایم ڈی اے کی اس رپورٹ کو یکسر نظرانداز کرکے ازخود سائٹ انسپکشن کافیصلہ کیا ہے معلوم ہوا ہے قومی احتساب بیورو ملتان کو مختلف زرائع سے اطلاعات موصول ہوئیں کہ ایم ڈی اے اپنے ہی ماسٹر پلان کے خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے ماسٹر پلان کی مطابق میٹرو پولیٹن زون میں ھاوسنگ سکیموں کے قیام کی منظوری دے رہا ہے جس پر ڈی جی نیب ملتان نے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے الطاف حسین ساریو کوبریفینگ کے لےئے طلب کیا۔ایم ڈی اے حکام کی جانب سے نیب حکام کو ماسٹر پلان پر ایک تفصیلی بریفینگ دی گئی اس کے مطابق ماسٹر پلان میں 4 میٹروپولیٹن زونز ڈکلئیر کئے گئے ہیں ان زونزمیں صرف اور صرف سپورٹس،ہسپتال، کالجز، سرکاری دفاتر، پارکنگ، قبرستان اور چھوٹی صنعتوں کی عمارات بنائی جاسکتیں ہیں۔ ماسٹر پلان کے مطابق زوننمبروں میں 500 ایکڑ، زون نمبر ٹو میں 295 ایکڑ زون نمبر تھری میں 400 ایکڑ اور زون نمبر 4 فورمیں 550 ایکڑ مذکورہ سہولیات کی فراہمی کے لےئے مختص کئے گئے۔ اس رپورٹ کے مطابق آبادی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے میٹروپولیٹن زونز میں بالترتیب 1215 ایکڑ، 480 ایکڑ،950 ایکڑ میٹروپولیٹن اور 1125 ایکڑ اراضی مختص کی گئی۔ ایم ڈی اے کی رپورٹ کے مطابق زون نمبر 1 میں ایک بھی ھاوسنگ سکیم منظور نہیں کی گئی ہے زون نمبر2میں الفلاح ماڈل سٹی کی درخواست8 جنوری 2013ء کو موصول ہوئی جس کی ابتدائی منصوبہ بندی کی اجازت 3 جون 2015ء دی گئی۔اسی طرح 29 اپریل 2013ء کو بلیسنگ سٹی کے نام سے ایک درخواست موصول ہوئی۔ جس کی ابتدائی منصوبہ بندی 19 اکتوبر2016 ء کو دی گئی۔ دونوں ھاوسنگ سکیموں کی مجموعی اراضی کو نکال کر زون ٹو میں ایم ڈی اے کے پاس 295 ایکڑسے زائد اراضی باقی ہے ۔رپورٹ کے مطابق زون تھری میں کھیڑاچوک سدرن پائی پاس ایک ھاوسنگ سکیم کی درخواست5 اپریل 2013 کو موصول ہوئی جس کی منظوری 25 مئی 2015 ء کو دی گئی اس طرح اس زون میں بھی ایم ڈی اے کے پاس 400 ایکڑ سے زائد اراضی ہے۔ ایم ڈی اے کی جانب سے اس رپورٹ میں بعض حقائق چھپانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ ملتان ترقیاتی ادارے کی جانب سے اس امر کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ میٹروپولیٹن زونمبر 2 اور زون نمبر 3 میں بننے والی ھاوسنگ سکیموں کی درخواستیں طویل عرصہ تک التواء کا شکار کیوں رہیں۔ اس دوران دونوں فریقین ایک دوسرے کو عدالت عالیہ میں کیوں گھسیٹتے رہے معلوم ہوا ہے دونوں میٹرپولیٹن زونز میں سامنے آنے والی درخواستوں کو سابقہ انتظامیہ نے رد کردیا تھا اور مؤقف اپنایا کہ میٹروپولیٹن زون میں کسی صورت ھاؤسنگ سکیم نہیں بن سکتی۔ اس دوران پراپرٹی ڈویلپرز نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ لیکن ایم ڈی اے حکام ٹس سے مس نہ ہوئے وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ جب ایم ڈی اے میں بیورو کریسی نے اپنے قدم جمائے تو پھر میٹروپولیٹن زون صرف ایک ردی کا کاغذ ثابت ہوا۔ آنِ واحد زون نمبر2 اور زون نمبر3 میں بننے والے ھاؤسنگ سیکیموں کو ابتدائی منصوبہ بندی کی اجازت عطاء کردی گئی معلوم ہوا ہے ایم ڈی اے حکام کی جانب سے قومی احتساب بیورو کو میٹروپولیٹن زونز کے حوالے سے جو رپورٹ جمع کرائی گئی ہے اس رپورٹ مندرجات ایم ڈی اے کی ویب سائٹ پر موجود ماسٹر پلان کی تفصیلات سے یکسر مختلف ہیں ماسٹر پلان میں میٹروپولیٹن زون کے لےئے اراضی کی تخصیص نہیں کی گئی اور نہ ہی اس پلان میں کسی قسم کی شرائط کا ذکر ہے جس سے ایم ڈی اے کی مرتب کردہ رپورٹ کی قلعی کھل گئی ہے بتایا گیا ہے نیب حکام نے ایم دی اے کی اس رپورٹ سے یکسر اختلاف کا اظہار کررہے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اس گول مول رپورٹ میں حقائق کو چھپانے اور نیب ملتان بیورو کو جان بوجھ کر اندھیرے میں رکھنے کی کوشش کی گئی ہے جس پر نیب حکام نے اب ازخود میٹروپولیٹن زون کی چھان بین کا فیصلہ کیا ہے ۔

رپورٹ

مزید : ملتان صفحہ آخر