سعودی عرب میں ایک وزیر نے اپنے بیٹے کو قواعد کے خلاف سرکاری نوکری دلوادی، پھر کیا ہوا؟ جان کر آپ بھی ملک کے نظام پر عش عش کراُٹھیں گے

سعودی عرب میں ایک وزیر نے اپنے بیٹے کو قواعد کے خلاف سرکاری نوکری دلوادی، پھر ...
سعودی عرب میں ایک وزیر نے اپنے بیٹے کو قواعد کے خلاف سرکاری نوکری دلوادی، پھر کیا ہوا؟ جان کر آپ بھی ملک کے نظام پر عش عش کراُٹھیں گے

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) کسی بھی ملک کے نظام انصاف کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ کمزور پر لاگو ہونے والا قانون طاقتور کو بھی اپنی گرفت میں لے سکتاہے یا نہیں۔ سعودی نظام انصاف اس امتحان میں کامیاب ہے یا نہیں اس کا اندازہ اس مثال سے لگایا جا سکتا ہے کہ قومی ادارے نیشنل اینٹی کرپشن کمیشن نے ایک وزیر کے صاحبزادے کی اعلیٰ عہدے پر خلاف ضابطہ تعیناتی پر کاروائی شروع کر دی ہے۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر یہ شکایات گردش کررہی تھیں کہ وزیر برائے سول سروس کے صاحبزادے کی بھرتی کے سلسلے میں بے قاعدگی کا ارتکاب کیا گیا تھا، جس کے بعد ادارے نے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی شکایات میں کہاگیا تھا کہ مذکورہ وزیر نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے صاحبزادے کو وزارت برائے میونسپل و دیہی امور میں بھرتی کروایا تھا۔

اینٹی کرپشن کمیشن کی جانب سے گزشتہ روز جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ ابتدائی تحقیقات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وزارت برائے میونسپل و دیہی امور نے بھرتیوں کے ضمن میں ضوابط پر عمل نہیں کیا تھا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ وزارت برائے میونسپل و دیہی امور نے مذکورہ وزیر کے صاحبزادے سے کئے گئے معاہدے کے ضمن میں منسٹری آف سول سروس سے کوآرڈینیٹ نہیں کیا، یعنی بھرتی کئے جانے والے فرد کی تنخواہ اس کی قابلیت اور تجربے کے مطابق طے نہیں ہوئی، جبکہ بھرتی کے لئے عمر اور طبی موزونیت سے متعلقہ ضوابط کو بھی نظر انداز کیا گیا۔

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد دیگر وزارتوں کی جانب سے کی گئی بھرتیوں اور معاہدوں کی تحقیق بھی شروع کردی گئی ہے۔ تقریباً 10 وزارتوں کی جانب سے ریگولیٹری کنٹرول و شرائط یقینی بنانے میں ناکامی کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں، اور توقع کی جا رہی ہے کہ ا ن سب کے خلاف تحقیقات ہوں گی۔

مزید : عرب دنیا