انتخابی دھاندلی، مہنگائی، معاشی بد حالی پر احتجاج جائز

انتخابی دھاندلی، مہنگائی، معاشی بد حالی پر احتجاج جائز

  



پاکستان کی معاشی، دفاعی، تعلیمی اور سیاسی ترقی اور خوشحالی، ہر محب وطن اور انصاف پسند شخص کی دلی خواہش ہے، پھر بھی ان میں اکثر اوقات، جمود و زوال کے حالات دیکھنے میں کیوں آتے ہیں؟ حالانکہ یہاں قیمتی وسائل اور دیانتدار، محنتی ذہین اور جواں ہمت افرادی قوت کی بھی کوئی کمی نہیں۔ ان اثاثوں کا صحیح تعین اور استعمال کرنے میں آخر کون سی قوتیں، ادارے اور گروہ حائل ہیں؟ کیا ان کی غلط کاریاں اور غیر منصفانہ حرکات و سرگرمیاں، ختم یا کم کرنے میں، ہم کوئی منصوبہ سازی اور قانون سازی (اگر ضروری ہو) کرنے میں نا اہل، نالائق اور ناکام ہیں، محض مخالف قوتوں سے، خائف و کمزور ہونے کا جواز دیکھ یا بھانپ کر مثبت سمت میں، جدوجہد کی جرأت و ہمت کرنے سے ہی قاصر و لاچار ہیں؟ ہم اپنے مذکورہ بالا یا دیگر خدشات پر قابو پا کر اور ان کے منفی اثرات کی درست نشاندہی کر کے، بعض ناکامیوں کو، اپنے نیک عزائم، مسلسل جدوجہد اور خلوصِ نیت کی تگ و دو سے، کامیابیوں کے سود مند نتائج میں تبدیل نہیں کر سکتے؟ بظاہر تو مذکورہ بالا عزائم کے مقابلے میں، متوقع خدشات کوئی زیادہ بڑے، مضبوط اور ناقابل عبور یا ناقابل تسخیر معلوم نہیں ہوتے۔

اس کے باوجود ہمارے سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کے قدم، ڈگمگانے کی بجائے، استقامت سے آگے بڑھ کر، حریف قوتوں اور سازشی عناصر کے منفی حربوں کو، ناکام بنانے میں، تا حال پوری طرح سرخرو اور سرفراز کیوں نہیں ہو سکے؟ اس بارے میں، موجودہ حکمران طبقے کی، اپوزیشن کو آئے دن بدنام کرنے، دھمکیاں دینے اور بڑھکیں مار کر دباؤ میں رکھنے کی کارروائیاں، ہرگز کوئی مثبت اثرات اور نتائج برآمد نہیں کر رہیں۔ یاد رہے کہ عوام گزشتہ ایک سال سے ضروری اشیاء کی غیر معمولی مہنگائی سے بہت مشکلات اور پریشان حالی کا شکار ہیں۔ خور و نوش کے لئے سبزیاں، پھل، دالیں، بعض بیکری مصنوعات، ادرک، ٹماٹر، پیاز اور لہسن، اچانک تین سے چار گنا زیادہ قیمتوں پر فروخت کیوں ہو رہے ہیں؟ حالانکہ وطنِ عزیز تو ماشاء اللہ ایک وسیع و عریض زرعی ملک ہے اور یہاں متعدد اجناس کے ساتھ کئی پھلوں کے مختلف مقامات پر سینکڑوں ایکڑ پر سرسبز باغات ہیں اور وہاں ٹرانسپورٹ کے ذرائع بھی ماشاء اللہ اکثر اوقات دستیاب ہیں۔یہ حقیقت بھی ذہن نشین رہے کہ اپوزیشن جماعتیں عموماً انہی اوقات اور متعلقہ علاقوں میں، احتجاج کے لئے اپنی آواز بلند کرتی ہیں، جب عوام کو بعض بنیادی حقوق اور ضروریات زندگی کی جلد دستیابی میں غیر معمولی حالات، یعنی مہنگائی، کمیابی اور ناقص معیار کے حصول کے لئے گراں اخراجات ادا کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں، دھرنے کی وجہ بالکل درست ہے،کیونکہ وہ اور دیگر بیشتر بڑی اپوزیشن جماعتیں، گزشتہ ایک سال، بلکہ عام انتخابات کے فوراً بعد سے ہی انتخابات میں متعدد غلط کاریوں، دھونس، دھاندلی اور دانستہ غیر قانونی حرکات کے ارتکاب پر اپنے مختلف اعتراضات، آئے دن، ذرائع ابلاغ میں منظر عام پر لاکر عوام کو حکمران جماعت کو دی گئی ناجائز حمایت سے آگاہ کر کے یہاں جاری روایتی خرابیوں سے با خبر کر رہی تھیں۔ موجودہ وزیر اعظم عمران خان کو بخوبی علم ہوگا کہ احتجاج کرنے والے ملک بھر کے کروڑوں عوام کو ان کے ساتھ کوئی ذاتی رنجش۔ عداوت یا دشمنی نہیں، بلکہ وہ تو ہر وقت یا انتخابات کے مواقع پر، یہی آرزو اور خواہش رکھتے ہیں کہ عوام کی زندگی سہل اور آسان بنانے کی خاطر، ان کو زندگی گزارنے کی بنیادی ضروریات، بہتر معیار، خالص اشیاء اور خوراک کی بیشتر اشیاء سستے داموں پر دستیاب ہو سکیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں عوام کو اپنی خراب صحت، اور بیماری کے لئے، دوائی فراہم کی جائے۔ سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے سے شفا یابی کی موثر دوائی متاثرہ لوگوں کو جلد دینے کے انتظامات کئے جائیں۔ یہ شکایات چند ماہ سے روزانہ ٹی وی چینلوں پر دیکھنے اور سننے میں آ رہی ہیں۔

مزید : رائے /کالم