شہر قائد کے مسائل کے حل کی چابی عوامکے پاس ہے :سراج الحق

شہر قائد کے مسائل کے حل کی چابی عوامکے پاس ہے :سراج الحق

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیڑسراج الحق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی سندھ اور کراچی کا کیس سینیٹ سمیت ہر جگہ لڑے گی ،کراچی کے مسائل کے حل کی چابی کراچی کے عوام کے پاس ہے، جماعت اسلامی تبدیلی اور انقلاب کی جماعت ہے اور ہم آئینی اور جمہوری طریقوں کے مطابق ملک کے ہر شعبے میں تبدیلی اور انقلاب کی جدوجہد کررہے ہیں ،ہماری جنگ قاتلوں ، لٹیروں وڈیروں ، جاگیرداروں اور شوگر مافیا کے خلاف ہے ہم کسی سے نفرت نہیں کرتے ہمارا پیغام محبت اور امن کا پیغام ہے پانامہ لیکس اور دبئی پراپرٹی لیکس کی صورت میں حکمرانوں کی کرپشن کے انبار کھلی آنکھ سے نظر آرہے ہیں ، قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہے ۔سندھ اسمبلی میں مذہب تبدیل کرنے کے حوالے سے جو قانون بنایا ہے وہ شریعت کے خلاف ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے باغ جناح میں ورکرز کنونشن کے اختتام پر ایک بڑے اور عظیم الشان جلسہ عزم اسلامی انقلاب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جلسہ سے امیر جماعت اسلامی سندھ ڈاکٹر معراج الہدی ٰ صدیقی ، امیر کراچی حافظ ن نعیم الرحمن اور نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی نے بھی خطاب کیا ۔جلسے میں کراچی اور اندرون سندھ سے آئے ہوئے ہزاروں مرد وخواتین نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں ہندو ، عیسائی اور دیگر اقلیتی نمائندوں نے بھی شرکت کی ۔سراج الحق نے مزید کہا کہ میں نا مساعد حالات میں اتنا بڑا کنونشن منعقد کرنے اور اس کے انتظامات اور میزبانی کرنے پر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی اور حافظ نعیم الرحمن کو اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔باب الاسلام کا یہ کنونشن روشنی ، خوشحالی ، اسلامی اور تعلیم یافتہ پاکستان کی نوید ثابت ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے ہمارے 70سال ضائعہ کردیے ، حکمرانوں کے حالات تو بدلے لیکن غریب عوام کی حالت نہ بدل سکی ،ہم پاکستان میں کسی خاندان کی بادشاہت کے بجائے اسلامی شریعت کی حکمرانی چاہتے ہیں اسی طریقے سے دنیا میں عزت اور آخرت میں نجات مل سکتی ہے ۔ہم عدالتوں ، ایوانوں ، تعلیمی اداروں اور زندگی کے ہر شعبے میں قرآن کی روشنی اور نور پھیلانا چاہتے ہیں ۔ جماعت اسلامی تبدیلی اور انقلاب کی جماعت ہے اور ہم آئینی اور جمہوری طریقوں کے مطابق ملک کے ہر شعبے میں تبدیلی اور انقلاب کی جدوجہد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک اسلام کے لیے بنا تھا جو لوگ لبرل اور سیکولر یا اس ملک کو کچھ اور بنانا چاہتے ہیں وہ شہداء پاکستان اور آئین سے غداری کررہے ہیں ۔جو حکمران ملک کے نظریے اور جغرافیہ کا تحفظ نہ کرسکے اسے حکمرانی کا حق نہیں ہے ۔انہو ں نے کہا کہ مطیع الرحمن نظامی بنگلہ دیش پر پھانسی پر چڑھ رہے تھے ہمارے حکمران حسینہ واجد کی طرح بھارت سے دوستیاں بڑھا رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر معراج الہدی ٰ صدیقی نے سندھ کے لیے جو ایجنڈا دیا ہے میں ان کے ساتھ ہوں اور میں سندھ ور کراچی کا کیس سینیٹ سمیت ہر جگہ لڑوں گا ۔انہوں نے کہا کہ کراچی علم ، روشنی، مدراس تجار ت ، تہذیب اور ترقی کا شہر تھا اس کی قیادت لیاقت علی خان ، شاہ احمد نورانی ، پروفیسر غفور ، عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ خان جیسی شخصیا ت کے پاس تھی لیکن پھر کیا ہوا کراچی کفن ، تابوت ، بوری بند لاشوں ،دہشت گردی اور بھتہ خوری کا شہر بن گیا ۔