آل پارٹیز کانفرنس کا آلودگی پھیلانے والیل کارخانوں کو انڈسٹریل سٹیٹ منتقل کرنے کا مطالبہ

آل پارٹیز کانفرنس کا آلودگی پھیلانے والیل کارخانوں کو انڈسٹریل سٹیٹ منتقل ...

بٹ خیلہ (بیور ورپورٹ) آل پارٹیز کانفرنس ملاکنڈ نے آبادی والے علاقوں میں سٹیل ملز سمیت آلودگی پھیلانے والے دیگر کارخانوں کے خلاف احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کارخانے بند کرنے اور انہیں انڈسٹریل اسٹیٹ منتقل کرنے کا مطالبہ کردیا ۔تحصیل درگئی کے گنجان آباد علاقوں میں سٹیل ملز کارخانے لگنے سے سانس ،سینے اور دل کے آمراض پھیل رہے ہیں ۔ 15دن کے اندر اندر ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت نے حل نہیں نکالا تو احتجاج کا راستہ آپناتے ہوئے سڑکوں پر نکلیں گے اور اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے ۔ آبادی والے علاقوں میں سٹیل ملز لگانے کے خلاف اصلاحی جرگہ تحصیل درگئی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس ٹمبر آفس میں ممتاز قانون دان ضیا ء اﷲ خان ایڈوکیٹ کے صدارت میں منعقد ہوئی جس سے پاکستان مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر الحاج محمد ایصال خان ، اے این پی کے ضلعی صدر شفیع اﷲ خان ، جماعت اسلامی کے ضلعی آمیر مولانا جمال الدین ،ٹریڈ یونین درگئی کے صدر اسفندیار خان ،ضیا ء اﷲ خان ایڈوکیٹ ، ممبران ضلع کونسل حاجی اکرم خان ، حاجی محمد طیب خان ، سفید خان دریاب ، ممبران تحصیل کونسل پیر قدیم خان ، حاجی افتخار خان ، محمد ارشاد خان مہمند ، ناظمین اتحاد کونسل کے صدر شمشیر علی خان ، ناظم غلام حبیب ، ناظم مکرم شاہ ، جنرل سیکرٹری آمن جرگہ تحصیل درگئی مکرم خان صبا ، غنی الرحمان چےئرمین ، سابق ناظم اور قومی وطن پارٹی کے رہنماء حاجی ہدایت خان ،حاجی محمد حسن، انجینئر گل فرا ز خان اور ہمایون خان سمیت منتخب ناظمین اور علاقائی مشران نے خطاب کیا ۔ مقررین نے کہا کہ تحصیل درگئی کے گنجان آباد علاقوں میں آلودگی پھیلانے والے سٹیل ملز کو این او سی اور انہیں پورے تحصیل درگئی کے برابر بجلی دینا قابل آفسوس اور باعث تشویش ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سٹیل ملز مالکان نے صرف پیسے کمانے کے لئے ہمارے اور ہمارے آئندہ نسلوں کے زندگی کو داؤ پر لگا دیا ہے اور آئے روز لوگ سینے ، گلے ، دل اور پھیپھڑوں کے آمراض میں مبتلا ہور ہے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ ملاکنڈ سمیت متعلقہ حکام نے اس پر معنی خیز خاموشی آپنائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کارخانوں سے نکلنے والے زہر آلود گندگی سے پینے کے پانی ، ہوا اور گھروں میں استعمال ہونے والے پانی ناقابل استعمال بن گئے ہیں اور اسے استعمال کرنے والے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔ مقررین نے کہا کہ صنعتوں کے قیام کے لئے درگئی میں انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کا اعلان کیا جاچکا ہے لیکن اس کے باوجود آبادی والے علاقوں میں آلودگی پھیلانے والے کارخانوں کو این او سی دینا سمجھ سے بالاتر اور معنی خیز ہے ۔ آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاء نے اعلان کیا کہ 15 دن کے اندر اندر ضلعی انتظامیہ ، صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام نے حل نہیں نکالا تو تمام سیاسی جماعتوں ، منتخب ممبران اور عوام کو ساتھ لیکر بھر پور احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکلیں گے اور کارخانوں کو تالے لگا کر انہیں بند کرینگے کیونکہ ہم اپنے بچوں کو معذور اور ایڑیاں رگڑتے رگڑتے مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے ۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ ضلعی کونسل کے ممبران ضلع کونسل میں اور تحصیل کونسل کے ممبران تحصیل کونسل میں ان کارخانوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے قراردادیں پیش کرینگے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر