کے پی کے میں خوربرد، کرپشن اور بد عنوانی کی برائے نام شکایات ہیں: عنایت اللہ خان

کے پی کے میں خوربرد، کرپشن اور بد عنوانی کی برائے نام شکایات ہیں: عنایت اللہ ...
کے پی کے میں خوربرد، کرپشن اور بد عنوانی کی برائے نام شکایات ہیں: عنایت اللہ خان

  

کراچی(نصیر احمد سلیمی)

آج کل کراچی میں جماعت اسلامی سندھ کا ورکرز کنونشن ہو رہا ہے۔ جس میں شرکت کے لئے دوسرے صوبوں سے جماعت اسلامی کے رہنما بھی آئے ہیں۔ ان میں ایک عنایت اللہ خان بھی ہیں۔ جو صوبہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی مخلوط حکومت میں سینئر وزیر ہیں۔ فاران کلب کے سیکرٹری جنرل ندیم اقبال ایڈووکیٹ کے گھر پر انہوں نے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں مالی سال 2016-2017ء میں صوبہ کے ترقیاتی فنڈز سے 30%ترقیاتی فنڈ بلدیاتی اداروں کو منتقل کیا گیا ہے جو سارے کا سارا بلدیاتی ادارے خرچ کرینگے۔

جناب عنایت اللہ خان نے ایک سوال کے جواب میں مزید کہا کہ اس سال مجموعی طور پر بلدیاتی ادارے اپنے ترقیاتی منصوبوں پر ایک سو تیس (130) ارب روپے سے زیادہ رقم استعمال کرینگے۔ جس میں 30ارب روپے صوبہ نے اپنے ترقیاتی فنڈ سے دیا ہے اور 100ارب سے زیادہ بیرونی امداد سے ان کو ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے صوبے کے بلدیاتی نظام میں 2001ء کے بلدیاتی نظام کی روح اور اسپرٹ موجود ہے اور عملی اعتبار سے زیادہ فنکشنل ہے ہم نے کرپشن اور بدعنوانی کو کنٹرول کرنے کے لئے چیک اینڈ بیلنس کا قابل عمل خود کار نظام احتساب بھی متعارف کرایا ہے جس کی وجہ سے بلدیاتی اداروں کے ذریعہ خرچ ہونے والی رقوم میں خورد برد اور کرپشن اور پھر بد عنوانی کی شکایات نہ ہونے کے لئے برابر ہیں۔

صوبہ بھر میں اب تک بلدیاتی اداروں کے تحت خرچ ہونے والی رقوم میں خورد برد کی تین شکایات سامنے آئی ہیں۔ وہ بھی ویلج سسٹم کے تحت قائم گاؤں کی سطح کے بلدیاتی اداروں میں۔ شکایات کی صاف شفاف تحقیقات کے بعد خورد برد کی جانے والی رقوم واپس سرکاری خزانہ میں جمع کرائی گئی ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری مخلوط حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ کرپشن اور بدعنوانی کو کسی بھی سطح پر برداشت نہ کیا جائے ایک اور سوال کے جواب میں جناب عنایت اللہ خان نے کہا کہ ہمارے صوبہ کا بلدیاتی نظام دوسرے صوبوں کے بلدیاتی نظام کے مقابلے میں تقسیم اختیارات کے اعتبار سے سب سے بہتر ہے اور قابل عمل بھی، ہم نے نچلی سطح تک صوبہ کے ترقیاتی فنڈ کا 30%بلدیاتی اداروں کو منتقل کیا ہے۔ جو تیس ارب روپے سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ ایک سو چار ارب روپے کی خطیر رقم جو بیرونی امداد کی شکل میں ہے۔ وہ بھی بلدیاتی اداروں کے ذریعہ ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہو گی جبکہ گزشتہ 14سال میں جنرل(ر) پرویز مشرف کے بلدیاتی نظام کے تحت 2014ء تک ہمارے صوبہ میں بلدیاتی اداروں کے ذریعہ صرف 10ارب روپے ترقیاتی فنڈ خرچ ہوا تھا۔ ایک اور سوال کے جواب میں ان کاکہنا تھا خیبرپختوانخوا کی مخلوط حکومت میں شامل وزیروں پر خواہ ان کا تعلق حکمران جماعت تحریک انصاف سے ہو یا ان کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل دوسری پارٹیوں کے وزیروں پر کرپشن میں ملوث ہونے کے الزام نہیں ہیں۔ جن کے بارے میں کبھی شکایات سامنے آتی ہیں ان کے خلاف تحقیقات کا خود کار نظام احتساب حرکت میں آ جاتا ہے۔ جب ان سے ایک سابق ’’محتسب‘‘ کو برطرف کرنے کی وضاحت چاہی تو ان کا مختصر جواب یہ تھا کہ ان کا زمینی حقیقت سے زیادہ اس ’’مائنڈ سیٹ ‘‘ سے تعلق ہے جو بدقسمتی سے ہمارے ہاں غیر جمہوری رویوں اور غیر سیاسی کلچر کے باعث گہری جڑیں پکڑ چکا ہے کہ ہم میں سے ہر شخص خود کو پاک صاف اور دوسرے کو مجرم باور کرانے کے خبط میں مبتلا رہتا ہے صوبہ خیبرپختونخوا کے نظام احتساب میں بھی دنیا بھر کے نظام احتساب کی طرح ہر وقت بہتری کی گنجائش ہے۔ تاہم یہ نظام احتساب اس وقت ملک کے دوسرے صوبوں کے مقابلے میں زیادہ شفاف بھی ہے اور فعال بھی ہے۔ جو کسی رو رعایت کے بغیر یہ دیکھے بغیر کام کررہا ہے کہ اس کی زد میں کون آ رہا ہے۔ اگر تحقیقات کے بعد الزام کسی پر ثابت ہو گا تو وہ قانون کے شکنجے میں کسے جانے سے محفوظ نہیں رہ پائے گا۔ ہم اس کا دعویٰ نہیں کرتے کہ ہماری مخلوط حکومت ’’اچھی حکمرانی‘‘ کے اعلیٰ معیار کو چھو چکی ہے تاہم ہم یہ کہنے میں حق بہ جانب ہیں کہ ہماری مخلوط حکومت خراب حکمرانی کے آگے بندھ باندھنے میں بڑی حد تک کامیاب ہے۔ سرکاری بھرتیوں کا نظام بھی وزیر اعلیٰ اور وزیروں کی مداخلت سے پاک کیا ہے۔ سرکاری ٹھیکوں کے دینے یا نہ دینے میں وزیر اعلیٰ کا کردار ہی سرے سے ختم کر دیا گیا ہے، وزیر اعلیٰ کا اپنا خاندان جو کئی پشتوں سے سرکاری ٹھیکیداری سے وابستہ ہے۔ اب وہ یا ان کے بیٹے اور بھائی صوبہ خیبرپختون خوا میں کام نہیں کر سکتے ان کے بیٹے اب دوسرے صوبوں میں اور آزاد کشمیر میں سرکاری ٹھیکیداری کر رہے ہیں۔ عنایت اللہ نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے صوبہ کی مخلوط حکومت میں شامل ہونے تک اتحاد ہے۔ ان کی جماعت کی سیاست اپنی اور جماعت اسلامی کی سیاست اپنی ہے کرپشن کے خلاف ان کی حکمت عملی الگ ہے اور جماعت اسلامی کی حکمت عملی الگ ہے۔ جماعت اسلامی کرپشن کے خلاف ملک گیر مہم چلا رہی ہے۔ وہ کسی ایک فرد یا کسی ایک جماعت کے خلاف نہیں بلکہ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ آئین کے تحت قائم احتساب کرنے والے ادارے کی سیاسی مداخلت کے بغیر صاف شفاف طریقہ سے احتساب کا وہ خود کار نظام فعال کریں۔ جس کا تقاضا آئین پاکستان ان سے کرتا ہے۔

جناب عنایت اللہ خان نے نئے آرمی چیف کی تقرری اور سبکدوش ہونے والے آرمی چیف کی رخصتی کے حوالہ سے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ امر نہایت خوش آئند ہے۔ جناب جنرل راحیل شریف نے اپنے اس عمل سے اپنے قد کو باوقار انداز میں بلند کیا ہے۔ خدا کرے وطن عزیز میں آئین کی پاسداری کی روایت ایسی مستحکم ہو جائے کہ خواہشات کے اسیر ماورائے آئین کی بات کرنے کی پوزیشن میں بھی نہ رہے۔ جماعت اسلامی کی موجودہ پالیسی کے حوالہ سے سوال کے جواب میں جناب عنایت اللہ خان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی بنیادی طور پر خیر کی داعی ہے۔ جو ہر مسلمان پر اللہ نے اور اس کے رسول مقبول ﷺ نے فرض قرار دیا ہے۔ بانی جماعت سید مودودیؒ کی فکر کا محور لوگوں کو قرآن و سنت سے جوڑ کر ایسے معاشرے کی تشکیل ہے۔ جہاں ہر قسم کی انتہا پسندی کی کوئی گنجائش نہ رہے۔ ہمارا دین واحد دین ہے جس میں کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی طرح کے جبر کے ذریعہ خوف یا ہراس کر کے مسلمان ہونے پر مجبور کرے سندھ اسمبلی کو اپنے تازہ قانون کو قرآن و سنت کی حقیقی تعلیمات کی روشنی میں ترمیم کر کے دستور پاکستان کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے اور ہمارے جید علماء کرام کو اس قانون کی خرابیوں کو موثر انداز میں عوام کے سامنے لانا چاہئے مفتی محمد تقی عثمانی نے جو بیان جاری کیا ہے۔ وہ بہت ہی اعلیٰ ہے ضرورت اس امر کی ہے۔ اس مسئلے پر مسلمانوں کے کسی فقہی مسلک کے ماننے والوں کے درمیان اختلاف نہیں کسی کو جبر کے ذریعہ مسلمان نہیں کیا جا سکتا اور آئین پاکستان بھی اس کی ضمانت فراہم کرتا ہے تو پھر سندھ اسمبلی کو آئین سے متصادم اور قرآن و سنت کی تعلیمات سے انحراف کرنے والے مسودہ قانون کو پاس کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ اب ترمیم کے ذریعے اس کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ ورنہ سندھ اسمبلی کا پاس کردہ قانون ملک میں ایک نئے تنازعہ کو جنم دے گا۔ جہاں تک غیر مسلم شہریوں کے حقوق کا تعلق ہے اس کا آئین پاکستان نے طے کر دیا ہے وہ برابر کے شہری ہیں معاملہ قانون سازی نہیں، اس کے عملی نفاذ کا ہے۔

مزید : صفحہ آخر