یہ سب کچھ نااہل اور عوام دشمن قیاد ت کی وجہ سے ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہزاروں ٹن کچرہ موجود ہے ، دنیا چاند اور مریخ پر جارہی ہے اور کراچی والے پانی اور بنیادی ضروریا ت کا مطالبہ کررہے ہیں، کراچی کے مسائل کے حل کی چابی کراچی کے عوام کے پاس ہے ،جماعت اسلامی میں ہر زبان ، صوبے ، علاقے اور مسلک کے لو گ شامل ہیں اور یہ ایک خوبصورت گلدستہ ہے اس کی خوشبواور روشنی اندھیروں کو اجالے میں تبدیل کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ تھر میں جب ہزاروں بچے مررہے تھے تو لاڑکانہ میں ایک ارب روپے کا جشن منایا گیا اور ایک حکومتی اہلکار نے کہا کہ یہ تو مرتے رہتے ہیں میڈیا نے فساد مچایا ہوا ہے ۔سرا ج الحق نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں مذہب تبدیل کرنے کے حوالے سے جو قانون بنایا ہے وہ شریعت کے خلاف ہے میں مراد علی شاہ نہیں بلکہ زرداری سے کہنا چاہتاہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو نے جو آئین بنایا تھا وہ ملک جوڑنے کے لیے تھا ان کی پارٹی آئین سے بے وفائی کررہی ہے زرداری خود ہی یہ قانون واپس لے لیں ورنہ ہم سمجھیں گے کہ ان کی پارٹی اپنے بانی کے بنائے ہوئے آئین کو نہیں مانتی ۔انہوں نے کہا کہ نادرا نے کراچی میں لاکھوں لوگوں کے کارڈز کینسل کیے اور شہریوں کو شناختی کارڈ کے حصول میں بے شمار پریشانیوں کا سامنا ہے حالانکہ نادرا کا کام شہریوں اور عوام کو سہولت دینا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنامہ لیکس اور دبئی پراپرٹی لیکس کی صورت میں حکمرانوں کی کرپشن کے انبار کھلی آنکھ سے نظر آرہے ہیں ، قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہے امید ہے کہ سپریم کورٹ کرپشن کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کر ے گی ۔ انہو ں نے کہا کہ ہماری جنگ قاتلوں ، لٹیروں وڈیروں ، جاگیرداروں اور شوگر مافیا کے خلاف ہے ہم کسی سے نفرت نہیں کرتے ہمارا پیغام محبت اور امن کا پیغام ہے ہماری تحریک جاری رہے گی ۔اسد اللہ بھٹو نے کہا کہ کنونشن اور عظیم الشان نے کشمور سے کراچی تک عوام کو خوشحالی اور امن کا پیغام دیا ہے ، جماعت اسلامی دیہی اور شہری تقسیم اور ہر قسم کی تفریق سے بالا تر ہوکر سندھ کے عوامی مسائل حل کرنے کی جدوجہد جاری رکھے گی ۔انہو ں نے کہا کہ کراچی کی ترقی کا روشن ستارہ نعمت اللہ خان اور عبد الستار افغانی ہیں ، عبد الستار افغانی نے اقتدار کو لات مار کر جیل جانا پسندکیا لیکن کراچی کے حقوق کی کے لیے آزاد اٹھانا نہ چھوڑی ۔ڈاکٹر معراج الہدی ٰ صدیقی نے کہا کہ ہمارا کنونشن محبتوں کا پیغام پورے سندھ میں پھیلارہا ہے یہاں ہندو عمایدین اور عیسائی نمائندے سمیت اقلیتی برادری سراج الحق کی قیادت میں موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو پسماندگی کی طرف دھکیلا گیا ہے اور کراچی کو جان بوجھ کر تباہ کیا گیا ہے ۔کراچی کی ترقی کے دشمن سندھ کے دوست نہیں ہوسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کو اقتدار ملا تو سندھ میں دس سال کے اندر خواندگی کی شرح سو فیصد کردیں گے ، تعلیمی بجٹ پر دس فیصد خرچ کریں گے ، سندھ کے ہر ضلع میں نئی جامعات بنائیں گے ، طلبہ کے لیے اسکالر شب کا اجراء کریں گے ، خواتین کی تعلیم میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو سزا دیں دلوانے کے لیے قانون سازی کریں اور ایک نیک بچے اور بچی کی تعلیم کو لازمی قرار دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ زرعی صوبہ ہے لیکن یہاں کی زراعت تباہ اور کاشت کارکی کمر توڑ دی گئی ہے ، سود چھایا ہوا ہے ، ہم زراعت سے بیاج کے سود کا خاتمہ کریں گے ، بے زمین کسانوں کو زمینیں دیں گے ، ٹیوب ویل کے لیے بجلی مفت ہوگی اور کاشت کاروں کو غیر سودی قرضے ان کے دروازے پر دیے جائیں گے ۔