پہلے تنازعہ پیدا کیا،اب وکالت بھی؟

پہلے تنازعہ پیدا کیا،اب وکالت بھی؟
پہلے تنازعہ پیدا کیا،اب وکالت بھی؟

  



تحریک انصاف کو برسر اقتدار آئے اب ڈیڑھ سال ہونے کو آیا ہے،لیکن ابھی تک حکومت کے استحکام اور بہتر گورننس کی جھلکیاں نظر نہیں آئیں، بلکہ متعدد معاملات میں تنقید کے پہلو نظر آتے ہیں،ہمارے نزدیک اس کی سب سے بڑی وجہ سیاسی رواداری اور جمہوری اداروں پر بھرپور اعتماد کی کمی ہے،خود وزیراعظم عمران خان پارلیمینٹ کو وہ اہمیت نہیں دیتے جو اس کا حق ہے۔ہم نے 1962ء سے اب تک کئی ادوار دیکھے، صدارتی، آمرانہ اور جمہوری نظام کے دوران بھی اسی پیشے سے ہی منسلک رہے اور پیشہ ورانہ عمر عزیر کا بیشتر حصہ رپورٹنگ میں گذارا۔ہر شعبہ ہائے زندگی سے منسلک رہے اس پورے دور میں جو سخت مقام آئے ان میں بھی حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے درمیان اتنے فاصلے نہیں دیکھے،جو اب ہیں۔

محترم وزیراعظم جا بجا ساٹھ کی دہائی کا ذکر کرتے اور اس کے دور کو ترقی کا دور قرار دیتے ہیں۔اس سے اکثر حضرات یہ تاثر لیتے ہیں کہ ان کو پارلیمانی نظام کی بجائے صدارتی طرزِ حکومت پسند ہے،بلکہ وہ تو اس ملک میں اول تو چین جیسا نظام چاہتے ہیں، اگر یہ ممکن نہیں تو ان کو صدارتی نظام کی خواہش ہے وہ امریکی طرزِ کا کہ صدر منتخب ہونے کے بعد قریباً مختارِ کل ہوتا ہے۔ہم ان خیالات کے حامل حضرات سے اگر متفق نہ بھی ہوں تو کپتان نے اپنی ٹیم بنانے سے لے کر ملک سنوارو تک جتنے بھی کام کئے ان سے ان کے مزاج کی جھلک نظر آتی ہے۔اگر ان کی اپنی محنت کا جائزہ لیا جائے تو شاید وہ اس ملک کے واحد وزیراعظم ہیں،جنہوں نے سب سے زیادہ، بلکہ کہیں زیادہ اجلاسوں کی صدارت کی اور فیصلے بھی کرائے۔تاہم بعض فیصلوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہوم ورک پورا نہیں ہوتا اور حکم صادر ہو جاتا ہے، بعد میں اکثر ایسے احکام یا تو واپس لینا پڑتے ہیں یا پھر کسی عدالت سے کالعدم قرار پاتے ہیں۔

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا کہ عام اور معمول کے حالات میں توسیع دینے میں جلدی کی گئی اور حکم جاری کرا دیا گیا، اب یہ گلے پڑ گیا ہے اور اسے مناسب طریقے سے سنبھالا بھی نہیں گیا۔اس معاملے میں چونکہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں سماعت جاری ہے اِس لئے ہم کسی تبصرے یا رائے سے گریز کرتے ہیں،جب فیصلہ آ جائے گا تو پھر اس کے حسن و قبح پر بات بھی کر لیں گے۔فی الحال تو یہ بتانا ہے کہ محترم بیرسٹر فروغ نسیم کی شہرت اچھی ہے کہ انہوں نے لندن جا کر بانی کی بھی وکالت کی تھی، تاہم ان کی ذہنی کیفیت یہ ہے کہ پارلیمینٹ کے ہوتے ہوئے برملا اعلان کر کے آرڈیننسوں سے قانون سازی کی کوشش کی اور نیب آرڈیننس جیسے اہم ترین قانون کو بھی آرڈیننس ہی کے سہارے تبدیل کرنے کی کوشش کی،

اب یہ الگ بات ہے کہ اس میں ان کو کامیابی نہ ہوئی اور حزبِ اختلاف کے دباؤ کے بعد مفاہمت کا راستہ اپنایا گیا اور اب اس آرڈیننس سمیت دوسرے آٹھ آرڈیننس بھی مجالس قائمہ کے سپرد ہو گئے ہیں کہ ان کو غور اور بحث کے بعد ایوان میں لایا جا سکے،اس کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔بہرحال اس پر اکتفا کرتے ہوئے بات آگے بڑھاتے ہیں کہ اب انہوں نے وزارت سے استعفے (عبوری) دے کر ایک ایسے معاملے میں وکالت کی ٹھانی جو خود ان کی وزارت سے متعلق تھا اور اسے ایسے انداز میں حل کرنے کی کوشش کی گئی کہ عدالت عظمیٰ کی مداخلت سے سبکی کا پہلو نکلا،درحقیقت یہ کپتان کی نہیں، وزارتِ قانون کی ناکامی ہے،اب جب وہ دفاع کریں گے تو اندازہ بھی ہو جائے گا کہ کیا ہوا اور درست بھی تھا کہ نہیں؟

ملک کے جو حالات ہیں اس میں اب عوام کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی اور عوام کی نگاہ میں کسی سیاست یا حکمرانی کی کوئی حیثیت نہیں رہی وہ تو آٹے،دال کے چکر میں پھنس کر رہ گئے ہیں کہ کبھی غریب تنور سے دو روٹی اور دال لے کر پیٹ بھر لیتے تھے اب یہ بھی ممکن نہیں کہ دال کی ہاف پلیٹ بھی بساط سے باہر ہے،روٹی تو بہرحال مہنگی ہو ہی چکی ہے اب محترم کپتان کا نیا ارشاد ہے ”ووٹوں کی پرواہ نہیں،عوام کو غربت سے نکالنا میرا مشن ہے“ یہ تو وہی بات ہوئی کہ پہلے غربت پھیلائی اور اب غربت سے نکالنے کا عزم ظاہر کیا جا رہا ہے،ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ایک واقع پیش آ چکا ہے۔ یہ1974ء کی بات ہے جب روزنامہ ”مساوات“سے ہمارے سمیت 39کارکن برطرف کئے گئے اور ہمیں تحریک چلانا پڑی تھی۔ پی ایف یو جے نے تعاون کیا تھا۔

ایسے میں ہمیں فارغ کرنے والے عباس اطہر نے فیڈریشن کی پوری قیادت اور ہم کارکنوں سمیت سب کے خلاف ”ان فیئر لیبر پریکٹس“ کا مقدمہ دائر کر دیا، جو چیئرمین جسٹس عبدالحمید(مرحوم) کی عدالت میں زیر سماعت آیا،ہمارے رہنماؤں منہاج برنا، علی اختر مرزا اور نثار عثمانی نے وکیل کی خدمات حاص کرنے کے لئے محترم بزرگ ایس ایم ظفر سے رجوع کیا۔انہوں نے بہت احترام دیا،خاطر تواضع کی۔ محترم نے اس وقت اپنے جونیئر مسٹر نعیم بخاری کو بُلا کر اس کے سپرد کیا اور ہدایت کی کہ اچھی طرح وکالت کرنا ہے۔

جج صاحب ذرا بھی کوئی قانونی بات نہ مانیں تو فوراً ایک درخواست دے دینا۔مَیں ہائی کورٹ میں ان کو دیکھ لوں گا، جب ہم سب ان کے دفتر سے باہر آئے تو ہمارے سینئر خوش تھے۔انہوں نے مجھ سے پوچھا مطمئن ہو،بصد احترام عرض کیا، جی، نہیں! یہ سلسلہ تو یوں ہے کہ پہلے ہم کو سزا ہو گی اور پھر محترم ایس ایم ظفر صاحب ہم کو چھڑائیں گے۔ لیڈر حضرات نے یہ معاملہ مجھ پر چھوڑا تو ہم نے اپنے دوست محترم ڈاکٹر خالد رانجھا سے درخواست کی اور ان کو بھی پینل میں شامل کیا ان کی وکالت نے ہم سب کو اس پریشانی سے بچایا، اس کے باوجود جسٹس عبدالحمید نے منہاج برنا کو توہین ِ عدالت میں چھ ماہ کی سزا سنائی۔ہم ان کو ڈاکٹر خالد ہی کی گاڑی میں لے کر بھاگ گئے اور راتوں رات درخواست تیار کر کے اگلے ہی روز ہائی کورٹ سے ان کی ضمانت کرائی۔ منہاج برنا مرتے دم تک اس توہین عدالت کیس میں ضمانت پر تھے۔

ان پورے حالات اور قصے میں بھی ہمیں ڈاکٹر فروغ نسیم بار ایٹ لاء کا کردار ایسا ہی نظر آ رہا ہے کہ پہلے کام کو بگاڑ لیا جائے اور پھر اسے سنوارنے کے لئے بھی اپنی خدمات پیش کر دی جائیں، چیف آف آرمی سٹاف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا معاملہ بھی اسی نوعیت کا ثابت ہو رہا ہے کہ پہلے توسیع کا پورا طریق کار اختیار نہ کیا گیا اور اس زعم میں نومبرکی بجائے اگست ہی میں توسیع کر کے اپنی طرف سے معاملہ ختم کر دیا گیا،اور یقینا کسی کو خیال بھی نہیں تھا وہ تو ایک وکیل صاحب رٹ لے کر چلے گئے اور یہ معاملہ باہر آیا تو اندازہ ہوا، جلدی میں کس قدر بھول بھلیوں کا معاملہ ہے ابھی تک پبلک یا اپوزیشن میں سے کسی نے بھی اس توسیع پر اعتراض نہیں کیا،اس کے باوجود گلے میں گھنٹی بندھ گئی،اللہ خیر کرے استحکام کی بات اگلے کالم میں کریں گے!

مزید : رائے /کالم