اسلامیہ یونیورسٹی معیاری تعلیم، لیڈر شپ فراہمی کیلئے پرعزم، ڈاکٹر اطہرمحبوب

اسلامیہ یونیورسٹی معیاری تعلیم، لیڈر شپ فراہمی کیلئے پرعزم، ڈاکٹر ...

  



بہاولپور(بیورو رپورٹ،ڈسٹرکٹ رپورٹر)انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب تعلیمی اور معاشی لحاظ سے ترقی کے زینے پر قدم رکھ چکا ہے۔ اس خطے کی افرادی قوت انتہائی محنتی اور قابل ہے۔ زراعت مقامی معیشت کا بنیادی جزو ہے جو صنعتی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔ ترقی کے اس سفر میں جنوبی پنجاب کی جامعات کا کلیدی کردار ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں نوجوان تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ علم پر مبنی معیشت میں یہی نوجوان اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے(بقیہ نمبر33صفحہ12پر)

ترقی اور خوشحالی کے نئے باب رقم کریں گے۔ وائس چانسلر نے ان خیالات پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے اس صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے پہلے سے ہی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ حال ہی میں یونیورسٹی میں داخلوں کی غیر معمولی مہم چلائی گئی اور نئے پروگراموں کے ساتھ ساتھ کچھ برسوں سے بند کیے گئے ایوننگ پروگراموں میں بھی داخلوں کا آغاز کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں 60ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں اور پہلی بار 8ہزار طلبہ وطالبات کو جامعہ میں داخلہ فراہم کیا گیا جبکہ ماضی میں یہ تعداد 3اور 4ہزار سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔ آئندہ سپرنگ سمسٹر میں بھی داخلے فراہم کیے جائیں گے اور یونیورسٹی سے الحاق شدہ 150کالجز میں ایسوسی ایٹ ڈگری پروگراموں کے اجراء کے بعد طلبہ وطالبات کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھ کر دو لاکھ ہو جائے گی۔ ہمارا عزم ہے کہ یونیورسٹی کے وسائل سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے طلبہ وطالبات کے لیے اعلیٰ تعلیم کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں۔ طلباء کی بہت بڑی تعداد جو ہاسٹل کے اخراجات برداشت نہ کرنے کے باعث داخلہ لینے سے محروم رہتی تھی اُن کے لیے 60کلو میٹر کے فاصلے پر واقع قریبی قصبوں سے بس سروس کا آغاز کیا گیا جس کی بدولت سینکڑوں طلبہ وطالبات کو ایک محفوظ اور آرام دہ سفری سہولت میسر آ گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بہاو لپور شہر کے اندر رش کے اوقات میں بسوں کے درمیان وقفہ 30منٹ ہی رکھا گیا ہے اور طلباء کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر 7نئی بسیں اور 2کوسٹر بھی جلد ہی ٹرانسپورٹ فلیٹ میں شامل ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ فیسوں میں دس فیصد اضافہ یونیورسٹی نے سال 2008کے بعد پہلی مرتبہ کیا ہے اور اب بھی جامعہ اسلامیہ کی فیس دوسری جامعات کے مقابلے میں کم ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے فنڈز کی کٹوتی کے باعث یہ اقدام اُٹھانا پڑا اور پہلے سمسٹر کے بعد فیس کی شرح ماضی کے مطابق ہی رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جنوبی پنجاب کے آخری ضلع رحیم یار خان کی تعلیمی ضروریات کو بہترین انداز سے پورا کر رہی ہے اور اس جامعہ کی پذیرائی کے باعث انجینئرنگ کے علاوہ سوشل سائنسز کے پروگرام بھی شروع کیے گئے۔ پروگرام کے آخر میں طلبہ وطالبات کے لیے پیغام دیتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ وہ یونیورسٹی کی طرف سے داخلوں اور سہولیات کے سنہری موقع سے فائدہ اُٹھائیں۔ جامعہ اسلامیہ معیاری تعلیم اور لیڈر شپ کی فراہمی کے لیے پر عزم ہے تاکہ ملک کی سماجی اور معاشی ترقی میں بھر پور حصہ لیا جائے۔

ڈاکٹراطہرمحبوب

مزید : ملتان صفحہ آخر