سندھ اسمبلی کا اقلیتی بل انتہاپسندی کو ہوا دے گا، شاہ اویس نورانی

سندھ اسمبلی کا اقلیتی بل انتہاپسندی کو ہوا دے گا، شاہ اویس نورانی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور مرکزی جماعت اہل سنت کے نگران اعلیٰ شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود سیکولر اور لبرل عناصر نے مغربی سامراج کے پیسے کی ریل پیل کے آگے اپنے ضمیر کی سوچ کے دروازے بند کردیئے ہیں اور ایسے اقدامات کررہے ہیں جو پاکستان کی بنیاد کے خلاف ہیں،پاکستان کے اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا، بقول محمد علی جناح پاکستان اس لئے قیام عمل میں لایا گیا تاکہ یہاں پر اسلام کی تجربہ گاہ بنائی جائے اور قران وسنت کے عین مطابق قوانین بنائے جائیں اور شریعت محمدی ﷺ کا نفاذ کیاجائے، اسلام اقلیتوں کا محافظ ہے، کسی انسان سے یہ حق نہیں چھینا جا سکتا ہے کہ وہ راہ حق کی طرف آئے اور ایک اللہ کی عبادت کرے اور محمد رسول ﷺ کو اللہ کا آخری نبی اور رسول مانے اور ان کی شریعت کو رہتی دنیا تک حتمی مذہب مان کر اختیار کرے،قرآن پاک میں واضح حکم دیا گیا کہ اللہ عزوجل نے اسلام کو بطور دین چن لیا ہے اور تمام عالمین کے لئے یہی مذہب راہ نجات ہے، جمعیت علماء پاکستان صوبہ سندھ کے صدر مفتی محمد ابراہیم قادری اور صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا شفیق قادری سے گفتگو کرتے ہوئے انتہائی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور مرکزی جماعت اہل سنت کے نگران اعلیٰ شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا ہے کہ اقلیتی بل مذہبی انتہاپسندی کو ہوا دے گا، ایسے قانون سے سندھ حکومت کیا ثابت کرنا چاہ رہی ہے؟اقلیتوں اور پاکستان کی مسلم اکثریت میں توازن بگڑ جائے گا، ہم نے ہمیشہ اقلیتوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کی بات کی ہے، مگر یہ قانون سراسر اسلام دشمنی ہے ،سندھ اسمبلی نے اسلام کو دیگر مذاہب کے برابر یا اس سے بھی نیچے کردیا ہے، قرارداد مقاصد میں یہ بات واضح طور پر لکھی گئی تھی کہ اس ملک میں کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنے گا، اسی طرح 1973کے آئین کی بنیادبھی قرآ ن و سنت ہی رکھی گئی ہے، پیپلز پارٹی نے اسلام مخالف ایجنڈے پر عمل درآمد کے لئے اپنے جد امجدمرحوم بھٹو کی قبر پر لات ماردی ہے، جمعیت علماء پاکستان سندھ اسمبلی کے اس بل کے خلاف تحریک چلانے کے لئے سندھ کی تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں سے مشاورت کر رہی ہے، اس ہفتے میں لائحہ عمل کا اعلان کرینگے ، نئے وزیر اعلی سندھ نے آتے ہی اسلام دشمنی کی روایت قائم کردی ہے، عوام کے لئے ان احترام ختم ہوچکا ہے، شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا ہے کہ پیرسید عرفان شاہ مشہدی جے یو پی کا اثاثہ ہیں ، انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے ہزار بار سوچا جائے،اقلیتی بل کے حوالے سے قانونی چارہ جوئی کے فیصلے کی بھرپور حمایت کرینگے، ہمارے مشائخ نے پاکستان بنایا ہے، کسی کو اپنی پسند کا قانون نافذ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جمعیت علماء پاکستان کی صوبائی مجلس شوریٰ بھی سندھ اسمبلی کے فیصلے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لئے مشاورت کررہی ہے، پاکستان میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے حق میں اور اسلام دشمن قوانین کے خلاف ہر پلیٹ پر سیاسی و قانونی جنگ لڑیں گے، نظام مصطفیﷺ کے سپاہی تیاررہیں، سیکولر اور لبرل عناصر کے تابوت بند کرنے کا وقت آگیا ہے۔

مزید : علاقائی