محکمہ ریلوے:مختلف شعبوں میں سٹاف کابحران، پالیسی ادارے کیلئے خطرناک

محکمہ ریلوے:مختلف شعبوں میں سٹاف کابحران، پالیسی ادارے کیلئے خطرناک

  



ملتان(نمائندہ خصوصی)وفاقی وزیرریلوے شیخ رشیداحمدکی منصوبہ بندی کے بغیرنئی ٹرینیں چلانے کی پالیسی کے باعث ٹرین حادثات تومعمول بن ہی چکے ہیں ریلوے ملازمین بھی حادثات کاشکارہوکرجاں بحق ہورہے ہیں ہفتہ کی شام مہرایکسپریس پرڈیوٹی کرنے والاسنیئرالیکٹریکل ایگزمینر(بقیہ نمبر36صفحہ12پر)

مہرایکسپریس سے گرکرجاں بحق ہوگیا شیخ رشیدکی طرف سے پرانی بوگیوں سے چلائی گئی ایک درجن سے زائدنئی ٹرینیں چلائے جانے کے بعدسے اب تک 6کے قریب ملازمین جاں سے جاچکے ہیں منگل کی شام دوران ڈیوٹی جاں بحق ہونے والے ملازم کی میت گزشتہ شام ملتان پہنچی،ریلوے انتظامیہ کی طرف سے میت آبائی علاقہ تک پہنچانے کے لئے ایمبولینس بھی مہیانہیں کی گئی ملتان ڈویژن کے ٹرین لائیٹنگ سٹاف نے ایمبولینس کے کرایہ اورتدفین کے لئے 32ہزارروپے سے زائدچندہ جمع کیا۔ریلوے ذرائع کے مطابق وفاقی وزیرشیخ رشید احمدنے ریلوے کی وزارت کاقلم دان سنبھالتے ہی نہ تونئی بوگیوں کاانتظامیہ کیااورنہ ہی ریلوے کہ تمام شعبوں میں سٹاف کی خطرناک حدتک ہونے والی کمی کوپوراکیااورنئی ٹرینوں کوچلادیاجس کے خوفناک نتائج آناشروع ہوگئے ہیں خواجہ سعدرفیق کے دورمیں بہتری کی طرف جانے والاریلوے ایک بارپھرتنزلی کی سمت چل پڑاہے۔کم سٹاف سے زیادہ سے زیادہ کام لینے کی پالیسی سے جہاں شیخ رشیدکے ریلوے کاوزیربنتے ہی اب تک17سے زائد ٹرین حادثات ہوچکے ہیں وہاں 6سے زائدریلوے ملازمین بھی اپنی جاں سے ہاتھ دھوچکے ہیں زخمی اورمعذورہونے والوں کی تعدادعلیحدہ ہے۔ملک بھرمیں آرٹی ایل سٹاف کے احتجاج کے بعدریلوے ہیڈکوارٹرسے گریڈ18کے سنیئرڈویژنل الیکٹریکل انجینئر ریلوے ہیڈکوارٹردویژن اکبرشاہ،ڈویژنل مکینکل انجینئر ملتان راناعمران اورڈویژنل اسسٹنٹ الیکٹریکل انجینئرملتان محمدضیاء جاں بحق ہونے والے ملازم کے گھرگئے اوراہل خانہ سے تعزیت کی ریلوے ذرائع کے مطابق کسی وفاقی وزیرکے دورمیں اتنے ملازمین حادثات کاشکارہوکرجان سے نہیں گئے جتنے موجودوفاقی وزیرریلوے کے دورمیں ریلوے ملازمین کاکہناہے وسائل بڑھائے بغیراورملازمین کی کمی پوری کئے بغیرنئی چلائی گئی ٹرینوں میں سے غیرضروری ٹرینوں کوفوری بندنہ کیاگیاتومزیدریلوے ملازمین جاں بحق ہونے کے ساتھ حادثات بھی رونماہوسکتے ہیں۔وفاقی وزیرصورت حال کے تدارک کے لئے فوری اقدامات کریں۔

خطرناک

مزید : ملتان صفحہ آخر