بندش اور بجلی لوڈشیڈنگ کیخلاف عنایت قلعہ میں احتجاجی مظاہرہ

بندش اور بجلی لوڈشیڈنگ کیخلاف عنایت قلعہ میں احتجاجی مظاہرہ

باجوڑ ایجنسی (نمائندہ پاکستان) فاٹا میں اپریشن کے دوران دوبارہ آباد کاری کیلئے فنڈز میں اربوں روپے کے خرد برد کا نوٹس لیا جائے ان خیالات کا اظہار نائب امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا صاحبزادہ ہارون الرشید نے عنایت قلعہ بازار میں مہمند باجوڑ سڑک پر کام کی بندش، ایف سی آر کے مکمل خاتمے اور بجلی لوڈشیڈنگ کے خلاف ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا اُنہوں نے کہا کہ فاٹا میں اپریشن کے بعد غربت میں خوفناک حد تک ا ضافے کیوجہ سے قبائل اپنی بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم ہیں قبائل کیساتھ روز اول سے ایف سی آر کے ظالمانہ قوانین کی شکل میں ناروا سلوک جاری ہیں سڑکوں کی خراب صور ت حال کیوجہ سے پشاور جاتے ہوئے ذیادہ تر مریض راستے میں ہی دم تھوڑ جاتے ہیں اور ایجنسی کے سڑکیں بھی کھنڈرات میں تبدیل ہو چکیں ہیں محکمہ واپڈا سارے فاٹا میں غیر فعال ہیں اور یہاں بجلی کے شدید لوڈشیڈنگ عرصہ دراز سے جاری ہے جس سے طلباء اور تجارت پیشہ افراد کیساتھ عام آدمی بھی متاثر ہے امیر قبائل حاجی سردار خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایف سی آر کے ظالمانہ قوانین کیوجہ سے پورے فاٹا میں یونیورسٹی کے عدم موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت قبائلی عوام کو ناخواندہ رکھ کر اندھیروں میں دھکیلا جا رہا ہے امیر جماعت اسلامی باجوڑ مولانا عبد المجید نے کہا کہ فاٹا کی تعمیر و ترقی کیلئے پانچ سو ارب روپے پیکج کی پوری ضرورت ہے یہاں کے عوام کے معیار ذندگی کو بہتر بنانے کیلئے فوری طور پر مذکورہ رقم جاری کیا جائے اور فاٹا کو بلا تاخیر خیبر پختون خواہ میں ضم کیا جائے اُنہوں نے کہا کہ سابق گورنر خیبر پختونخوا انجینئر شوکت اللہ نے فا ٹا کے غریب عوام کے اربوں روپے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے وصول کئے اور فاٹا کی تعمیر و ترقی کا اندازہ اس بات سے لگیا جا سکتا ہے کہ ان کے آبائی گاوں ناوا گئی میں ابھی تک بچے اور خواتین گدھوں پر پانی لاتے ہیں فاٹا قدرتی معدنیات ، سنگ مرمر، کرومائٹ، نیپرائڈ اور دیگر قیمتی وسائل سے مالامال ہے اس کے کروڑوں روپے ٹیکس یہاں کے عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ ہونے چاہیے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر