سرکاری اور سیاسی سر پرستی کے بغیر ڈکیتی جیسا سنگین جرم نہیں ہوسکتا :طاہر القادری

سرکاری اور سیاسی سر پرستی کے بغیر ڈکیتی جیسا سنگین جرم نہیں ہوسکتا :طاہر ...

لاہور(این این آئی )پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ جس صوبے کا وزیر اعلیٰ اور وزیر قانون درجنوں شہریوں کے قتل جیسے سنگین جرم کے نامزد ملزم ہوں،وہاں امن کہاں سے آئے گا،میڈیا نے پنجاب کے حکمرانوں کو ایکسپوز کر دیا اب غریب گھروں کے بچے جعلی پولیس مقابلوں میں مریں گے، وزیر اعلیٰ کے اجلاس روایتی شو بازی ہے انکی توجہ عوام کے جان و مال کو محفوظ بنانے پر ہوتی تو76 فی صد تک جرائم میں اضافہ نہ ہوتا ۔وہ گزشتہ روز سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کے حوالے سے عوامی تحریک کے وکلاء سے بریفننگ لے رہے تھے ۔اس موقع پر انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جو آئی جی پنجاب ماڈل ٹاؤن جیسے سانحہ میں ملوث ہو اسکا عہدے پر برقرارر ہنا ہی قانون اور عوام سے مذاق ہے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر قانون پنجاب بے گناہ شہریوں کے قاتل ہیں جب تک قاتلوں کا یہ ٹولہ اقتدار میں رہے گا بے گناہ قتل ہوتے رہیں گے اور عزت دار خاندان ناکوں اور ٹریفک اشاروں پر حکومتی سرپرستی میں کام کرنیوالے ڈاکوؤں کے گروہوں کے ہاتھوں لٹتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اور سیاسی سرپرستی کے بغیر ڈکیتی جیسا سنگین جرم نہیں ہو سکتا ۔انہوں نے کہاکہ ایف آئی آر کے اندراج،تفتیش سے لے کر پراسیکیوشن تک حکومت مجرموں اور انکے سرپرستوں کو تحفظ دیتی ہے اور پھر رہی سہی کسر جسٹس سسٹم نکال دیتا ہے اور مجرم چند دنوں یا چند ہفتوں کے بعد رہا ہو کر دوبارہ لوٹ مار شروع کر دیتے ہیں۔

طاہر القادری

مزید : علاقائی