آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ حکومتی کارکردگی پر سوالات

آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ حکومتی کارکردگی پر سوالات

  



سپریم کورٹ میں چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے کی مدت میں توسیع کا معاملہ زیر سماعت ہے۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عدالت عظمیٰ میں یہ موضوع زیر بحث آیا ہے۔اِس سے پہلے کئی بار فوجی سربراہوں کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی گئی لیکن کسی شہری نے عدالت کے دروازے پر دستک دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ جنرل محمد ایوب خان پاکستانی فوج کے پہلے مقامی سربراہ تھے۔ان سے پہلے برطانیہ سے تعلق رکھنے والے جنر ل یہ ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔قیامِ پاکستان کے چند سال بعد یہ عہدہ سنبھالنے کا اعزاز جنرل ایوب خان کو نصیب ہوا۔ جنوری 1951ء میں پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے یہ حکم جاری کیا۔ان کے منصب کی میعاد ختم ہوئی تو پھر اُنہیں توسیع دے دی گئی،انہوں نے پاکستان کا پہلا دستور جو 1956ء میں نافذ ہوا تھا، منسوخ کر کے اکتوبر 1958ء میں اقتدار سنبھال لیا،اور قومی زندگی کی گاڑی پٹڑی سے ایسی اُتری کہ ابھی تک ہچکولے کھا رہی ہے۔ایوب خان تو کب کے اس دُنیا سے رخصت ہو چکے، لیکن تین فوجی سربراہوں نے ان کے نقش ِ قدم پر چل کر ہماری سرزمین کو بے آئین کیا۔جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف اس حوالے سے ہماری تاریخ کے ناقابل ِ فراموش کردار ہیں۔اب اگرچہ کہ جمہوریت بحال ہے، اور پاکستانی فوج اس کی حفاظت کے لیے پُرعزم ہے،ماضی کے تجربات کے تلخ نتائج کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ ہماری سیاست ابھی تک ہموار نہیں ہو سکی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف خود ہی اپنے آپ کو توسیع دیتے رہے، ان کے لیے ماہ و سال کی قید بے معنی ہو گئی تھی۔جنرل ضیاء 1988ء میں ایک حادثے کا شکار ہوئے تو وردی ان کے زیب تن تھی، اور سر پر صدارتی تاج بھی تھا۔ جنرل پرویز مشرف بھی اپنے عہدے کی میعاد میں اضافے پر تُلے اور وردی کو اپنی کھال سے تشبیہہ دیتے رہے۔جنرل پرویز مشرف کے فوجی جانشین جنرل اشفاق پرویز کیانی کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے رات گئے ایک نشری تقریر میں توسیع دینے کا اعلان کیا، اور وہ اپنے منصب کی دوسری میعاد پوری کر کے ریٹائر ہوئے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تو ایک عادی درخواست گذار نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔ سماعت شروع ہوئی تو ان کی طرف سے ایک سادہ کاغذ پر درخواست واپسی کی استدعا کی گئی۔ درخواست گذار عدالت میں بھی حاضر نہیں تھے۔اس پر چیف جسٹس نے درخواست کی واپسی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے توسیع کو عوامی اہمیت کا معاملہ قرار دیتے ہوئے دستور کی دفعہ 184(3) کے تحت قابل ِ سماعت قرار دے کر کارروائی شروع کر دی۔ مذکورہ درخواست گذار (ریاض راہی) کے بارے میں ایک اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس نے اپریل2018ء میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سپریم کورٹ کے جج کے طور پر تقرری کو بھی چیلنج کیا تھا۔یہ درخواست بعدازاں مستردکر دی گئی تھی۔

چیف آف آرمی سٹاف کی توسیع کا معاملہ پہلی بار سپریم کورٹ میں موضوع سماعت بنا ہے،اس لیے پورے پاکستان کی نظریں اس پر لگی ہوئی ہیں۔وہ بیرونی حلقے بھی جو پاکستانی امور سے دلچسپی رکھتے ہیں،ٹکٹکی لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔نتیجہ جو بھی نکلے معاملہ چونکہ اعلیٰ ترین عدالتی فورم میں زیر سماعت ہے،اس لیے اس پر کسی تبصرے کی ضرورت ہے نہ اجازت۔اس توقع کا اظہار ضرور کیا جائے گا کہ معاملہ خوش اسلوبی سے نبٹ جائے گا۔اس سے قطع نظر حکومتی کارکردگی کے اعتبار سے جو حقائق سامنے آئے ہیں،ان میں عوامی دلچسپی کا اچھا خاصہ سامان موجود ہے۔سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ توسیع کی سمری19اگست کو منظور کی گئی تھی،حالانکہ صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے12ستمبر کو ایک ٹی وی انٹرویو میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت تک اُنہیں ایسی کوئی سمری موصول نہیں ہوئی۔سپریم کورٹ میں جو ریکارڈ پیش کیا گیا اس کے مطابق صدرِ مملکت نے19اگست ہی کو وزیراعظم کی طرف سے بھیجی جانے والی سمری کی منظوری دے دی تھی۔ سپریم کورٹ کے ابتدائی حکم نامے میں لکھا ہے کہ وزیراعظم نے 19اگست2019ء کو خود حکم پاس کیا،موجودہ آرمی چیف کو دوسری مدت کے لیے توسیع دے دی، جبکہ آئین کی دفعہ243 کے مطابق اس عہدے پر تقرری کا اختیار صدرِ مملکت کا ہے۔بظاہر اس غلطی کا ادراک اسی دن ہو گیا،اور وزیراعظم کے دفتر سے ایک سمری 19اگست ہی کو صدرِ مملکت کو ارسال کر دی گئی،جس کی انہوں نے اسی دِن منظوری دے دی۔اس عمل میں بھی خامی تھی،بعدازاں احساس ہوا کہ وزیراعظم یا صدرِ مملکت مذکورہ بالا اقدامات کابینہ کی منظوری کے بغیر نہیں کر سکتے،تو اگلے دن20 اگست 2019ء کو کابینہ کی منظوری کے لیے ایک سمری تیار کی گئی۔ 21اگست کو کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے مذکورہ تجویز منظور کی۔عدالت کے روبرو جو فوٹو کاپیاں پیش کی گئیں، ان سے پتہ چلا کہ کابینہ جو کہ 25ارکان پر مشتمل ہے، اس کے صرف11 ارکان نے مذکورہ تجویز سے اتفاق کیا تھا، جس سے ظاہر ہوا کہ اکثریتی ارکان نے مذکورہ تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔ اس کے علاوہ ایک اہم پہلو یہ ہے کہ کابینہ کی اس مبینہ یا نام نہاد منظوری کے بعد یہ معاملہ وزیراعظم یا صدرِ مملکت کو دوبارہ ازسر نو ایڈوائس کے لیے یا علی الترتیب وزیراعظم اور صدرِ مملکت کو نئے حکم کے لئے پیش نہیں کیا گیا!

اس نشاندہی کے بعد اگلے روز کابینہ کے اجلاس میں آرمی ریگولیشن میں ترمیم کر کے اس میں توسیع کا لفظ بھی ڈال لیا گیا۔دو وفاقی وزرا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ معزز عدالت نے آبزرویشن دی تھی کہ مذکورہ ریگولیشن میں توسیع کا ذکر نہیں ہے، اس لیے وفاقی کابینہ نے عدالتوں کی ”مدد“ کرنے اور معاملات کو کلیئر کرنے کے لیے آرمی ریگولیشن255 میں ترمیم کرتے ہوئے معطلی اور ریٹائرمنٹ کے ساتھ ساتھ ”مدتِ ملازمت میں توسیع“ کے الفاظ بھی لکھ دیے ہیں۔ وزرائے کرام نے یہ بھی بتایا کہ کابینہ نے آرمی چیف کی ازسر نو تقرری کے لیے نئی سمری متفقہ طور پر منظور کر لی، جس پر صدرِ مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے بھی دستخط کر دیے ہیں۔دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ جب اٹارنی جنرل نے مذکورہ ترمیم عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش کی تو وہاں سے یہ آبزرویشن دی گئی کہ ریگولیشن255 تو چیف آف آرمی سٹاف سے متعلق ہے ہی نہیں۔ یہ تو افسروں سے متعلق ہے۔آرمی چیف کمانڈر ہوتا ہے۔اس کا شمار افسروں میں نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت عظمیٰ جو بھی فیصلہ صادر کرے گی،اس سے یہ معاملہ حتمی طور پر طے ہو جائے گا،لیکن حکومتی کارکردگی کی جو تصویر سامنے آئی ہے، وہ خود اربابِ حکومت کے لیے بھی تشویش کا باعث ہونی چاہیے۔

مزید : رائے /اداریہ