گرین پاکستان منصوبے سے موسمیاتی تبدیلیوں کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں: زرتاج گل

گرین پاکستان منصوبے سے موسمیاتی تبدیلیوں کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں: زرتاج ...

  



ملتان+ مظفرگڑھ(سپیشل رپورٹر+نامہ نگار) وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے فصلوں کو بہت زیادہ خطرہ ہے۔ پاکستا ن میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور ایم این ایس زرعی یونیورسٹی ملتان کلائی میٹ کے حوالے سے بہت کام کر رہی رہے جس کی وجہ سے کلائی میٹ چینج کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ وہ گزشتہ روز ایم این ایس زرعی یونیورسٹی میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے منعقدہ انٹرنیشنل کانفرنس(بقیہ نمبر8صفحہ12پر)

کی آخری روزہ تقریب سے خطاب کررہی تھیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے کلین اینڈ گرین پاکستان کے منصوبے کے تحت موسمیاتی تبدیلیوں میں مثبت کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا زمیندار خوشحال نہیں ہو گا تو ملک ترقی نہیں کر سکے گا ہماری حکومت کے منشور میں زمینداروں اورکسانوں کے مسائل حل کرنے کو ترجیح دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجھے خوشی ہے کہ زرعی یونیورسٹی ملتان میں زرعی ریسرچ پر بہت کام ہو رہا ہے اور وائس چانسلر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے بہت کم وقت میں جامعہ کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک کو پانی کی کمی کا بہت بڑا مسئلہ درپیش ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ زمین میں پیداواری صلاحیت کی کمی بھی اہم مسئلہ ہے۔ یہ کانفرنس اس حوالے سے آگاہی دے رہی ہے جو کہ بہت خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری وزارت ہر وقت حاضر ہے جو بھی ممکن مدد درکار ہوگی وہ کی جائے گی۔ انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی میڈیم زرتاج گل نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے فصلوں کو بہت زیادہ خطرہ ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستا ن میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور ایم این ایس زرعی یونیورسٹی ملتان کلائی میٹ کے حوالے سے بہت کام کر رہی رہے جس کی وجہ سے کلائی میٹ چینج کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے کلین اینڈ گرین پاکستان کے منصوبے کے تحت موسمیاتی تبدیلیوں میں مثبت کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا زمیندار خوشحال نہیں ہو گا تو ملک ترقی نہیں کر سکے گا ہماری حکومت کے منشور میں زمینداروں اورکسانوں کے مسائل حل کرنے کو ترجیح دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجھے خوشی ہے کہ زرعی یونیورسٹی ملتان میں زرعی ریسرچ پر بہت کام ہو رہا ہے اور وائس چانسلر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے بہت کم وقت میں جامعہ کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک کو پانی کی کمی کا بہت بڑا مسئلہ درپیش ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ زمین میں پیداواری صلاحیت کی کمی بھی اہم مسئلہ ہے۔ یہ کانفرنس اس حوالے سے آگاہی دے رہی ہے جو کہ بہت خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری وزارت ہر وقت حاضر ہے جو بھی ممکن مدد درکار ہوگی وہ کی جائے گی۔ انٹر نیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہاکہ زرعی یونیورسٹی ملتان نے شروع سے ہی شجر کاری مہم کو ترجیح دی ہے تاکہ گرد و نواح کے کلائی میٹ میں تبدیلی رونما ہو سکے۔ انہوں نے کہاکہ موسم کی تبدیلیاں آلودگی کی وجہ سے ہو رہی ہیں جس کی بڑی وجہ پاکستان میں شجر کاری نہ ہونا ہے۔ انہوں نے کہاکہ زرعی جامعہ کی جانب سے مختلف سرکاری اداروں، پرائیوٹ اداروں اور عوام الناس کو شجر کاری مہم کو کامیاب بنانے کیلئے مفت پودے فراہم کئے۔ انہوں نے کہاکہ ہم وزیر اعظم پاکستان کی شجر کاری مہم کو سمجھتے ہیں اور اس پر عمل پیرا ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ پورے پاکستان میں زیادہ شجر کاری کی بنا پر ہی موسم کی تبدیلیوں کے مسئلے سے نکلا جا سکتا ہے۔ انٹرنیشنل کانفرنس میں 3 مختلف کیٹگری کے سیشنز کا بھی انعقاد کیاگیا تھا جس میں کلائی میٹ چینج کے حوالے سے آگاہی فراہم کی گئی۔ کانفرنس میں مہمانوں کی اعزازی شیلڈز دی گئی۔ قبل ازیں ایم این ایس زرعی یونیورسٹی میں عالمی ادارہ برائے خوارک و زرعت کی تکینکی معاونت اورشعبہ ایگرانومی کے زیر اہتمام موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زراعت کو پہنچنے والے متوقع نقصانات کو کم کرنے کے حوالے سے دو روزہ انٹر نیشنل کانفرنس آن کلامیٹ سمارٹ ایگریکلچر اختتام پذیر ہوگئی ہے۔انٹر نیشل کانفرنس کے دوسرے اور اختتامی روز کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی میڈیم زرتاج گل اور وائس چانسلر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی تھے۔ انٹرنیشنل کانفرنس کے اختتامی روز یونیورسٹی آف منسوٹا امریکہ ڈاکٹر جاوید جے ملا(Dr. Javaid j Mulla)،یونیورسٹی آف کوپن ہانگن ڈینمارک ڈاکٹر گبریلا الینڈا،ڈی جی ریسرچ عابد محمود، وائس چانسلر غازی یونیورسٹی ڈاکٹر محمد طفیل، سابق ڈی جی پیسٹ وارننگ ظفریاب حیدر اور ڈائریکٹر ایگری بائیو ٹیک انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر ظفر اقبال نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ انٹر نیشنل کانفرنس میں پاکستان کے علاوہ پانچ مختلف ممالک کے 10سائنسدانوں نے شرکت کی۔ علاوازیں پاکستان کی مختلف جامعات، تحقیقی اداروں، شعبہ توسیع زراعت اور ترقی پذیر کسانوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس کے اختتام پر وفاقی وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی میڈیم زرتاج گل نے زرعی جامعہ میں پودا بھی لگایا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر مینگو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر حمید اللہ، ڈاکٹر شفقت سعید، ڈاکٹر عرفان بیگ، ڈاکٹر عمار مطلوب، ڈاکٹر غلام حیدر، ڈاکٹر راؤ اکرام، ڈاکٹر شاہدسمیت دیگر فیکلٹی، طلباء و طالبات، کسان و کاشتکارو اور دیگر زرعی سائنسدانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ وزیرمملکت زرتاج گل نے کہا ہے کہ سرسبز اور صاف پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی اور صوبائی حکومت کا اہم مقصد ہے اس سلسلے میں تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ صاف ستھرا ماحول تمام علاقوں کے لوگوں کا بنیادی حق ہے اس کے وزیر اعظم پاکستان عمران خان دن رات کوشاں ہیں. انہوں نے کہا کہ کنٹینر پر چڑھنے والے ناکام لوگوں کی کوشش ہے کہ ادروں کو لڑایا جائے،ایسے لوگوں کو ناکامی ہوگی،ادارے آپس میں نہیں لڑیں گے.حالت جنگ کے دوران جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دینا حکومت کا اختیار ہے.ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع کونسل کے جناح آڈیٹوریم میں محکمہ پبلک ہیلتھ اور غیرسرکاری تنظیم کے زیر اہتمام ماحول کی بہتری کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اور بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا.اس موقع پر ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ علی شہزاد اور دیگر اعلی حکام بھی موجود تھے. وزیر مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تقرری کے معاملے میں وزیراعظم سے کوئی غلطی نہیں ہوئی،توسیع دینا وزیراعظم کا اختیار ہے،اسی قانون کے تحت جنرل کیانی کو بھی توسیع دی گئی تھی.وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ عدلیہ سپریم ہے اور وفاقی کابینہ عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے،عدلیہ،کابینہ اور افواج پاکستان ایک پیج پر ہیں.زرتاج گل کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کا حق ہے کہ وہ اپنی ٹیم میں تبدیلی یا توسیع کریں،فروغ نسیم پر عمران خان کو بھرپور اعتماد ہے.وزیرمملکت زرتاج گل کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر کے حالات کے پیش نظر اداروں میں کوئی ٹکراو نہیں ہوگا، پاکستان نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر کے عوام کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دیا جائے پہلی بار کشمیر کا ایشو عالمی سطح پر اجاگر ہوا ہے.

مزید : ملتان صفحہ آخر