تختِ لاہور، حکومت اور اپوزیشن کی مشکلات

تختِ لاہور، حکومت اور اپوزیشن کی مشکلات
تختِ لاہور، حکومت اور اپوزیشن کی مشکلات

  

پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب میں پچھلے پانچ سال نہایت عمدگی سے حزبِ اختلاف کا کردار نبھا یا۔ اپوزیشن جسامت میں ننھی منی تھی اور ممبران کی تعداد اتنی بھی نہ تھی کہ اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لئے ریکوزیشن ہی دے سکے، لیکن اس کے باوجود پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ق) جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ضیاء) پر مشتمل متحدہ اپوزیشن نے میاں محمود الرشید کی قیادت میں احتجاج بھی کیا، تنقید بھی کی، تجاویز بھی دیں، بائیکاٹ بھی کیا اور تقریریں بھی کیں، یعنی مضبوط مسلم لیگ(ن) کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپوزیشن کے سارے حقوق و فرائض اور لوازمات پورے کئے،مگر اب وہی تحریک انصاف پنجاب میں حکومت بنانے کے بعد دباؤ اور مشکلات کا شکار ہے۔

تحریک انصاف کو پہلی بار پنجاب میں حکومت بنانے کا موقع ملا ہے۔ حکومت کو اس وقت جن مشکلات، دباؤ اور پریشر کا سامنا ہے اس کی وجہ پی ٹی آئی کا اپنا دیا ’’نیا پاکستان‘‘ کا انتخابی نعرہ ہے۔

اقتدار میں آنے سے پہلے چیئرمین عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف نے بے روز گاری، کرپشن،اقربا پروری، خوف و دہشت گردی، بد انتظامی اور مہنگائی سمیت دیگر مسائل کا شکار مایوس نا امید اور افسردہ عوام کو پچاس لاکھ نئے سستے گھروں کی تعمیر،صحت، پولیس اور مقامی حکومتوں کے ڈھانچے کی تشکیلِ نو، یکساں اور غیر طبقاتی نظام تعلیم، روزگار کے مساوی مواقع کے ساتھ ایک کروڑ نئی نوکریاں،دس ارب درختوں کے ساتھ صاف ستھرا سر سبز نیا پاکستان، معیشت کی بحالی، بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ اور اسی قسم کے دعوؤں، وعدوں اور نعروں کے ذریعے جو حسین خواب دکھائے، اب ان طلسماتی سپنوں کو تعبیر دینے اور سچ کر دکھانے کا وقت آن پہنچا ہے،مگر بطور پارٹی تحریک انصاف کیا اس پروگرام پر عمل پیرا ہونے کی اہلیت رکھتی ہے؟ عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کی بطور سیاسی جماعت عمر 22 سال ہے۔

عمران خان نے اس دوران بدترین حالات میں بھی جس ثابت قدمی،دلیری، ہمت اور حوصلے سے اپنی پارٹی کی قیادت کی وہ قابلِ تعریف ہے۔ زرداری کی پی پی اور نواز شریف کی مسلم لیگ(ن) جیسی پرانی اور تجربہ کار پارٹی اور قیادتوں کے ہوتے ہوئے انہوں نے جس طرح اپنی جگہ بنائی وہ بذات خود ایک بہت بڑی کامیابی ہے، لیکن اس ساری کہانی کا ایک ناخوشگوار پہلو یہ بھی ہے کہ عمران خان 22 سال کی عملی سیاسی جدوجہد کے بعد بھی اپنی پارٹی میں مقامی،صوبائی اور قومی سطح کی ’’لیڈرشپ‘‘ پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

اگر اَن تھک عملی سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں درمیانے طبقے کے پڑھے لکھے نوجوانوں پر مشتمل معقول تعداد کی قیادت آ ج تحریک انصاف کو میئسر ہوتی تو پنجاب حکومت کی ساخت اور ساکھ آ ج بہت بہتر ہو سکتی تھی۔

ہمیں وزیر اعظم عمران خان پر بھروسہ اور اعتماد ہے پوری قوم ان کی کامیابی کے لئے دُعاگو ہے، کاش 1970ء میں ذولفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی کی طرح وزیراعظم کی پارٹی بھی ان کے ساتھ اسی جوش و جذبہ کے ساتھ کھڑی ہوتی پتہ نہیں کیوں لگتا ہے کہ پارٹی کے ہجوم میں وہ تنہا ہیں۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار سمیت پنجاب کابینہ میں آدھے سے زیادہ وزراء وہ ہیں، جنہوں نے 2018ء کے عام انتخابات سے تھوڑا عرصہ پہلے ہی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

چیئرمین اور جماعت کے نظریات اور ویژن کی بدولت نہیں بلکہ یہ فیصلے انہوں نے اپنے حلقوں کی ’’انتخابی سیاست‘‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے کئے ہوں گے اور اب یہ وزراء انتہائی اہم وزارتوں پر تعینات ہیں۔ مختلف الخیال جماعتوں سے آنے والوں کا پارٹی میں زیادہ عرصہ نہیں گزرا، چنانچہ باہمی ہم آہنگی پیدا ہونے میں وقت لگ رہا ہے۔

