پنجاب میں انتظامی تبدیلیاں اور گورننس!

پنجاب میں انتظامی تبدیلیاں اور گورننس!

  



اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی ملاقاتوں کے بعد جو تبادلے ہوئے وہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں کہ یہ سب صوبے میں کارکردگی بہتر نہ ہونے کے باعث ہوئے ہیں،چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس تبدیل ہو گئے۔ اب یہ ان کی صوابدید ہو گی کہ وہ مزید کون کون سے افسر اپنی معاونت کے لئے لیتے ہیں یوں مزید تبادلے ہوتے چلے جائیں گے۔ پنجاب کے حوالے سے پہلے روز ہی سے ”کارکردگی“ کا سوال اٹھایا جاتا رہا ہے اور وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کو ایک ”کمزور منتظم“ قرار دے کر ان کی تبدیلی کی راہ ہموار کی جاتی رہی،لیکن وزیراعظم کا ان پر اعتماد ختم نہیں ہوا۔ اس مرتبہ بھی ان کے بارے میں خبریں چلائی گئیں اور افسانے تراشے گئے،لیکن اب احساس ہوتا ہے کہ وزیراعظم ان کی تبدیلی کے حق میں نہیں تھے،بلکہ شاید وزیراعلیٰ کی یہ بات مان لی گئی کہ بیورو کریسی معاونت نہیں کر رہی،اِسی لئے ان سے مشاورت کے بعد ان کو ایک مضبوط چیف سیکرٹری دیا گیا ہے کہ وہ نتائج دے سکیں۔اب یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ سردار عثمان بزدار کو کابینہ میں بھی تبدیلی کا اختیار دے دیا گیا ہے اور وہ وزیراعظم سے مشاورت بھی کر چکے۔یہ حقیقت ہے کہ پنجاب انتظامی طور پر کمزور ہے اور وزیراعظم کی توقعات پر حکومت اور انتظامی مشینری پوری نہیں اتری، مہنگائی، بے روزگاری اور بیماریاں تو پورے ملک میں ہیں،جبکہ جرائم بھی ہر صوبے میں ہوتے ہیں تاہم پنجاب پر توجہ کی وجہ یہ ہے کہ اسے مسلم لیگ(ن) کا صوبہ کہا جاتا ہے اور عوام کو سہولتیں دے کر ہی اس تاثر کو تبدیل کیا جا سکتا ہے،جو اب تک پورا نہیں ہو پایا تھا، اب دیکھئے کیا ہوتا ہے،ہمارے خیال میں پنجاب کے تمام محکمے ہی ابتری کا شکار ہیں۔ٹریفک کا اژدہام،جرائم کی رفتار،مہنگائی، بیماری اور صفائی سے لے کر تجاوزات تک تمام شعبوں میں کارکردگی بہتر نہیں ہے۔دیکھنا ہو گا کہ اب نئے افسروں کے ساتھ وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور ان کی کابینہ کے ساتھی کیا کارکردگی دکھاتے ہیں۔ بعض حضرات وزیراعلیٰ کے لئے یہ آخری آزمائش قرار دے رہے ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