غریب ہاری اپنی بیٹی کی شادی کے لیے قرض لینے کے لیے وڈیرے کا آگے جھکے گا نہیں ۔ہماری حکومت نے گنا ، چاول ، افراط زر کی شرح کے حسا ب سے خریدا جائے گا ، تھر پارکر کو سرسبز بنائیں گے ، بارش کے پانی کو روکنے کے لیے چھوٹے ڈیم بنائیں گے ، جماعت اسلامی کے پاس ماہی گیری ، کاشت کاری اور لائیو اسٹاک کی ترقی کے لیے منصوبہ بندی موجود ہیں ،بھتہ خوری ،اغواء برائے تاوان کو ختم کریں گے، کراچی کو عزت اور نوجوانو ں کو نوکریاں دلوائیں گے ، کراچی دشمنی کی سیاست ہرگز نہیں چلنے دی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ باغ جناح کے اس گراؤنڈ پر قائد اعظم اکیڈمی بننا تھی اور ریسرچ سینیٹر کی عمارت کا منصوبہ تھا لیکن یہ سب کچھ معلوم نہیں کیوں رکا ہواہے ، جماعت اسلامی کی حکومت قائد اعظم اکیڈمی کا نامکمل منصوبہ مکمل کریں گی ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ نہ تو صوبہ سندھ اور نہ کراچی میں سیاسی خلاء موجود ہے ۔جماعت اسلامی منظم سیاسی طاقت کے طور پر موجود ہے جس طرح اس شہر کا ماضی جماعت اسلامی تھا مستقبل بھی جماعت اسلامی سے وابستہ ہوگا ۔بہت سے مائل کی طرح کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا کوئی والی وارث نہیں ہے ۔ یہاں کا مینڈیٹ لینے والوں نے یہی کے عوام کے سینوں پر مونگ دلی ہے ۔انہوں نے کہا کہ 68فیصد ریونیو دینے والا کراچی ڈھائی کروڑ عوام کا شہر ہے جو مہاجروں ، پختونوں ، بلوچوں ، سندھیوں ، پنجابیوں ، کشمیریوں ، ہزارے وال اور دیگر کا خوبصورت گلدستہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ کراچی منی پاکستان ہے اور اس منی پاکستان کو وفاق نے بھی لوٹا اور صوبے نے بھی اور بد قسمتی سے اس شہر کی حقوق کی بنیاد پر سیاست کرنے والوں نے اسے سب سے زیادہ لوٹا ہے ، انہوں نے کہا کہ اتحاد ویکجہتی کا سب سے بڑا مظہر اسلام ہے اور کراچی کے نام پر سیاست کرنے والے آج کئی گروپوں میں تقسیم ہوچکے ہیں اور بند گلی کی سیاست نے کراچی اور کراچی کے عوام کو کچھ نہیں دیا ۔کراچی کو اس کی سابقہ حیثیت اور نظریاتی تشخص کی طرف واپس لانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی 30سالہ سیاست نے چالیس ہزار نوجوانوں کی لاشیں دیں ۔ انہوں نے کہا کہ نعمت اللہ خان کو اختیارات آج کے میئر سے کم دیے گئے تھے لیکن ایمانداری اور دیانت داری اور بہترین ٹیم ور ک کے ساتھ جب آگے بڑھے تو اس کے بہترین نتائج نکلے جو سب کے سامنے ہیں ۔نئی بلدیاتی قیادت کو اختیارات کا رونا رونے کے بجائے اپنے حصے کا کام شروع کرنا چاہیئے، جماعت اسلامی کے بلدیاتی نمائندے اپنا کام کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کو بار بار بیچا جارہا ہے اور عوام سے اربوں روپے لوٹ لیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو گلے لگانے پر تیار ہیں جن نوجوانوں کو دھوکے اور فریب سے منفی سرگرمیوں میں لگایا اب ان کی آنکھیں کھل گئی ہے ، کراچی کے نوجوان ہمارے ساتھ آئیں آج کا یہ کنونشن لانچنگ پیڈ ہے اور شہر میں بڑی تبدیلی کا نقظۂ آغاز ثابت ہوگا ۔

مزید : کراچی صفحہ اول