موقع تودیں جناب 

موقع تودیں جناب 
موقع تودیں جناب 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان میں عمران خان کی حکومت کو بر سرِ اقتدار آئے ہوئے لگ بھگ سو دن ہونے والے ہیں۔ اُن کی حکومت سے بے شمار توقعات وابستہ تھیں۔ لوگوں کا خیال تھا کہ عمران خان صاحب کے اقتدار میں آنے کے بعد اُن کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ ۷۰ سا لوں کے جمع شُدہ مسائل چشمِ زدن میں کبھی بھی حل نہیں ہو سکتے۔ عزم صمیم اور نیک نیتی کے باوجو اگر تما م صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس کی طرح عیاں ہے کہ سو دن کی معیاد کسی بھی مُلک کے مسائل کو سُلجھانے کے لئے منطقی طور پر نا کافی ہے۔ سو دن میں حکومت کو بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پہلے تو جانے والی حکومت سے بخوبی چارج سنبھالنا۔ اس کے بعد اپنی ٹیم بنانے کے لئے موزوں اُمیدواروں کو مُنتخب کرنا۔ اپنی ہی پارٹی کے مُختلف گروپوں سے معاملات طے کرنا۔ انتہائی کٹھن کام ہوتا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی نئی حکومت اپنی ہی ورکرز اور اتحادی پارٹیوں سے لڑائی مول نہیں لینا چاہتی۔ لیکن اسے بھی اتفاق ہی سمجھئے کہ کوئی بھی اتحادی پارٹی وزارتِ اعلیٰ سے کم کسی پوزیشن پر مُتفق نہیں ہونا چاہتی۔ مختصر طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ تمام اتحادی سیاسی اتحادی پارٹیاں اپنی مقبولیت ، قومی اور صوبائی سیٹوں کے مُطابق حکومت سے ساز باز کرنا چاہتی ہے۔ لیکن بظاہر مخلص ہونے کا تاثر دیا جاتا ہے۔ کیو نکہ ہر پارٹی کی دلی خواہش یہی ہوتی ہے کہ حکومت سے سخت ترین بار گین کرکے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کئے جائیں۔ مجوزہ وزارت کے لئے اہلیت اور تجربے کو بالکُل مدِ نظر نہیں جاتا۔ صرف اپنے کارکنوں اور اتحادی پارٹیوں کو خوش کرنے کے لئے وزارتیں ریوڑیوں کی طرح بانٹنی پڑتی ہیں۔
عمران خاں صاحب کی انتظامیہ سے اُمید تھی کی وُہ پرانی ڈگر سے ہٹ کر معیار کو مدِنظر رکھ کر وزارتوں اور اعلٰی عہدوں کے لئے مُناسب اُمیدوار منتخب کرے گی۔ لیکن بد قسمتی سے عمران خاں کو حکومت تبدیلی کا دعویٰ کرنے کے باوجود ا پنی ہی پارٹی کے کارکنوں کی سوچوں کو نہیں بدل سکی۔ تحریک انصاف کے ہر کارکن کی شدید خواہش ہے کہ وُہ تما م اہل، تعلیم یافتہ اور تجربہ کار دوستوں کو بائی پاس کرکے اقتدار کی غلام گردشوں تک پہنچ جائے۔ اُس کو اپنی ذات کی فکر ہے۔ مُلک کے مُفادات کی اُسے کوئی پرواہ نہیں۔ حکومت چلانے کے لئے ایک تجربہ کار ٹیم کو بنانے کی ضرورت ہے اور مُنتخب وزیر کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے مذکورہ وزیر کو وقت دینا بھی ضروری ہے۔ عمران خان کی حکومت کو اقتدار میں آتے ہی بہت سارے مسائل کا سامنا کر نا پڑا ہے۔سب سے پہلے توعوام کو یہ محسوس ہوا کہ منتخب حکومت کو سابقہ حکومت کی کارکردگی اور مُلک کی معاشی صورت حال کے بارے میں حکومت کے پاس دُرست معلومات نہ تھیں۔ کسی بھی مُلک ، ادارے یا گھر کو چلانے کے لئے ضروری ہے کہ مُنتظمین کے پاس آمدنی اور اخراجات کی ساری تفصیلات موجود ہوں۔ تاکہ وُہ آئندہ مُلک کوچلانے کے لئے مالی وسائل کا انتظام کر سکیں۔ تحریک انصاف میں اسد عُمر کو اقتصادی ماہر سمجھا جاتا تھا۔ اُن کے بارے میں کہا جاتا تھا کو وُہ سابقہ حکومت کے معاشی اور اقتصادی پالیسوں پر پُوری شد و مد کے ساتھ تنقید کرتے تھے۔ جس سے عام آدمی کے ذہن میں یہ تا ثر پیدا ہُوا کہ اسد عُمر مُلکی خسارے کو پُورے کرنے کے لئے متُبادل لائحہ عمل رکھتے ہیں۔ لیکن جب سابقہ حکومت کی مالی مُشکلات کا انکشاف ہوا تو نئی حکومت کے عہداروں کے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی۔ پھر وُہی ہُوا جو کہ ایسی صورت حال میں اکثر ہوتا ہے۔ یعنی الزام تراشی کا سلسلہ۔ پرانی حکومت کی بد عنوانیوں کو اخبارات اور ٹی وی کے چینلز پر خُوب مرچ مسالے لگا کر بیان کیا گیا۔ اس الزام تراشی کا مطلب یہ تھا کہ مُلک کو درپیش مالی خسارے کے ذُمہ دار پچھلی حکومت کی قیادت تھی۔ جنہوں نے مُلک کی دولت کو اپنے باپ کا مال سمجھ کر خُوب لُوٹا۔ بھاری شرح سُود پر قر ضے لئے گئے۔ امریکی حکومت سے تعلقات کو اہمیت نہ دے کر مُلک کے لئے اقتصادی مسائل پیدا کر لئے۔ مُلکی پیدوار کو بڑ ھانے کے لئے کوئی خا طر کام نہیں کیا۔
آئی ایم ایف سے قرضے کے لئے درخو است کوئی بھی مُلک کر سکتا ہے لیکن درخو است کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ اُمیدوار مُلک کو کسی سپُر پاور کی حمایت حاصل ہو۔ امریکہ پاکستان کو اپنی بات منوانے کے لئے یا اپنے حُکم کی تعمیل کروانے کے لئے ما لی امداد کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔ آئی ایم ا یف پاکستان جیسے مُلک کو قرضہ دینے کے لئے ایسی شر ائط عائد کرتا ہے۔ جن کو کسی بھی سیاسی حکومت کے لئے قبول کرنا خود کُشی کرنے کے مترادف ہے۔ لہذا عمران خان نے صورتِ حال کا اندازہ کرتے ہوئے پاکستان کے قریبی د و ستوں سے رابطہ کرنے کی ٹھانی۔ یُوں سعودی عرب اور چین سے قابلِ لحاظ رقوم حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن رقوم کے پاکستان کی حکومت کے ہاتھوں میں پہنچنے سے پہلے ہی امر یکی ڈالر کی مالیت پاکستان میں یکدم بڑھ گئی۔ جس کے منفی اثرات مُلک کی معیشت پر گہرے پڑے۔حکومت کا دعو یٰ کہ وُہ کسی طور پر بھی آئی ایم یف سے قر ضہ نہیں لے گی باطل ثابت ہوا۔ تاہم حکومت کی کامیابی یہ ہے کہ اِس نے قلیل عرصہ میں مُلک کی ما لی حالت کو سُدھرانے کے لئے خاطر خواہ انتظامات کر لئے ہیں۔ لیکن ابھی رقوم کے حصول میں وقت درکار ہے۔ اُس وقت تک مُلک کی مالی حالت ڈنواں ڈول ہی رہے گی۔ حکومت کی کوشش ہے کہ آئی ایم ایف جیسے سے قرضہ نہ لیا جائے۔ کیونکہ اُنکی عائد کردہ شر ائط کو مُلک کے عام شہری پر عائد کرنے سے حکومت کے خلاف منفی رد عمل پیدا ہوگا اورحکومت کو مُلک چلانا دوبھر ہو جائے گا۔ آئی ایم یف کا ادارہ ایک آپشن کے طور پر ضرور موجود ہے لیکن یہ پہلی دفعہ ہُوا ہے کی پاکستان نے آئی ا یم ایف کی موجوزہ شرائط کو ٹھُکرا دیا ہو۔ تاہم حکومت اپنی پُوری کوشش کر رہی ہے کہ وُہ دوستوں کی مالی مدد سے اپنے مُلک کی اقتصادی حالت کو سنوار سکے۔مُلک کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت کم سے کم شرح سُود پر قرضے حاصل کرے۔ تاکہ حکومت آسانی کے ساتھ قرضوں کی اقساط کو ادا کر سکے۔ علاوہ ازیں، پاکستان امریکہ کیسی طاقت پر انحصار کرنے کے بجائے ایسے ممالک پر کر رہا ہے جن کو پاکستاں کی فوجی اور جغرافیائی اہمیت کا ادارک ہے۔ وُہ چین اور پاکستان کے سی پیک جیسے منصوبے کے فوائد سے و اقف ہیں۔ لہذا وُہ پاکستان کی مالی مدد کرکے پاکستان سے قریبی تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں تاکہ وُہ زیادہ سے زیادہ سیاسی، فوجی اور تجارتی فوائد حاصل کر سکیں۔ نئی حکومت انہی فوائد کو اُجاگر کرکے اپنے لئے راستہ ہموار کر رہی ہے کہ وُہ اقتصادی بحران سے نکل سکے۔ 
عمران خان کی حکومت تا دم تحریر عوام کے لئے کوئی خاطر کام نہیں کر سکی۔ تاہم مُستقبل میں اچھے اور قابل عمل منصوبوں کی ضرور اُمید کی جا سکتی ہے۔ مُلک میں حکومت کی رٹ کو قایم کرنے کے لئے بھی اچھا خاصا کام ہو رہا ہے۔ نا جائز تجاوزات کو ختم کرنے کی مہم جاری ہے۔ ا یک اندازے کے مُطابق ۱یک لاکھ چالیس ارب روپے کی مالیت کی زمین نا جائز قابضین سے وا گزار کروا جا چُکی ہے۔ غریب اور مستحق لوگوں کے لئے مکان فراہم کرنے کے منصوبے کا آ غاز بھی ہوُچکا ہے۔ احتساب کے عمل کو غیر جانبدارانہ بنانے کے لئے حکومت اپنی سی کوشش کر رہی ہے۔ وُہ لوگ جو کرپشن میں ملوث ہیں اُن کے نزدیک نیب ایک ایسا ادارہ جو کہ حکومت کے ایماء پر سیاسی مخالفین کو چُپ کروانے کے لئے بے بنیاد مقدمات بنوا رہی ہے۔ یہاں حزب اختلاف شائد حقیقت پسندی سے کام نہیں لے رہی ۔ تمام مقدمات پچھلی حکومت کے دور اقتدار میں قایم ہوئے ہیں۔ نیب کی کارروائی میں جیسی اُن کی حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں تھا ویسے ہی اس حکومت کو کوئی دخل نہیں ہے۔ بے الزام تراشی سے کُچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ مخالفت برائے مخالفت کی سیاست کو ترک کرکے ہمیں حکومت کے مُثبت کاموں میں حکومت کا ہاتھ بٹانا چاہئے۔حکومت کو موقع فراہم کرنا چاہئے کہ وُہ اطمینان اور انہماک کے ساتھ اپنی پالیسیوں کو نافذ کر سکے۔نئی حکومت کرپشن کو ختم کرنے اور معیار حکومت کو قایم کر نے کے تگ و دو کر رہی ہے۔ عمران خان کی سا بقہ زندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ وُہ ذہنی اور عملی طور پر کرپٹ نہیں ہے۔ وُہ زندگی کی مُشکلات سے گھبرانے والا بھی نہیں۔ اُس نے ہمیشہ عوام کے تعاون سے بڑے بڑے کام کئے ہیں۔ اقتدار کے اوائل میں بہت ساری اُمیدین وابستہ کر لینا خُود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ سیاستدان عوام سے ووٹ حاصل کرنے کے الفاظ کی شعبدہ بازی دکھاتے ہیں۔ عوام کی توقعات کو غیر ضروری طور پر بڑھا دیتے ہیں۔ عوام کو بھی سیاستدانوں کی اس کمزوری کو سمجھناچاہئے۔ عمران خان حکومت کی ابھی اگر کوئی کامیابی ہے تُو ا تنی کہ اس نے عوام کے ذ ہنوں کو کر پشن کے خلاف جنگ کرنے کے لئے تیار کر دیا ہے۔غیر ضروری پرو ٹو کال کو ختم کر دیا ہے۔ ساد گی کو اپنانے کے لئے وزارتوں سے غیر ضروری تکلفات کو ختم کر دیا ہے۔ معاشرے کو ایماندار اور دینانتدار بنانے کے لئے داغ بیل ڈال دی ہے۔ دوسرے ممالک سے پاکستان کا لُوٹا ہوُا پیسہ واپس لانے کے معاہدے کئے جا رہے ہیں۔ قابلِ لحاظ سو چ کی تبدیلی کا عمل شروع ہو چُکا ہے۔ جس کو محسوس ضرور کیا جانا چاہئے اور اچھے نیک کاموں میں ہمیں حکومت کا ہاتھ بٹانا چاہئے۔

۔

یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارہ کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے ۔

مزید :

بلاگ -