فاٹا اصلاحات کی آڑ میں قبائلی عوام کے حقوق سلب کرنیکی مخالفت کی جائیگی

فاٹا اصلاحات کی آڑ میں قبائلی عوام کے حقوق سلب کرنیکی مخالفت کی جائیگی

ہنگو(بیورورپورٹ )فاٹا اصلاحات کی آڑ میں قبائلی عوام کے حقوق سلب کرنے کی مخالفت کی جائے گی۔فاٹا ریفارمز کمیٹی کی رپورٹ غیر تسلی بخش جبکہ فاٹا کے عوام الگ صوبے کا قیام چاہتے ہیں۔احتساب کمیشن کا مطالبہ کر نے والے خود احتساب کمیشن کا سامنا کر نے سے کترارہے ہیں۔عمران خان مغربی کلچر کو متعارف کرانے کی کوشش میں معاشرے کو فحاشی،عریانی کی نذر کر نے کے درپے ہیں۔افغانستان پڑوسی ہونے کی حیثیت سے پاکستان دشمن قوتوں کی براہ راست تعاون سے گریز کرے۔ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء اسلام پاکستان فاٹا کے امیر مو لانا عبدالشکور نے جامعہ مفتاح العلوم ہنگو میں پر یس کانفرنس کر تے ہو ئے کیا۔اس موقع پر جنرل سیکرٹری فاٹامفتی محمد اعجازشنواری، ضلع ناظم اخونزادہ مفتی عبید اللہ،ضلعی امیرہنگو مفتی دین اظہر حقانی،جے یو آئی اور کزئی ایجنسی کے مفتی عبد البصیر،جنرل سیکرٹری ہنگو مولانا رحمت اللہ زارسمیت دیگر علماء کرام بھی موجود تھے۔مولانا عبدالشکور نے کہا کہ فاٹا کو صوبہ کے پی کے میں ضم کر نے کے حوالے سے فاٹا ریفارمز کمیٹی کی پیش کر دہ رپورٹ غیر تسلی ہے۔فاٹا کے 85 فیصد عوام الگ صوبے کا قیام چاہتے ہیں۔قبائلی علاقہ جات قدرتی ذخائر سے مالا مال ہوکر ایک مستحکم اقتصادیات کے حامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ سی پیک نیٹورک میں فاٹا کی شمولیت قبائلی علاقہ جات میں معاشی استحکام کو فروغ دے گا۔مولانا عبدالشکور نے کہا کہ قبائل محب وطن ہیں۔جنہوں نے ملکی سا لمیت اور استحکام کیلئے قربانیاں دی ہیں اور جے یو آئی قبائلی عوام کے حقوق کا بھر پور دفاع کر یگی۔انہوں نے کہا کہ مرکز میں اتحاد ہونے کے باوجود فاٹا کے مسلہ پر حکومت کو ٹیبل ٹاک کر نے کی دعوت دیں گے۔انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے متاثرہ خاندانوں کی واپسی پر دوبارہ آباد کاری کے لئے 4 لاکھ روپے امدادی فنڈز نا کافی ہے۔جسکو دو گنا کر نا چاہئے۔اور شہداء پیکج فراہمی نا گزیر ہے۔مو لانا عبدالشکور نے کہا کہ عمران خان یہودی لابی کے آلا کار بن کر ملک میں نا چ گانوں سے مغربی کلچر متعارف کرانا چاہتے ہیں۔مگر ان کا سیاسی مستقبل نہایت تاریک ہے۔انہوں نے کہا کہ احتساب کمیشن کے قیام کے بعد احتساب کا مطالبہ کرنے والے خود کمیشن کا سامنا کر نے سے کترا رہے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخواہ حکومتی نا اہلی کے ریکارڈ توڑ کر صوبے کے عوام کو احساس محرومی سے دوچار کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 سال سے ترقیاتی میگاپر اجیکٹس ناپید جبکہ ترقیاتی فنڈز حکومتی نااہلی کے باعث لیپس ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ خیبر لیکس کا طوفان موجودہ صوبائی حکمرانوں کے اصل چہرے بے نقاب کر دے گا۔انہوں نے کہاکہ افغانستان براہ راست پاکستان دشمن قو تیں بھارت کے ساتھ تعاون کرنے سے گریز کر کے اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرے۔انہوں نے کہا کہ 18دسمبر کو پشاور میں جے یو آئی ف کے زیر اہتمام منعقدہ فاٹا اصلاحاتی کانفرنس میں قبائلی کے ساتھ فاٹا کو صوبے میں ضم کر نے کی پالیسی اور ریفارمز کمیٹی کی پیش کردہ رپورٹ تفصیلی غور و خوص کی جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ملک میں شر عی قوانین کے نفاذ اور دین اسلام کی سر بلندی کی جو و جہد جاری رکھی گی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر