فیدل کاسترو سبق چھوڑ گئے

فیدل کاسترو سبق چھوڑ گئے
فیدل کاسترو سبق چھوڑ گئے

  

کیوبا کے سابقہ صدر فیدرل کاسترو طویل علالت کے بعد سرکاری اعلان کے مُطابق جمعہ کی شام دُنیاِ فانی سے کوچ سے کر گئے۔ گزشتہ سات آٹھ برس سے فیدرل کاسترو کے چھوٹے بھائی ر اہول کاسترو بطور صدر حکمرانی کر رہے ہیں۔ بلا شبُہ ہر انسان کو ایک نہ ایک دِ ن موت کا مزہ چکھنا ہے۔ لیکن کُچھ لوگ مر کر بھی تا ابد عوام کے دِلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ مرحوم بھی ایک ایسی ہی نامور شخصیت تھے جنہوں نے پچاس سال تک کیوبا پر حُکمرانی کی۔بیسیوں بار اقتدار سے ہٹائے جانے والی سازشوں سے کامیابی سے بچے۔ موت کے ساتھ بہادری اور دلیری کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے رہے۔ اُنکو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وُہ اپنی دورِ اقتدار میں جو کہ نصف صدی پر محیط تھا اپنے اشتراکی نظریا ت پر ڈٹے رہے۔ امریکہ کی سخت اقتصادی پابندیوں کے باوجود بھی انہوں نے امریکہ کے سامنے جُھکنا گوارا نہ کیا۔ پچاس برس تک سیاسی طور پر تنہا کئے جانے لیڈر نے خود کو اور اپنے وطن کو دُنیا کے نقشے پر بد ستور نمایاں رکھا۔ اور بالاآخر امریکی حکومت نے اپنی انا کو خیر باد کہتے ہوئے کیوبا سے سفارتی تعلقات بحال کر نے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیدرل کاسترو کے عزم و استقلال کا ایسا بے مثال کارنامہ ہے جس کو تاریخ فخریہ طور پر یاد رکھے گی۔ اُ نکا سیاسی کردار نئے با شعور اور مُستقل مزاج سیاستدانوں کے لئے ہمیشہ مشعل راہ رہے گا۔

آ ج کے اِس بلاگ میں ہم نے اُنکی سیاسی جدو جہد پر ایک سرسری نظر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ جس کا مطلب اولا اُنکو اُنکی اعلیٰ اور مخلص خدمات پر خراجِ تحسین پیش کر نا ہے دویم اُ نکی خدمات کی یاد دہانی کروانا مُقصود تاکہ نئی آنے والی نسلیں اُن مُشکلات کا ادراک کر سکیں، جن سے اُن کو بے سرو سامانی کے حالت میں چند ساتھیوں کے ہمراہ گُزرنا پڑا۔لیکن تمام تر مصائب کے باوجود بھی انہوں نے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ذاتی مسائل کو اپنی راہ میں رکاوٹ نہیں سمجھا۔دُنیا کے بڑے ممالک کی مخالفت سے پر یشان نہیں ہوئے۔ ہر حال میں کیوبا کے عوام کی بہتری کے لئے کوشاں رہے۔ وُہ دُنیا میں ایک باغی لیڈر کے طور پر جانے جاتے تھا۔ لیکن یہ بغاوت انہوں نے اپنی ذاتی اغراض کے لئے نہیں بلکہ ایسے نظام کے خلاف کی جو غریبوں کے مُنہ سے نوال چھین لیتا ہے۔ غریبوں کو اُنکے بنیادی حق سے محروم کرتا ہے۔ تمام لوگوں کو برابر کی بنیاد پر حقوق دیتا ہے۔ ہم اُنکے اِس جذبے کی قدر کر تے ہیں جو وُہ انسانیت کے لئے اپنے دِل میں رکھتے تھے۔ اِس مقصد کے حصول کے لئے انہوں نے اپنی زندگی کو داؤ پر لگا رکھا تھا۔ وُہ عزم و استقلال کی ایک اعلیٰ تصویر تھے۔

فیدل کاسترو کا جنم1926 میں سپین کے ایک قصبہ میں ہوا۔ والد گنے کی کاشت کے لئے معروف تھے۔ خاندان مالی اعتبار سع کافی مستحکم تھا۔ فیدل نے ابتدائی تعلیم مقامی سکولوں میں حاصل کر نے کے بعد گریجوئیشن کے لئے ہوانا یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور لاء میں ڈگری حاصل کی۔ دورانِ تعلیم اشتراکی نظام معیشت سے متاثر ہو کر اشتراکی نظام حکومت کے لئے پر چار کیا۔ کیوبا میں اُس وقت کی حکومت کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مِل کر پہاڑوں میں چھُپ کر گوریلا وار کا آغاز کیا۔ بالاآخر ۱۹۵۹ کو اقتدار پر قبضہ کرکے کیوبا کے پہلے وزیر اعظم بن گئے۔ لیکن امریکہ شروع ہی سے اُنکے اشتراکی نظریات کا مخالف تھا۔ علاوہ ازیں،انہوں نے امریکہ کے حمائت یافتہ لوگوں کو معزول کیا اور تمام صنعتوں کو قومیا لیا تھا۔ امریکہ اشتراکی نظریات کا سخت مخالف تھا۔ وُہ روسی اثر و رسوخ کو اپنے پڑوس میں پھیلتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ لیکن فیدل کاسترو نے تمام تر امریکی مخالفت کے باوجود ساری زندگی اپنے مشن کو جاری رکھا۔امریکہ نے اُن کو اقتدار سے ہٹانے اور اُنکو قتل کرنے کے لئے بے شمار کوششیں کیں لیکن وُہ اپنے ارادوں میں ہر وقت ناکام رہا۔ سی آئی اے اور دوسرے کئی خُفیہ امریکی اداروں نے اُنکو شکست دینے کی کوشش کی لیکن وُہ اپنے عزائم میں ہمیشہ ثابت قدم رہے۔انہوں نے امریکی نیو کلئیر میزائل سسٹم کا مقابلہ کرنے کے لئے رُوس کو اپنے مُلک میں نیو کلئیر میزائل نصب کرنے کی اجازت دی۔ سرد جنگ کے دنوں میں یہ ایک نہایت ہی باغیانہ اور جُراتمندانہ قدم تھا۔ جس کی وجہ سے امریکہ اور روس کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے۔ بلکہ یُو ں کہنا مُناسب ہو گا کہ امریکہ اور روس ایک دوسرے کے خلاف جنگ کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے تھے۔ یہ واقعہ اُنکی شہرت کا بڑا سبب بنا۔

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

فیدل کاسترو کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے پچاس برس تک کیوبا پر حکمرانی کی۔ اور اپنی مرضی کے نظام کو پروان چڑھایا۔ وُہ اپنے طویل دورِ حکومت میں ا یک باغی اور انقلابی سوشلسٹ جانے جاتے تھے۔بعض لوگوں کے خیال میں وُہ ایک بد ترین ، جارح اور مغرور ڈکٹیٹر تھے جنہوں نے مُلک کی ترقی کو اپنی ضد کی بھینٹ چڑھا دیا۔ لیکن وُہ لوگ جو فیدل کاسترو سے پہلے مظالم دیکھ چکے تھے، اُن کے نزدیک فیدل کاسترو کا دور بہت بہتر تھا۔ لیکن نوجوان نسل اُنکے خیالات کی شدت سے نا خوش تھی۔ امریکی صدر اوبامہ کو یہ کریڈٹ جاتاہے کہ آج سے دو سال پہلے انہوں نے بعد از طویل مُدت کے ہوانا سے سفارتی تعلقات بحال کئے۔ جس کی اُمید با لُکل نہ تھی۔انہوں نے فیدل کاسترو کی وفات پر رنج کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ خود فیدل کا سترو کے مقام کا تعین کرے گی۔ بلاشبہ وُہ ایک عظیم اور نمایاں لیڈر تھے۔جبکہ منتخب امریکی صدر نے اُنکے دور کو ظلم اور استبداد کے دور سے موسوم کیا ہے اور یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ امریکہ اور کیوبا کے تعلقات مزید خوشگوار ہو ں گے۔تاہم دُنیا میں فیدل کاسترو ایک متنازعہ اور نڈر لیڈر کے طور پر ہمیشہ جانے جائیں گے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

.

مزید : بلاگ