یونیورسٹی ٹاؤن میں کمرشل سرگرمیاں فوری طور پر بند کی جائیں :ٹاؤن ریذیڈنٹس کمیٹی

یونیورسٹی ٹاؤن میں کمرشل سرگرمیاں فوری طور پر بند کی جائیں :ٹاؤن ریذیڈنٹس ...

پشاور(سٹاف رپورٹر) ٹاؤن ریذیڈنٹس کمیٹی کے اراکین نے یونیورسٹی ٹاؤن میں کمرشل سرگرمیاں فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ سکول مالکان کی طرف سے بچوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنا سراسر غیر قانونی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران سکول کے بچوں کو سڑکوں پر لانے والوں کے خلاف تادیبی کاروئی ہونی چاہئے۔ گزشتہ دنوں سکول مالکان کی طرف سے ممکنہ بندش کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر اتوار کے روز ٹاؤن ریذیڈنٹس کمیٹی کا اجلاس ٹاؤں کلب میں منعقد ہوا جس میں یونیورسٹی ٹاؤن کے رہائشیوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر ٹاؤن ریذیڈنٹس کمیٹی نے صوبائی حکومت کی طرف سے یونیورسٹی ٹاؤن میں کمرشل سرگرمیوں کو روکنے میں تاخیری حربے استعمال کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یونیورسٹی ٹاؤن میں سکول مالکان اور ہسپتال مالکان اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں ۔ اس موقع پر ٹاؤن ریذیڈنٹس کمیٹی نے بتایا کہ پشاور کے دیگر علاقوں بشمول حیات آباد، ڈیفنس آفیسرز کالونی اور شامی روڈ سے ہائی کورٹ کے حکم پر تمام کمرشل سرگرمیاں بند کر دی گئی ہیں، تاہم صو بائی حکومت اپنے مذموم مقاصد کی خاطریونیورسٹی ٹاؤن میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کر نے سے گریزاں ہے۔ ٹاؤن ریذیڈنٹس کمیٹی کے اراکین نے ہائی کورٹ سے انصاف ملنے کی واحد توقع کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے ٹال مٹول کے خلاف پرامن احتجاجی مظاہروں کے علاوہ ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر