تفہیم اقبال: اقبال کی ایک فارسی غزل

تفہیم اقبال: اقبال کی ایک فارسی غزل
تفہیم اقبال: اقبال کی ایک فارسی غزل

  



کچھ ماہ پہلے ’تفہیمِ اقبال‘ کے عنوان سے کلامِ اقبال کی منتخب منظومات اور غزلیات کی تشریح کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔ اس کی فیڈبیک بس واجبی سی تھی اس لئے میں نے سوچا اگر قارئین صرف سیاسی موضوعات ہی کی طلب رکھتے ہیں تو پھر اقبال کو بیچ میں نہ ہی لایا جائے تو بہتر ہو گا۔ اگرچہ بعض اقبال شناس حضرات نے اقبال کو ایک سیاستدان کے طور پر بھی پیش کیا ہے اور اس پر ایک سے زیادہ تصنیفات مارکیٹ میں ملتی ہیں، لیکن اقبال اساسی طور پر ایک شاعر، دانشور، فلسفی اور مسلم امہ کی نشاۃ ثانیہ کے پیامبر تھے۔ انہوں نے سیاست میں جو حصہ لیا وہ زیادہ براہِ راست نہ تھا اس لئے میں نے تفہیمِ اقبال کے سلسلے میں ان کو ”بطورِ سیاستدان شاعر“ کبھی Portray نہ کیا۔ ان کے کلام کے ہزار رنگ اور صد ہزار روپ ہیں جن سے پاکستان کی نوجوان نسل کو آگاہ کرنا چونکہ مقصودِ نظر تھا اس لئے ان کا ایسا کلام موضوعِ کالم بنایا گیا جو غیر سیاسی تھا۔ یہ بات دوسری ہے کہ بعض اقبال شناس حضرات ان کے غیر سیاسی کلام میں بھی سیاست کا کوئی نہ کوئی پہلے ڈھونڈ لیتے ہیں۔

چنانچہ مجھے بھی چند احباب کے فون آئے کہ اگر اخبارات میں تفہیمِ اقبال کو ڈسکس کرنا ہے تو ان کے سیاسی نظریات اور سیاسی میلانات کو موضوع بنایا کریں، غیر سیاسی موضوعات پر تو سینکڑوں کتابیں مارکیٹ میں دستیاب ہیں …… چنانچہ میں نے اس سلسلہ کو بند کر دیا۔

پھر کچھ عرصے کے بعد کئی قارئین نے پوچھا کہ ”تفہیمِ اقبال“ کا ہفتہ واری سلسلہ کیوں بند کر دیا گیا ہے، اس کو دوبارہ شروع کریں۔ سو یہ کالم حضرت علامہ کے ان شیدائیوں کی نذر ہے جو اقبال کے غیر سیاسی لیکن ”اساسی موضوعات و افکار“ سے دلچسپی رکھتے ہیں۔

اقبال ایک مشکل پسند شاعر تھے اس لئے ان کا کلام سمجھنا اور اس کے سارے پہلوؤں سے شناسا ہونا کوئی ایسا آسان نہیں۔ ان کی بظاہر آسان اردو نظموں میں بھی فکر و نظر کی اتھاہ گہرائی دیکھی جا سکتی ہے۔ آج کل سوشل میڈیا پر ایسے اشعار بھی کوٹ (Quote) کئے جا رہے ہیں جو ہرگز علامہ کے نہیں۔ مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ یہ حرکت اقبال کے شعری قد و قامت کو کم کرنے کی غرض سے کی جا رہی ہے…… بجائے خود یہ موضوع بھی ایک الگ کالم کا متقاضی ہے…… لہٰذا اس کو چھوڑتے ہیں اور اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ آج کے کالم میں اقبال کی ایک فارسی غزل کی تفہیم اور تشریح مقصود ہے۔جو حضرات فارسی شعر و ادب سے بیگانہ ہیں (اور ان کی اکثریت سے کس ’کافر‘ کو انکار ہے!) ان کے لئے پہلے اس غزل کا سادہ اور سلیس اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے اور پھر اس غزل میں جو اہم موضوعات بیان کئے گئے ہیں اور جن میں ملتِ اسلامیہ کو بالعموم اور ہم پاکستانیوں کو بالخصوص جو پیغام دیا گیا ہے وہ آج کے بارود بھرے سیاسی یا غیر سیاسی حالات کے تناظر میں بہت سبق آموز ہے…… پہلے فارسی غزل اور اس کا اردو ترجمہ اور بعد میں اس سے حاصل ہونے والے اسباق:

1۔ زخاکِ خویش طلب آتشے کہ پیدانیست

تجلّی ء دگرے در خورِ تقاضانیست

(اپنی مٹی سے وہ آگ پھر سے پیدا کر جو بجھ چکی ہے۔ کسی دوسرے سے روشنی کی بھیک مانگنا اچھا نہیں ہوتا۔

……………………

2۔بہ ملکِ جم نہ دہم مصرعِ نظیری را

”کسے کہ کشتہ نہ شد از قبیلہ ء مانیست“

(نظیری کے اس مصرعہ کے بدلے اگر کوئی مجھے سلطنتِ جمشیدبھی دے تو میں لینے کے لئے تیار نہ ہوں کہ ”جو جنگ میں قتل ہوجانا نہ جانتا ہو وہ ہمارے قبیلے سے نہیں“)

……………………

3۔اگرچہ عقلِ فسوں پیشہ لشکرے انگیخت

تو دل گرفتہ نہ باشی کہ عشق تنہا نیست

(اگرچہ آج کل محض عقل کے بل بوتے پر آگے بڑھنے کو ترقی کہا جا رہا ہے اور اگرچہ اس جادوگرنی (عقل) نے بہت سی افواج ہمارے خلاف حملے کے لئے اکٹھی کر لی ہیں لیکن توغم نہ کر۔ ہمارے پاس عشق کا صرف ایک لشکر ہی کافی ہے۔)

……………………

4۔تو رہ شناس نہ ای وز مقام بے خبری

چہ نغمہ ایست کہ در بربطِ سلیمٰی نیست

(تو ابھی موسیقی کی مختلف اصطلاحات کا شعور نہیں رکھتا اور نہ تجھے آلاتِ موسیقی کے مختلف کل پرزوں اور ان سے نکلنے والی دھنوں کی خبر ہے۔ وگرنہ یہ بتا کہ کون سا ایسا نغمہ ہے جو اسلامی موسیقی میں نہیں)۔

……………………

5۔نظربخویش چناں بستہ ام کہ جلوۂ دوست

جہاں گرفت و مرا فرصتِ تماشا نیست

(میں اپنے آپ کے نظارے میں اس قدر محو ہوں کہ محبوب کے نظارے میں اگرچہ ایک دنیا بے خود ہوئی جا رہی ہے لیکن مجھے اس کو دیکھنے کی فرصت نہیں۔)

……………………

6۔بیاکہ غلغلہ در شہر دلبراں فگنیم

جنونِ زندہ دلاں ہرزہ گردِ صحرا نیست

(آج کل محبوب شہروں میں آ بسے ہیں۔صحراؤں والے محبوب ابھی باقی نہیں رہے۔ اور اگر ایسا ہے تو پھر کیوں نہ محبوبوں کے شہروں پر دھاوا بولیں اور ایسا شور و غل برپا کریں کہ شہر کے ہنگامے لرزنے لگیں۔)

……………………

7۔ ز قید و صیدِ نہنگاں حکایتے آور

مگو کہ زورقِ ما روشناسِ دریا نیست

(یہ غم نہ کر کہ تمہاری کشتی نرم و نازک ہے یا حجم میں چھوٹی ہے۔ اسی کشتی کے ساتھ ہم بڑے بڑے مگرمچھوں کو شکار کرتے رہے ہیں۔ کیا تو ان کی کہانیاں بھول گیا ہے؟)

……………………

8۔مریدِ ہمتِ آں رہر وم کہ پانگذاشت

بہ جادۂ کہ درو کوہ و دشت و دریا نیست

(میں اس مسافر کی جرات و استقامت اور ہمت و شہامت کی داد دیتا ہوں اور اس کا مرید ہوں جو ایسی راہوں کی طرف قدم نہیں بڑھاتا جن میں مشکلات اور رکاوٹیں نہ ہوں، پہاڑ اور جنگل نہ ہوں، دریا اور گھاٹیاں اور ایسی ہی دوسری رکاوٹیں نہ ہوں)

……………………

9۔شریکِ حلقہِء رندانِ بادہ پیما باش

حذر ز بیعتِ پیرے کہ مردِ غوغا نیست

(ایسے بادہ نوش صوفیوں کی محفل میں شریک ہو جو پی کر خاموشی اختیار نہ کر لیں بلکہ شور و غل سے آسمان سر پر اٹھا لیں۔ ایسے پیروں فقیروں کی بیعت نہ کر جو پی کر چپ سادھ لیں اور اکڑوں ہو کر بیٹھ جائیں۔)

……………………

10۔برہنہ حرف نہ گفتن کمالِ گویائی است

حدیثِ خلوتیاں جز بہ رمز و ایمانیست

(کسی بات کو الفاظ کے پردے میں لپیٹ کر کہنا گویا گویائی اور تکلّم کا کمال ہے۔ اشارے کنائے اور رمز و ایما کی زبان ہم درویشوں کا شیوہ رہا ہے۔ ہم کھل کر اظہار مدعا کرنے کی بجائے مختلف تشبیہوں، استعاروں اورکنایوں کے استعمال کو بہتر سمجھتے ہیں۔

……………………

یوں تو اقبال کا سارا کلام ہی سیرت اور کردار کی تعمیر کا درس دیتا ہے لیکن اس کی اکثر غزلیں خاص طورپر نہایت بلیغ ہیں۔ اقبال کے ہاں غزل کہنے کا انداز ہیئت کے اعتبار سے روایتی ہے۔ اس نے روایتی الفاظ و تراکیب اور اصطلاحات و تشبیہات سے کام لے کر غیر روایتی مضامین کو جس خوبصورتی سے اپنی فارسی غزلوں میں بیان کیا ہے وہ حد درجہ قابل تعریف ہے۔ اس کی غزلوں کی اکثر بحریں ساز کی بجائے سوز کو ابھارتی ہیں۔ معانی کی گہرائی اور اسلوب کی دلکشی نے اس سوز و ساز میں اضافہ کر دیا ہے۔اب اس غزل میں امت مسلمہ کے جوانوں کو جو اسباق دیئے گئے ہیں وہ یہ ہیں:

1۔ اپنی کھوئی ہوئی شان وشوکت کو دوبارہ حاصل کرو۔ کسی اور کی بیساکھیوں کے سہارے کب تک چلتے رہو گے؟

2۔فارسی کے مشہور و معروف شاعر نظیری کا یہ مصرعی ہمیشہ پیش نظر رکھو کہ جس میں وہ کہتا ہے کہ صرف وہی لوگ ہمارے قبیلے کی رکنیت حاصل کر سکتے ہیں جن کو جہاد و قتال کا شوق ہو۔

3۔اگرچہ ماڈرن ٹیکنالوجی نے دھوم مچا رکھی ہے اور اس بات کا شور برپا ہے کہ یہ سب ایجادات اہل مغرب کی عطا ہیں لیکن تمہیں پتہ ہونا چاہیے کہ محض عقل کے سہارے جو تہذیب ابھرے گی اس کا زوال نوشتہء دیوار ہو گا۔ تو غم نہ کر عشق کا صرف ایک لشکر عقل کے ہزار لشکروں کو شکست دے سکتا ہے۔

4۔اگر ساری نہیں تو بیشتر جدید ایجادات کی ابتداء مسلمانوں کے ہاتھوں سے ہوئی۔ یہ دوسری بات ہے کہ تمہیں اس حقیقت کی خبر نہیں کہ عصر حاضر کی ایجادات کے سازینے میں جو نغمے گونج رہے ہیں وہ سب کے سب بربط سلیمٰی (اسلامی سازینہ) میں پائے جاتے تھے۔

5۔اپنے آپ پر اعتماد رکھ۔ غیروں کو بت بن کر دیکھتے رہنا باعث ننگ ہے۔ اپنے ماضی پر نگاہ ڈال، محنت کر اور کھوئی ہوئی دولت کو پھر سے حاصل کر۔

6۔اگر آج لیلائے سائنس شہری آبادیوں میں آکر بس گئی ہے تو صحرائی لیلیٰ کی تلاش ختم کرکے تم بھی شہروں میں آ بسو۔ مطلب یہ ہے کہ جدید سائنسی علوم کا حصول جہاں سے بھی ملے از بس ضروری ہے۔ صرف ماضی کو سینے سے لگائے رکھنا اور حال کی حقیقتوں کا ادراک نہ کرنا بیوقوفی ہے۔

اس شعر میں ایک اور بلیغ نکتہ بھی ہے۔سارے براعظموں میں صرف براعظم یورپ ایک ایسا براعظم ہے جس میں کوئی صحرا،کوئی ریگستان نہیں، جبکہ مسلمانوں کی ابتداء ہی صحرائے عرب سے ہوئی۔ وہی صحرائے عرب جو شتر بانوں کا گہوارہ کہلاتا تھا!…… میرا ذاتی خیال یہی ہے کہ اقبال نے جگہ جگہ صحرا اور دشت کو شہری آبادیوں پر جو ترجیح دی ہے تو اس کے پیچھے یہی جغرافیائی حقیقت کارفرماہے[

ہوں اگر شہروں سے بن پیارے تو شہر اچھے کہ بن؟

7۔ تہذیب و تمدن اور ایجادات و اکشافات کا تمہارا ورثہ ایک قابل قدر ورثہ ہے۔ اس کو حقیر نہ سمجھ۔

8۔تن آسانی، سہل کوشی اور آرام طلبی کو خدا حافظ کہہ اور سخت جانی، مشقت آزمائی اور جاں گدازی کو اپنا شعار بنا۔

9۔سکوت اور بے عملی کی بجائے ہنگامہ پروری اور حرکیت سے عشق کر۔

مزید : رائے /کالم