’عرب ممالک نے غیر ملکی ملازمین کے خلاف یہ کام کیا تو یہ سب سے بڑی غلطی ہوگی‘ عالمی ادارے نے عرب ممالک کو سنگین ترین نتائج کے بارے میں خبردار کردیا

’عرب ممالک نے غیر ملکی ملازمین کے خلاف یہ کام کیا تو یہ سب سے بڑی غلطی ہوگی‘ ...
’عرب ممالک نے غیر ملکی ملازمین کے خلاف یہ کام کیا تو یہ سب سے بڑی غلطی ہوگی‘ عالمی ادارے نے عرب ممالک کو سنگین ترین نتائج کے بارے میں خبردار کردیا

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) خلیجی ریاستوں میں معاشی بحران پیدا ہونے کے بعد کوشش کی جا رہی ہے کہ غیر ملکی محنت کشوں کی آمدنی اور ان کی جانب سے بیرون ملک بھیجی گئی رقوم پر نیا ٹیکس عائد کر دیا جائے، لیکن بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے خبردار کردیا ہے کہ یہ پالیسی غیر ملکی محنت کشوں سے زیادہ خود خلیجی ممالک کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگی۔

عریبین بزنس کی رپورٹ کے مطابق متعدد خلیجی ممالک میں غیر ملکیوں پر پانچ فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ خلیجی ممالک میں کام کرنے والے غیر ملکی تقریباً 84.4 ارب ڈالر (تقریباً 84.4 کھرب پاکستانی روپے) ہر سال بیرون ملک بھیجتے ہیں۔ نئے ٹیکس کی صورت میں ان ممالک کو سالانہ 4.2 ارب ڈالر (تقریباً 4.2کھرب پاکستانی روپے)حاصل ہوں گے۔

’غیر ملکیوں کو نکال کر سعودیوں کو نوکری دوگے تو یہ انعام ملے گا‘ سعودی حکومت نے ایسا اعلان کردیا کہ اب غیر ملکیوں کا بچنا مشکل ہوگیا

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکس حاصل کرنے کے لئے نئے انتظامی و آپریشنل اخراجات کرنا پڑیں گے جس کے نتیجے میں یہ آمدنی مزید کم ہوجائے گی۔ مزید کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک میں پرائیویٹ سیکٹر کی افرادی قوت کا تقریباً 90 فیصد غیر ملکیوں پر مشتمل ہے، جن پر نیا ٹیکس عائد ہونے سے ان کی کارکردگی اور مسابقت پر منفی اثر پڑے گا۔ بیرون ملک سے خلیجی ممالک کا رخ کرنے والے غیر ملکیوں کے لئے اس خطے کی دلکشی کم ہوجائے گی اور وہ یہاں آنے کی بجائے دیگر ممالک جانے کو ترجیح دیں گے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ان تمام عوامل کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خلیجی ممالک کو نیا ٹیکس عائد کرکے فائدے کی بجائے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا، لہٰذا یہ کام نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔

مزید : عرب دنیا