نئے آ نے والوں کے پاس تجربہ نہیں ہے اور پرانوں میں اب عثمان بزدار اور چودھری پرویز الٰہی کی تعیناتی کے بعد جذبہ نہیں ہے۔یہ انسانی فطرت ہے ناانصافی اور نظر انداز کئے جانے پر وہ مایوس ہوتا ہے اس کا جذبہ ماند پڑ تا ہے۔حکومت سازی کے مراحل کے وقت چودھری پرویز الٰہی کے پرانے ’’مہربانوں‘‘کا وزن تو چودھریوں کے پلڑے میں تھا،مگر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے انہیں وزارتِ اعلیٰ کے بجائے پنجاب اسمبلی کی سپیکر شپ کی پیشکش کی، جو انہوں نے قبول کر لی۔ دس سال کے طویل عرصے کے بعد موقع غنیمت جان اور یہ سوچ کر کہ یہاں سے ،’’آ گے نکلنے‘‘کے بہت سے راستے نکلیں گے۔

چودھری پرویز الٰہی نے رضا مندی ظاہر کی، مگر وہ کچھ تیز چلے،اتحادیوں میں باہمی اعتماد کی پہلے ہی کمی تھی اور رہی سہی کسر ویڈیو لیک نے پوری کر دی۔گو چودھری مونس الٰہی کو وفاق میں وزارت ملنے کا امکان ہے ، لیکن اب اتحادی تحریک انصاف،گورنر چودھری محمد سرور، وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور دیگر سب فریق چوکنا ہو گئے ہیں، لیکن ان باتوں سے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ کولیشن حکومتیں پوری دُنیا میں جہاں کہیں بھی بنتی ہیں کم وبیش اسی قسم کی صورتِ حال ہوتی ہے۔

پنجاب کی حکومتی ٹیم میں گھوم پھر کر توجہ کا مرکز سپیکر ہوتے ہوئے بھی چودھری پرویز الٰہی ہی ہیں وہ اپنے سیاسی قد کاٹھ، خاندانی وضع داری، لوگوں سے دیرینہ تعلقات اور اپنے طویل سیاسی سفر کے تجربات کے باعث حکومتی اتحاد میں سب سے بڑا نام ہیں اسی لئے چھوٹے شیئر ہولڈر ہوتے ہوئے بھی وہ کلیدی کردار کے حامل بن گئے ہیں۔پنجاب میں پچھلے دس سال مسلم لیگ(ن) نے تجربہ کار شہباز شریف کی قیادت میں بہت متحرک حکومت کی ہے اس کے توڑ کے لئے تحریک انصاف کو پنجاب میں بہت غیر معمولی انداز سے ایک مضبوط، مربوط، طاقتور اور برق رفتار طرزِ حکمرانی لانا ہوگا۔

ہر بات کا جواب خالی خزانہ درست نہیں کچھ کام صرف توجہ، محنت، دلچسپی اور لوگوں کو آ مادہ حرکت کرنے سے بھی ممکن ہو جاتے ہیں، مگر شاید اس طرح کی کسی کرشماتی شخصیت کی کمی ہے۔

پی ٹی آئی کو اپنی جماعت کے اندر اور پھر میڈیا اور بیوروکریسی کے ساتھ پر اعتماد ورکنگ ریلیشن شپ کے قیام کی بھی اشد ضرورت ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کو دس سال بعد حزبِ اختلاف کی سیاست کرنی پڑ رہی ہے۔ سب کچھ اتنی تیزی سے بدل گیا کہ مسلم لیگ (ن) کے لئے یقین کرنا مشکل ہے۔ پنجاب اسمبلی پارلیمانی پارٹی کو رانا ثنا اللہ خان کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے اور مسلم لیگ(ن) کے ممبران انہیں بہت ’’مس‘‘ کرتے ہیں۔

گزشتہ دو حکومتوں کے دور میں جس مہارت،چابک دستی اور ذہانت سے رانا ثناء اللہ نے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ق) ، پی ٹی آئی اور دیگر چھوٹی جماعتوں کو ہینڈل کیا وہ پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پارلیمانی امور پر اسی دسترس اور عبور کی اب مسلم لیگ (ن) کو پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔371 کے ایوان میں 170 کی بھاری اپوزیشن کے ساتھ حمزہ شہباز شریف کا بھی امتحان ہے کہ وہ کس طرح پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت کو ٹف ٹائم دیتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کی لیڈر شپ پر نیب کے کیسز اور مقدمات کی وجہ سے بہت زیادہ دباؤ ہے۔ خوف و ہراس اور بے یقینی کی کیفیت میں مسلم لیگ(ن) کے ممبران اسمبلی بھی محتاط رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔

ویسے بھی مسلم لیگ(ن) نے دوران اقتدار زیادہ تر انحصار سرمایہ داروں، تاجروں اور کاروباری حضرات پر ہی کیا ہے۔ اب حزبِ اختلاف اور سڑکوں کی سیاست میں حصہ لیتے ہوئے سیاسی کارکنوں کی ضرورت پڑے گی۔ 

پتہ نہیں یہ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آ کر کارکنوں کو کیوں بھول جاتی ہیں۔بہرحال جمہوریت کا سفر جاری ہے اور یہ ان شا اللہ تعالیٰ اپنی پوری آب و تاب سے جاری رہے گا، لیکن آنے والے چند مہینوں میں بہت کچھ واضح ہو جائے گا۔

فارورڈ بلاک مسلم لیگ(ن) میں بننا ہے یا پی ٹی آئی میں، یا مسلم لیگ(ق) کا پی ٹی آئی میں انضمام ہونا ہے؟ مگر یہ سب ہوگا متوقع گرفتاریاں کے بعد اور ہاں گرفتاریاں کچھ انتہائی غیر متوقع افراد کی بھی ہو سکتی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -