سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں گرفتار ملزم کا کلمہ پڑھ کر نیا انکشاف، جنرل منیجر اور ایک ملازم نے سینکڑوں لوگوں کو زندہ جلایا: زبیر چریا

سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں گرفتار ملزم کا کلمہ پڑھ کر نیا انکشاف، جنرل منیجر ...
سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں گرفتار ملزم کا کلمہ پڑھ کر نیا انکشاف، جنرل منیجر اور ایک ملازم نے سینکڑوں لوگوں کو زندہ جلایا: زبیر چریا

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سانحہ بلدیہ فیکٹری کے گرفتار ملزم زبیر عرف چریا نے کلمہ پڑھ کر دل دہلادینے والے انکشافات کردیے اور الزام عائد کیا ہے کہ فیکٹری کے جنرل منیجر اور ایک ملازم نے سینکڑوں لوگوں کو زندہ جلایا۔

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں سانحہ بلدیہ فیکٹری میں گرفتار ملزم زبیر عرف چریا کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی ۔ دوران سماعت زبیر چریا نے عدالت کو کلمہ طیبہ پڑھ کر بیان دیا کہ فیکٹری کے جنرل منیجر منصور اور ملازم شاہ رخ نے آگ لگائی اور ان کے کہنے پر ہی فیکٹری کے دروازے بند کیے گئے تھے۔ میرے سامنے ہی سینکڑوں لوگ زندہ جل گئے لیکن انہیں کوئی بھی بچانے والا نہیں تھا۔

پنجاب کی صوبائی کابینہ میں ساڑھے تین سال بعد توسیع، 11 نئے وزرا، 2 معاونین خصوصی اور 3 مشیروں نے حلف اٹھا لیا

زبیر چریا نے مزید انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے سابق ایس ایس پی نے مجھ سے زبردستی فیکٹری مالکان کے خلاف بیان دلوایا جبکہ مجسٹریٹ کے سامنے بھی زبردستی بیان دلوایا گیا تھا ۔ دوران سماعت سانحہ بلدیہ کیس کے سابق تفتیشی افسرانسپکٹر جہانزیب نے عدالت کو بتایا کہ حماد صدیقی اور رحمان بھولا دبئی فرار ہوچکے ہیں۔ عدالت نے فیکٹری مالکان کو گواہوں میں شامل کرنے کی درخواست منظور کرلی اور ملزمان حماد صدیقی اور رحمان بھولا کے ریڈ وارنٹ جاری کرکے انٹر پول سے رابطہ کرنے کی ہدایت کردی اور کیس کی مزید سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاون میں ستمبر 2012 میں ایک فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 255 مزدور جھلس کر جاں بحق ہوگئے تھے۔

مزید : کراچی