جنرل باجوہ نے آرمی چیف بننے سے پہلے جنرل جاوید رمدے سے ایسی بات کہی تھی کہ جان کر آپ بھی جذباتی ہوجائیں گے

جنرل باجوہ نے آرمی چیف بننے سے پہلے جنرل جاوید رمدے سے ایسی بات کہی تھی کہ جان ...
جنرل باجوہ نے آرمی چیف بننے سے پہلے جنرل جاوید رمدے سے ایسی بات کہی تھی کہ جان کر آپ بھی جذباتی ہوجائیں گے

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر کالم نگار و تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے دعویٰ کیا ہے کہ نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سپر سیڈ ہونے والے جنرل جاوید رمدے انتہائی قریبی دوست ہیں اور نئے آرمی چیف نہیں چاہتے کہ سپر سیڈ ہونے پر جنرل رمدے مستعفی ہوں ۔

نجی ٹی وی 92 نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کے امیدوار چاروں لیفٹیننٹ جنرلز دوست بھی ہوتے ہیں ، بیچ میٹ بھی ہوتے ہیں اور ان سب کی صلاحتیں بھی ایک جیسی ہوتی ہیں تاہم سنیارٹی لسٹ میں تھوڑا بہت ہی فرق ہوتا ہے ۔ آرمی میں عمومی طور پر روایت ہے کہ سپر سیڈ ہونے والے جنرلز استعفیٰ دے دیتے ہیں لیکن موجودہ آرمی چیف نہیں چاہتے کہ رمدے صاحب ریٹائر ہوں۔

جنرل ظہیر الاسلام کو پہلے سے نہیں جانتا تھا،پہلی ملاقات دھرنے کے دنوں میں جی ایچ کیو میں ہوئی:طاہر القادری

رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ اگر سینئر جنرلز میں تعلقات اچھے ہوں تو جس دن آرمی چیف کی تعیناتی کا اعلان ہوتا ہے وہ اسی دن اپنے سینئرز کو فون کرکے انہیں استعفیٰ نہ دینے کا کہتا ہے اور ایسی مثالیں موجود ہیں کہ سپر سیڈ ہونے والے جنرلز مستعفی نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل جاوید رمدے قریبی دوست ہیں ۔ ایک نجی محفل میں جنرل باجوہ نے جنرل رمدے کو کہا تھا کہ اگر میں آرمی چیف بن گیا تو آپ کو جانے نہیں دوں گا اور اگر آپ بن گئے تو میں چلا جاؤں گا۔

رؤف کلاسرا کا مزید کہنا تھا کہ جنرل علی قلی اور پرویز مشرف کے درمیان بھی مقابلہ تھا جبکہ دونوں جنرلز کے تعلقات بھی خراب تھے۔ جب میاں نواز شریف نے مشرف کو آرمی چیف بنایا تو حالات دیکھتے ہوئے جنرل علی قلی کو چوہدری نثار کے بھائی جنرل افتخار نے فون کیا اور کہا کہ آپ نے استعفیٰ نہیں دینا ، میں میاں صاحب سے آپ کو جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی بنانے کی بات کر رہا ہوں تاہم جنرل علی قلی خان نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میرے مشرف سے تعلقات ٹھیک نہیں ہیں اس لیے ہمارے لیے اکٹھا چلنا مشکل ہوجائے گا۔اس کے بعدجنرل علی قلی خان استعفیٰ دے کر گھر چلے گئے تھے۔

مزید : قومی