کیا مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ’’کاروبار لات و منات ‘‘ پھر زندہ کرنے والے ہیں ؟

کیا مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ’’کاروبار لات و منات ‘‘ پھر زندہ کرنے والے ...

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

 سیاست میں نہ کوئی بات حرف آخر ہوتی ہے اور نہ سیاسی دوستیاں اور دشمنیاں مستقل اور ہمیشہ رہنے والی ہوتی ہیں اگر ایسا ہوتا توکل تک عمران خان سے ’’سرے محل کے ثبوت‘‘ مانگنے والے ڈاکٹر بابر اعوان آج ان کی شدومد سے وکالت نہ کر رہے ہوتے اور جنرل (ر) پرویز مشرف کے پورے عہد اقتدار میں ان کے ساتھ کھڑے رہنے والے آج وزیراعظم نواز شریف کی سیاست کا دم نہ بھر رہے ہوتے، سیاسی جماعتوں میں توڑ پھوڑ کا عمل بھی جاری رہتا ہے اور نئی سیاسی جماعتیں بھی بنتی ٹوٹتی رہتی ہیں۔ ممتاز سیاستدان ریاض فتیانہ نے بھی اپنی نئی جماعت بنالی ہے اور نام اس کا ’’عوام لیگ‘‘ رکھا ہے۔ عوامی مسلم لیگ پہلے سے موجود ہے، یادش بخیر شیخ مجیب الرحمان کی صدارت میں بام عروج پر پہنچنے والی عوامی لیگ جب حسین شہید سہروردی نے قائم کی تھی تو اس کا نام بھی عوامی مسلم لیگ تھا۔ یہ پاکستان میں حزب اختلاف کی پہلی جماعت تھی جو مسلم لیگی حکومت کے بالمقابل قائم ہوئی، اس لحاظ سے حسین شہید سہروردی کو پاکستان میں حزب اختلاف کا معمار اول بھی کہا جاتا ہے۔ شروع شروع میں عوامی لیگ کا پورا نام ’’عوامی مسلم لیگ‘‘ تھا، پھر عوامی اور لیگ کے درمیان میں سے مسلم نکال دیا گیا اور یہ صرف عوامی لیگ رہ گئی اور یہ ان دنوں کی بات ہے جب شیخ مجیب الرحمان، حسین شہید سہروردی کے پاؤں دبایا کرتے تھے۔

مفاہمت اور مخاصمت کی سیاست بھی ہمارے ہاں سکہ رائج الوقت ہے، کبھی مفاہمت کی سیاست وقت کا تقاضا ہوتی ہے تو کبھی مخاصمت کی، جب سیاستدانوں پر مشکل وقت ہوتا ہے تو وہ اکٹھے بیٹھ کر لندن میں چارٹر آف ڈیمو کریسی بھی طے کرلیتے ہیں اور جب مشکل ٹل جاتی ہے یا ٹلنے کی امید پیدا ہوتی ہے تو چارٹر آف ڈیمو کریسی کو نظرانداز کرکے این آر او بھی کرلیا جاتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے جب سے سیاسی افق پر روشنی پھلانا شروع کی ہے، وہ جذباتی اور جوشیلی تقریریں کر رہے ہیں۔ زیادہ تر تقریریں ان کی لکھی ہوئی ہوتی ہیں اور ظاہر ہے ان کے لکھنے والے مشاق لکھاری ہی ہوں گے چنانچہ ان کی تقریروں میں ایسے الفاظ کا تڑکا ضرور لگا دیا جاتا ہے جو تقریروں کا مزہ دوبالا کردیں اور سننے والوں کو جوشیلے نعرے لگانے پر مجبور کردیں۔ تاہم جب ان کے تقریر نویس ان کی تقریر میں پنجابی کے مشکل الفاظ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں تو بلاول کیلئے ادائیگی میں مشکل پیدا ہوتی ہے اور انہیں ’’سوری‘‘ کرنا پڑتا ہے جیسا کہ گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے معروف نعرے ’’بھٹو دے نعرے وجن گے‘‘ کی ادائیگی کے وقت ہوا، لگتا ہے رومن میں ’’وجّن‘‘ جیسا مشکل لفظ یا تو درست ہجوں اور تلفظ کے ساتھ نہیں لکھا گیا تھا یا پھر تقریر کے جوش میں صحیح ادائیگی نہ ہوسکی؟ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ ان کے تقریر نویس تقریر سے پہلے انہیں تقریر کی اچھی طرح سے مشق کرالیا کریں۔ دنیا کے بڑے بڑے سیاستدان جب تک تقریر کے فن میں پوری طرح اتارو نہیں ہوگئے تھے، ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ بلاول بھٹو کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی عمر (اور سیاسی عمر) مخالف سیاستدانوں کے مقابلے میں کم ہے اس لئے وہ انہیں احتراماً انکل (یا چچا یا چاچا) کہہ کر پکارتے ہیں مثلاً عمران خان کے متعلق انہوں نے اپنی تقریروں میں ایک سے زیادہ بار ’’چاچا‘‘ کا لفظ استعمال کیا، مولانا فضل الرحمان کو وہ ہمیشہ ’’انکل‘‘ کہتے ہیں اسی طرح دوسرے سیاستدانوں کے بارے میں بھی ان کا ایک طرز تکلم ہے لیکن اگر 90ء کی دہائی کی سیاست واقعی واپس آ رہی ہے تو پھر اس کے جلو میں سیاسی الزام تراشی بھی آئے گی اور اس کی لفظیات بھی ساتھ ساتھ چلی آئیں گی۔ ہر دور کی سیاست کی اپنی مخصوص لغت بھی ہوتی ہے۔ جو سیاسی بازار کا روزمرہ ہوتی ہے یہ ایک دوسرے کے ساتھ باہم پیوست ہوتی ہیں، سیاست میں اگر الزام تراشی ہوتی ہے تو ہمیشہ دوطرفہ ہوتی ہے۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ کوئی ایک سیاستدان کسی دوسرے کے خلاف الزام تراشی یا دشنام طرازی کرتا رہے اور اسے اس کا جواب نہ ملے، اگر بلاول بھٹو زرداری کا خیال ہے کہ وہ یکا و تنہا جوشیلی تقریریں کرتے رہیں گے اور انہیں (جلد یا بدیر) جواب نہیں ملے گا تو ان کا یہ خیال درست نہیں کیونکہ سیاست میں اگر آپ اپنی طرز فغاں ایجاد کرتے ہیں تو دوسرے بھی اسی زبان میں بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں ’’انکل‘‘ اور ’’چاچا‘‘ کے بعد اب ’’آنٹی‘‘ کا لفظ بھی متعارف ہوا ہے عین ممکن ہے کل کلاں ’’پھوپھیوں‘‘ کا لفظ بھی در آئے، اس لئے بہتر تو یہی ہے کہ انکل اور چاچا جیسی لفظیات کا استعمال متروک کردیا جائے تاکہ جواب میں آنٹیوں اور پھوپھیوں کا تذکرہ نہ ہو، سیاست کو سیاسی انداز میں برتا جانا چاہئے اور زبان و بیان کا استعمال بھی پارلیمانی ہونا چاہئے، لیکن اب تو پارلیمنٹ میں بھی غیر پارلیمانی الفاظ کبھی نہ کبھی در آتے ہیں اور سپیکر کے حذف کرانے کے باوجود عدالت تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان 90ء کی سیاست واپس آئے گی تو پھر اس دور کی ٹرمینالوجی بھی آئے گی جو بہت زیادہ خوش رنگ اور خوش آواز نہ تھی۔ ہم کسی وقت اس دور کی الزام تراشیوں کا تذکرہ الگ سے کریں گے۔ ہماری خواہش تو یہ ہے کہ پرانی سیاست گری واپس نہ آئے لیکن اگر سیاستدانوں نے طے ہی کرلیا ہے کہ اس دور کو واپس لانا ہے تو پھر یاد رکھا جائے یہ معاملہ یکطرفہ نہیں رہ پائے گا دوطرفہ ہی ہوگا اور ہر فریق اس میں اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈالے گا۔

مزید : تجزیہ