چک امرو ریلوے سیکشن بحال کیا جائے

چک امرو ریلوے سیکشن بحال کیا جائے
چک امرو ریلوے سیکشن بحال کیا جائے

  

آج وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نارووال کی تحصیل شکر گڑھ کے علاقہ کرتار پور میں سکھ برادری کی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے کرتارپور کے مقام پر پاک بھارت راہداری منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اس تقریب میں نوجوت سنگھ سدھو اور بھارت کی مرکزی یونین کے وزرا شریک ہوں گے۔

میں یہاں وزیراعظم کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ لاہور نارووال چک امروریلوے سیکشن پر دربار صاحب کرتار پور کے نام سے ریلوے اسٹیشن بھی موجود ہے۔ لیکن چک امرو ریلوے سیکشن بند ہونے سے یہ سٹیشن عرصہ دراز سے ویران ہے۔ اب کرتار پور راہداری گیٹ کھولاجارہاہے تو یہ امید پید اہوگئی ہے کہ پاکستان ریلوے کا چک امرو سیکشن بھی بحال کیاجائے گا۔

اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ سکھ زائرین کرتارپور، نارووال، ننکانہ،حسن ابدال، لاہور اسی طرح واپس ٹرینوں کے ذریعے سفر کر کے مشرقی پنجاب میں داخل ہوسکیں گے۔

راہداری منصوبے کے سنگ بنیاد کے موقع پر نارووال چک امرو ریلوے سیکشن کوبھی بحال اور فعال کرنے کا اعلان کردیا جائے اس کے ساتھ ساتھ نارووال سیکشن پر ماضی کے دور حکومت میں عارضی طور پر بند کی گئی ٹرینیں بھی بحال کرنے کااعلان کریں۔

اس ضمن میں ہماری گذارش ہے کہ جب ریلوے انتظامیہ اپنے آپریشنل سیکشنز پر ٹرینوں کی تعداد میں کمی کردے گی تو مسافر تو مجبوری کے مارے روڈ ٹرانسپورٹ ہی استعمال کریں گے۔ آج ریلوے انتظامیہ ٹرینیں اصل تعداد میں چلانے کا اعلان کرے۔

عوام دوبارہ ریلوے اسٹشینز کارخ کر لیں گے ۔ ریلوے اسٹیشنز کی ویرانی اور ریونیو میں کمی کا ذمہ دارخود ریلوے کاادارہ ہے۔ وفاقی وزیرریلوے شیخ رشید نجانے کیوں نارووال سیکشن کو نظر انداز کر رہے ہیں،وہ اس سیکشن پر ٹرینیں بحال کرنے کے مطالبے پر بھی سیخ پا ہوجاتے ہیں۔

انہیں درد مندانہ درخواست ہے کہ وہ اس رویے کو ترک کریں احسن اقبال کے ساتھ سیاسی عناداور ضد میں عوام کو سفر کی سہولت سے محروم نہ رکھیں ۔ اس کے علاوہ ہم وزیراعظم عمران خان سے یہ گذارش بھی کریں گے کہ وہ وزیرآباد، سیالکوٹ، نارووال،نارنگ سے کراچی تک فریٹ ٹرین چلانے کااعلان کریں۔ کیونکہ وزیرآباد ضلع گوجرانوالہ سرجری آلات، الیکٹرونکس اشیاء ، چاول ، ضلع سیالکوٹ چاول،سپورٹس، لیدر مصنوعات، ضلع نارووال چاول اسی طرح ضلع شیخوپورہ نارنگ ایریا چاول کے برآمدکنندگان کا ملک کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

کراچی پورٹ تک روڈ ٹرانسپورٹ بہت مہنگی اور غیر محفوظ بھی ہے۔ لہٰذا ریلوے انتظامیہ اس روٹ پر فریٹ ٹرین چلائے تو سالانہ اربوں روپے کا ہدف حاصل کرسکتی ہے۔

اسی طرح کلاس گورایہ ریلوے سٹیشن کے ساتھ ملحقہ علاقے میں400 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا پاور پلانٹ ہے روزانہ درجنوں آئل ٹینکرز اس پاور پلانٹ کو فرنس آئل سپلائی کرتے ہیں ۔اگر ریلوے حکام مطلوبہ کمپنی سے آئل کی ترسیل کا معاہدہ کریں تو صرف ایک ماہ میں ریلوے کو 40کروڑ کی آمدن ہوسکتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -