ایک ناقص اور خلافِ معمول تبصرہ

ایک ناقص اور خلافِ معمول تبصرہ
 ایک ناقص اور خلافِ معمول تبصرہ

  

پاکستان کی سیاسی اور مذہبی صورت حال پر تبصرے سے میں نے حتی الامکان گریز کیا ہے کہ سیاست اور مذہب دونوں موضوعات پر میرا علم بہت ناقص ہے۔ ہر شریف آدمی کی طرح اس مقام سے بچ نکلنے کی کوشش کرتا ہوں جسے مذہبی لحاظ سے حساس قرار دیا جا سکتا ہو۔

وہ اس لئے کہ اب ’’حساسیت‘‘ کی ایک نئی توضیح سامنے آئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک مخصوص فکر نے اسلام یا مذہب کی خاص طور پر جو تکنیکی تعبیر کی ہے اس سے اگر ذرا بھی اختلاف ہو گیا تو آپ اس پر تشدد اور تنقید کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

آپ لاکھ کہیں کہ آپ بھی کلمہ گو ہیں اور ختم نبوتؐ پر پورا یقین رکھتے ہیں اور آپ کو محض ان کی وضاحت سے تھوڑا اختلاف ہے تو آپ کو خارج از اسلام قرار دیا جا سکتا ہے اور چونکہ معاملہ ’’حساس‘‘ ہے اس لئے ہر شریف آدمی آپ کی حمایت کرنے سے ڈرے گا۔

اصل موضوع پر بہ حالت مجبوری تبصرہ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ میں بتاتا چلوں کہ یہ محرر ایک کھلے دل اور کھلے ذہن کا ایک سیدھا سادہ مسلمان اور انسان ہے اور بیرون ملک رہنے والے ان پاکستانیوں میں شامل ہے جو ہر وقت پاکستان میں امن اور خوشحالی کے لئے دعاگو رہتے ہیں۔

اس نے اوکاڑہ میں ایک وہابی اور جماعت اسلامی سے متاثر گھرانے میں آنکھ کھولی، جس کا وسیع تر قبیلہ اس وقت نہ صرف مسلم لیگ (ن) میں شامل ہے ،بلکہ اس کا سیاسی حصہ دار بھی ہے، تاہم میں ذاتی طور پر کسی سیاسی جماعت کا حامی نہیں ہوں۔

ختم نبوت پر میرا دو سو فیصد یقین ہے، لیکن محض اکیڈیمک نقطہ ء نظر سے میرے ذہن میں جو سوال پیدا ہوتے ہیں ان کا جواب تلاش کرنے کے لئے میں یہاں واشنگٹن ایریا میں عموماً ڈاکٹر ظفر اقبال نوری سے رجوع کرتا ہوں۔

ان سے بھی میں نے یہ پوچھا کہ جو کلمہ پڑھ کر ہم اسلام کے دائرے میں داخل ہوتے ہیں، اس میں ختم نبوتؐ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں بھی ایسا کوئی حوالہ نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی تصور میں یہ واضح ہے کہ حضرت محمدؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اس لئے ختم نبوت کا تصور اسلامی عقیدے کی بنیاد میں شامل ہو گیا۔مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا۔

اب پاکستان میں مسئلہ کیسے شروع ہوا۔ پاکستان کے انتخابی ایکٹ کو نظرثانی کرکے اس کا نیا مسودہ قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا اس میں اسمبلیوں کے ارکان کے لئے ایک اقرار نامے پر دستخط کرنے ضروری ہیں کہ وہ کلمہ گو ہونے کے ساتھ ساتھ ختم نبوت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان غالباً تمام اسلامی ممالک میں واحد ملک ہے جہاں اس طرح کا اقرار یا حلف داخل کرنے کی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔ یہاں ایک الگ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سعودی عرب، اردن، شام یا ایران میں جہاں اس طرح کا اقرار نامہ حاصل نہیں کیا جاتا تو کیا ان کی مسلمان ہونے کی حیثیت مشکوک سمجھی جائے۔ میں مسلم لیگ نون کا حامی نہیں ہوں، لیکن اختلاف برائے اختلاف کا بھی روادار نہیں ہوں۔

اصل اور بنیادی معاملہ ایک عقیدے پر یقین رکھنے کا ہے۔ اس کے اظہار کے لئے کن الفاظ کا چناؤ کیا جاتا ہے۔ وہ زیادہ اہم نہیں ہیں۔ آپ ختم نبوت کا اقرار کرتے ہیں یا اس کا حلف لیتے ہیں ،بات تو ایک ہی ہیں۔ خدانخواستہ دونوں صورتوں میں آپ اس سے انکاری تو نہیں ہوتے۔

لیکن اس تکنیکی بات کو اتنا اچھالا گیا کہ اس مسودے کے مصنفین پہلے دفاع پر مجبور ہوئے اور پھر منہ چھپاتے پھرے کہ شائد ان سے کوئی سنگین جرم سرزد ہو گیا ہے۔

اور یہاں تک کہ معاملہ دھرنے اور اس کے خلاف آپریشن تک جا پہنچا۔ اسلام کی محبت میں سرشار پاکستانی عوام ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی دھرنے کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے۔

راستے بند کرنے، گھیراؤ جلاؤ کرنے اور ن لیگی لیڈروں کے گھروں پر حملے کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا اور دوسرے شہروں میں بھی دھرنے لگ گئے۔ فیض آباد کے بنیادی دھرنے میں مسلسل آگ لگائی جا رہی تھی۔ معصوم پیروکاروں کو بتایا جا رہا تھا کہ ختم نبوت کے لئے قربانی دینے کا اتنا اچھا موقع دوبارہ کبھی نہیں ملے گا۔

فیض آباد کے بنیادی دھرنے کے لیڈر نے اقرار نامے کے ایک لفظ کو تبدیل کرنے سے اپنا مطالبہ شروع کیا اور پھر وزیر قانون کے استعفے کو اپنے مطالبے میں شامل کیا اور اب پوری کابینہ کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

معاملہ صرف ختم نبوت تک نہیں رکا، اسلام کا پورا مذہب زیربحث آ گیا۔ یہ لیڈر تقسیم ہند کے بعد قیام پاکستان کی وجہ سے مسلمانوں کی سماجی اور اقتصادی ترقی کا ذکر کررہے تھے ،جس کے دوران انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے لئے نازیبا الفاظ استعمال کئے۔

ان چیف جسٹس نے دھرنے کا معاملہ اعلیٰ ترین عدالت میں اٹھایا اور انٹیلی جنس اداروں سے کہا کہ وہ یہ معلومات فراہم کرنے میں قاصر رہے ہیں کہ دھرنے کے شرکاء کو کھانا پینا اور دیگر سہولتیں کیسے فراہم ہو رہی ہیں۔ عام آدمی کو اپنے روزگار کی فکر ہوتی ہے، جس کے لئے وہ صبح گھر سے نکل کر مزدوری کرتا ہے اور شام کو اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے کچھ کمائی کرکے لاتا ہے۔

لیکن دھرنا میں بیٹھے لوگوں کو روزگار کی کوئی فکر نہیں ہے۔ کیا وہ تمام خوشحال لوگ ہیں۔ اگر نہیں تو ان کے گھر بار کا نظام کون چلاتا ہے۔ کس کا سرمایہ دھرنے کے شرکاء کے کام آ رہا ہے؟ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پاس ان سوالات کا کوئی جواب نہیں تھا۔

دھرنے کی جذباتیت اور ’’حساسیت‘‘ کو ایک طرف رکھ کر اس مسئلے کا ایک حقیقت پسندانہ حل دھرنے کے پہلے دن سے موجود تھا لیکن اتنا زیادہ نقصان اٹھانے کے بعد یہ واضح ہو چکا ہے کہ سیاسی اور سول انتظامیہ کے پاس وہ اہلیت ہی نہیں تھی، جس سے یہ مسئلہ بخوبی حل ہو سکتا۔

میں ایک ٹی وی کا ایک پروگرام دیکھ رہا تھا۔ اس میں وزیر داخلہ احسن اقبال اتنی تباہی پھیلنے کے بعد بھی وہی باتیں کر رہے تھے جو وہ بیس دن پہلے کررہے تھے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے یہ وزیر داخلہ اکیڈیمک شعبے کے بندے ہیں، جن کا سیکیورٹی معاملات کا کوئی تجربہ نہیں۔ وہ کالج میں لیکچر دینے کے انداز میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے تفصیل بتا رہے تھے کہ ہم نے تو پہلے دن سے ہی یہ کوشش کی کہ مذاکرات کے ذریعے پرامن طریقے سے مسئلہ کو حل کیا جائے۔ اس سلسلے میں ہم نے تمام طریقے آزمائے۔

ہم نے سیاسی لیڈروں کے علاوہ مذہبی رہنماؤں کی خدمات بھی حاصل کیں، لیکن کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ اب وہ آپریشن کی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے بھی تیار نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے مطالبے پر شروع کیا گیا ورنہ ہم تو مذاکرات ہی کرنا چاہتے تھے۔

صرف مذاکرات ہی کرتے جانے اور پرامن حل تلاش کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے رہنے سے ڈیڈ لاک ختم نہیں ہو سکتا۔ آپ حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے ڈپلومیسی کے تقاضوں کے تحت ہی بہت ابتدا میں دھرنے والوں کا بنیادی مطالبہ مان لیتے۔

وہ وزیر قانون کا استعفیٰ چاہتے تھے اور جو اطلاعات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق وزیر قانون نے پیشکش بھی کر دی تھی۔ یہ مطالبہ مان کر پہلے ہفتے کیا پہلے دن ہی مسئلہ حل ہو سکتا تھا۔ وزیرداخلہ ٹی وی پروگرام میں ڈپلومیسی سے نابلد انداز میں مباحثے کے شرکاء کی طرح علمی دلائل دے رہے تھے کہ اگر وزیر قانون نے کوئی جرم نہیں کیا تو پھر اس کی انہیں سزا کیسے دی جا سکتی ہے۔

انہیں کوئی کیسے سمجھائے یہ کالج نہیں لیکچر کے دوران علمی دلائل دینے کا نہیں قومی سلامتی کا معاملہ ہے، جہاں اپنے آپ کو درست قرار دیتے رہنا ضروری نہیں ہوتا۔ڈپلومیسی کے تحت دوسرے کو غلط سمجھنے کے باوجود الاؤنس اور مارجن دینا پڑتا ہے۔

مباحثے میں ٹرافی جیتنا اور بات ہے، ڈپلومیسی کے ذریعے ملک کو تشدد اور بدامنی سے بچانا دوسرا معاملہ ہے۔ آپ خود فیصلہ کریں کہ اگر پاکستان کو احسن اقبال جیسا وزیر داخلہ میسر ہوگا توبیرون ملک گھر بیٹھ کر کڑھتے رہنے کی بجائے مجھے خلاف معمول اس سیاسی، مذہبی یا ’’حساس‘‘ معاملے پر اپنا ناقص تبصرہ تو پیش کرنا ہی پڑے گا۔

مزید :

کالم -