اگلے ڈیڑھ سال میں مہنگی بجلی پیدا کرنے والے معاہدے ختم کر دیں گے:معاون خصوصی پیٹرولیم

اگلے ڈیڑھ سال میں مہنگی بجلی پیدا کرنے والے معاہدے ختم کر دیں گے:معاون خصوصی ...
اگلے ڈیڑھ سال میں مہنگی بجلی پیدا کرنے والے معاہدے ختم کر دیں گے:معاون خصوصی پیٹرولیم

  



اسلام آباد(آئی این پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کو بریفنگ دیتے ہوئے معاون خصوصی پیٹرولیم ندیم بابر نے کہا ہے کہ جن پاور پلانٹس کی مدت پوری ہوچکی ہےاِنہیں بند کر دیا جائے گا،اگلے ڈیڑھ سال میں مہنگی بجلی پیدا کرنے والے معاہدے ختم کر دیں گئے،حکومت نجی طور پر بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے لائسنس کی تجدید نہیں کریگی،گزشتہ حکومت نے صنعتی اور رہائشی صارفین کو اعلان کے مطابق سبسڈی کی رقم ادا نہیں کی،یہ رقم 825 ارب روپے بنتی ہے،دسمبر 2021 تک بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل شروع ہوگا، دسمبر 2020میں پاور سیکٹر کا گردشی قرض ختم کردیا جائے گا۔سیکرٹری نجکاری رضوان ملک نے نجکاری پروگرام پر کمیٹی کو بتایا کہ پی آئی اے اور سٹیل مل کو نجکاری فہرست سے ڈی لسٹ کر دیا،پی آئی اے کے نیویارک میں روزویلٹ ہوٹل کیلئے جوائنٹ وینچر کی تجویز ہے، فرسٹ ویمن بینک کی جلدنجکاری کاپلان ہے،فرسٹ ویمن بینک ایک سال پہلے منافع میں تھا، خسارے کاشکارہے،ایس ایم ای بینک بھی پہلے سال منافع میں تھا،آج دوارب خسارے میں ہے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ فرسٹ ویمن بینک کسی بینک کوفروخت نہ کیاجائے،نجکاری میں نئے پلیئرز کو آنا چاہئے۔

بدھ کوقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس چیئرمین مخدوم مصطفی محمود کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں کمیٹی ارکان کے علاوہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی پیٹرولیم ندیم بابر،سیکرٹری نجکاری رضوان ملک و دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ مشیر پیٹرولیم ندیم بابر نے پاور سیکٹر نجکاری پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ دسمبر 2020میں پاور سیکٹر کا گردشی قرض ختم کردیا جائے گا، جولائی 2018میں 19ہزار میگا واٹ بجلی کی ٹرانسمیشن کی گئی، گزشتہ برس سے 4ہزار میگا واٹ بجلی زیادہ ترسیل کی گئی، حکومت پاور سیکٹر کی سبسڈی کو بجٹ میں شامل کرے گی۔ جینکوز سب سے مہنگے بجلی پاور پلانٹس ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جن پلانٹس کی مدت پوری ہوچکی ہے انہیں بند کر دیا جائے گا، حکومت کے ملکیتی مہنگی بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ بھی بند کر دیئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کنٹریکٹ ختم ہونے پر آئی پی پیز کے لائسنس کی تجدید نہیں ہوگی۔ اس سے بجلی کی قیمت ایک سے ڈیڑھ روپے تک کم ہوسکتی ہے۔چیئرمین کمیٹی مخدوم مصطفی نے کہا کہ بجلی کی زیادہ سے زیادہ کمپنیاں بنائی جائیں۔ندیم بابر نے کہا کہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کی نجکاری کی جائے گی، بجلی کمپنیاں کاروباری بنیادوں پر بجلی فروخت کر سکیں گی، اس طرح کا تجربہ خیبر پختونخوا میں کیا جاچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے صنعتی اور رہائشی صارفین کو اعلان کے مطابق سبسڈی کی رقم ادا نہیں کی،یہ رقم 825 ارب روپے بنتی ہے، یہ رقم گردشی قرضے میں اضافے کی بڑی وجہ ہے، نواز شریف نے صنعتی شعبے کیلئے رعائتی پیکیج دیا لیکن ڈسکوز کو ادائیگی نہیں کی گئی، اس کی وجہ سے گردشی قرضے کے بوجھ میں اضافہ ہوا،بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری سے پہلے کارکردگی بہتر بنائی جائے گی،دسمبر 2021 تک بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل شروع ہوگا۔سیکرٹری نجکاری رضوان ملک کی نجکاری پروگرام میں پیش رفت پربریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فرسٹ ویمن بینک کی جلدنجکاری کاپلان ہے،نجکاری سے پہلے ملازمین کے حقوق کاتحفظ کیاجائیگا،کوشش ہے نجکاری کیلئے کوئی سٹریٹجک پارٹنرآئے،فرسٹ ویمن بینک ایک سال پہلے منافع میں تھا،اب خسارے کا شکارہے ، بینک انتظامیہ سے کہاگیاہے کہ کارکردگی میں بہتری لائی جائے،ایس ایم ای بینک بھی پہلے سال منافع میں تھا،آج دوارب خسارے میں ہے،فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزرکی ہائرنگ حتمی مرحلے میں ہے،فرسٹ ویمن بینک کوکسی دوسرے بینک میں ضم کرنیکاپلان نہیں ہے،کوشش ہے نئے پلیئرزنجکاری کے عمل میں حصہ لیں،کوشش ہے کوئی مالی طورپرمضبوط کنسورشیم سامنے آئے،پاورپلانٹس کی نجکاری میں بھی بڑی رقم حاصل ہونیکی توقع ہے،  ظاہر ہے بیرون ملک سے پلیئرزمالی طورپرزیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔نجکاری میں نئے پلیئرز کوآناچاہیے۔

چیئرمین کمیٹی مخدوم مصطفی محمود نے کہا کہ فرسٹ ویمن بینک کسی بینک کوفروخت نہ کیاجائے،نجکاری میں نئے پلیئرز کو آنا چاہئے،پی آئی اے اور سٹیل مل کی نجکاری پہلے کیوں نہیں کی جارہی۔سیکرٹری نجکاری نے کہا کہ پی آئی اے اور اسٹیل مل کو نجکاری فہرست سے ڈی لسٹ کر دیا گیا تھا، پی آئی اے کے نیویارک میں روزویلٹ ہوٹل کیلئے جوائنٹ وینچر کی تجویز ہے،اس معاملے پر ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے۔

مزید : قومی