مولاناظفر علی خان ؒ

مولاناظفر علی خان ؒ

  



ہزاروں سال نرگس اپنی بے نور ی پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

نابغہئ روزگار، عبقری شخصیت، بابائے صحافت، بطل حریت، عاشق رسول، مبلغِ اسلام، علمبردارِ ختم نبوت، مجاہد آزادی، عظیم شاعر اور ادیب

مولانا ظفر علی خانؒ

قادیانیت کا پوسٹ مارٹم کرکے نبوت کے جھوٹے دعویدار کا پردہ چاک کیا

قادیانیت کے خلاف سید عطا اللہ شاہ بخاری، آغا شورش کاشمیری اور مولانا ظفر علی خانؒ نے بے مثال جدوجہد کی

گوجرانوالہ ڈویژن کی مردم خیز سرزمین نے علامہ اقبالؒ، مولانا ظفر علی خانؒ اور دیوان سنگھ مفتون جیسی شخصیات کو جنم دیا

1974ء میں قادیانیوں کواقلیت قرار دیا جانا مولانا ظفر علی خانؒ کی کوششوں کا تسلسل تھا

حاسد اِن تیرہ باطن کوجلانے کے لئے

تجھ میں اے پنجاب اقبال وظفر پیدا ہوئے

حیدر آباد دکن کے علم دوست اور ادب پرور ماحول میں مولانا ظفر علی خانؒ نے اپنے عہدِ جوانی کے تیرہ سال گزارے

اُردو، فارسی، عربی اور انگریزی زبانوں پر یکساں قدرت رکھتے تھے،ترجمے کے فن سے بھی بخوبی واقف تھے

مقتدر شخصیات آپ کی بہت زیادہ قدر دان تھیں

آپ کی شمولیت نے زمیندار کو چار چاند لگا دیئے

مولانا ظفر علی خانؒ نے مسلم لیگ میں شامل ہو کر قائد اعظمؒ اور دیگر بڑے راہنماؤں کے ساتھ تحریک پاکستان کی جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا

مولانا ظفر علی خانؒ تحصیل وزیر آباد کے گاؤں مہرتھ میں 1873ء بمطابق 1290ء ہجری میں سوہدرہ کے قریب پیدا ہوئے۔ یہ گاؤں سیالکوٹ وزیر آباد ریلوے لائن کے قریب تھا۔ مولانا ظفر علی خانؒ کے والد مولانا سراج الدین احمد خان ایک بلند پایہ علمی، مذہبی، سیاسی، سماجی اور صحافتی شخصیت تھے۔ مولانا ظفر علی خانؒ کا نام پہلے خدا داد رکھا گیا جو بعد میں ظفر علی سے تبدیل کردیا گیا۔ آپ کے دادا کا نام مولوی کرم الہٰی تھا۔ آپ کے آباؤ اجداد راجپوت تھے اور یہ خاندان دریائے جہلم کے کنارے آباد تھا۔ آپ کے جدِ امجد نے اسلام قبول کیا اور بعد میں یہ خاندان دریائے چناب کے کنارے آباد ہوگیا۔ انٹرنس کے امتحان کے بعد مولانا ظفر علی خانؒ نے 1895ء میں ایم اے او کالج علی گڑھ سے جو الہ آباد یونیورسٹی سے ملحق تھا، گریجویشن کا امتحان پاس کیا، یہ ادارہ ایک اقامتی مدرستہ العلوم تھا جہاں انگریز اساتذہ کے ساتھ بلند پایہ ہندوستانی مسلمان اساتذہ بھی تدریسی فرائض سرانجام دیتے تھے۔

مولانا کے اساتذہ میں علامہ شبلی نعمانی اور پروفیسر آرنلڈ بھی شامل تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اساتذہ کرام اپنے باصلاحیت طلبا کی بہترین راہنمائی کرتے تھے اور انہیں عملی زندگی میں کامیابی کے لئے راستے بتایا کرتے تھے۔ کالج میں مشرقی اور مغربی علوم کی تدریس کا اہتمام تھا۔ مولانا ظفر علی شروع ہی سے پابند صوم و صلوٰۃ تھے اور کسی قسم کی اُن سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتے تھے جو نوجوان تفریح سمجھ کر اپنے قیمتی وقت کو ضائع کرتے اور اپنے اعلیٰ کردار پر حرف لے کر آتے ہیں۔ مولانا ظفر علی خانؒ نے نماز کبھی قضا نہیں کی اور نماز کا وقت ہونے تک یادِ الہٰی میں مصروف رہتے تھے۔ مولانا کے ہم عصر طلبا میں مولانا محمد علی جوہر اُن سے ایک سال جونیئر تھے، جبکہ مولانا شوکت علی آپ سے ایک سال سینئر تھے۔ مولانا ظفر علی خانؒ اکبر الہ آبادی کی شخصیت اور شاعری سے بہت متاثر تھے۔ مولانا، اُس زمانے کے عظیم اُردو شاعر داغ دھلوی کی غزلوں کو بھی بہت پسند کرتے تھے اور اُن کے تتبع میں کچھ غزلیات بھی لکھیں لیکن مولانا شبلی نعمانی نے اُنہیں غزل لکھنے سے منع کردیا اور غزل کی شاعری پر ناراضگی کا اظہار کیا، اگرچہ مولانا ایک قادر الکلام شاعر تھے، لیکن استاد محترم کے فرمان پر ایک لمحہ بھی توقف نہیں کیا اور اپنے آپ کو نظم کہنے پر راغب اور محدود کرلیا۔ علی گڑھ کالج میں آپ کے کلا س فیلوز میں بابائے اُردو مولوی عبدالحق، خواجہ غلام الثقلین، میر محفوظ علی، محمد امین زبیری ڈاکٹر سرضیاء الدین شامل تھے جبکہ حسرت موہانی اُن سے جونیئر تھے ایک محفل میں مولانا کے بعض دوستوں نے ایک مغینہ (گلوکارہ) کو مدعو کر رکھا تھا، جس کا مولانا کو علم نہیں تھا جیسے ہی محفل کے آغاز پر مولانا کو اِس صورت حال کا اندازہ ہوا تو وہ اس محفل کو خیر باد کہہ کر چلے گئے اور اس پر اپنی بھرپور ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ دوستوں نے بڑی مشکل سے آپ کی ناراضگی کو ختم کیا۔

علی گڑھ کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد جب عملی زندگی کا مرحلہ شروع ہوا تو مولانا شبلی نعمانی نے نواب محسن الملک کو ظفر علی خانؒ کی خدا داد صلاحیتوں سے آگاہ کرتے ہوئے ظفر علی خانؒ کو بطور پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر اپنے ساتھ وابستہ کرنے کامشورہ دیا۔ نواب محسن الملک اُس دور میں بمبئے میں قیام پذیر تھے، چنانچہ مولانا ظفر علی خانؒ بھی اُن کے ہمراہ ایک سال تک بمبئی (BOMBAY) میں رہے اور بعد ازاں حیدر آباد دکن چلے گئے، جہاں کے علم دوست اور ادب پرور ماحول میں مولانا ظفر علی خانؒ نے اپنے عہدِ جوانی کے تیرہ سال گزارے۔ چونکہ مولانا ظفر علی خانؒ اُردو، فارسی، عربی اور انگریزی زبانوں پر یکساں قدرت رکھتے تھے اور ترجمے کے فن سے بھی بخوبی واقف تھے، جبکہ اپنی گھریلو تربیت اور علی گڑھ کالج کی تربیت کے باعث تمام اخلاق و اطوار، وضع داری، تحمل اور برداشت کے ہنر سے بھی متصف تھے، اِس لئے آپ حیدر آباد دکن کے علمی حلقوں میں بے پناہ ہر دلعزیز تھے اور مقتدر شخصیات بھی آپ کی بہت زیادہ قدر دان تھیں۔ آپ نے دکن سے ”دکن ریویو“ کا بھی اجرا کیا۔ دکن کو آپ نے اپنے ثانوی وطن کا درجہ دیا تھا، لیکن بعض ناخوشگوار واقعات اور حاسدوں کی کینہ پروری و سازش نے آپ کو دکن چھوڑنے پر مجبور کردیا اور آپ نے سال 1909ء میں دوبارہ پنجاب کا رُخ کیا، جہاں آپ کے والد ماجد مولانا سراج الدین احمد خانؒ نے آپ کوزمیندار کی مجلسِ ادارت میں شامل کرلیا اور آپ کی شمولیت نے زمیندار کو چار چاند لگا دیئے۔ مولانا سراج الدین احمد خانؒ کے دور میں ”زمیندار“ کی تعداد اشاعت چھ سات سو سے زیادہ نہ تھی، لیکن ظفر علی خانؒ کی شمولیت کے بعد اس تعداد میں معتدبہ اضافہ ہوتا چلا گیا۔ جہاں تک زمیندار کا تعلق ہے، مولانا سراج الدین نے اس کا اجرا یکم جون 1903ء کو کیا تھا اور وہ اسے ہفتہ وار کے طور پر شائع کرتے تھے۔مئی 1911ء میں زمیندار کا اجرا کرم آباد سے منتقل ہوکر لاہور سے ہوگیا اور اسے بتدریج ہفتے میں دو روز شائع کیا جانے لگا۔ آہستہ آہستہ اس کا دائرہ وسیع تر ہوتا چلا گیا۔

مولانا ظفر علی خانؒ ایک ایسی نابغہئ عصر شخصیت تھے کہ ان کی مصروفیات سرگرمیوں اور جدوجہد کا دائرہ بے حد وسیع تھا۔ 1906ء کا شملہ وفد ہویا 30دسمبر 1906ء کو مسلم لیگ کا قیام، سانحہئ کانپور ہو یا برصغیر کی کوئی بھی تحریک اس میں مولانا کا کردار روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ وہ اپنے عشق رسول اور ملت اسلامیہ کی سربلندی کے لئے اپنا کرداراس طرح ادا کرتے کہ وہ اپنے قلم سے اِن تحریکوں کو ایک جنگ کا درجہ دے دیتے تھے اور خوداس جنگ کے سپہ سالار بن جاتے تھے۔

جب برصغیر کے متعصب ہندوؤں نے شدھی اور سنگھٹن کے فتنے پیدا کئے تو مولانا ظفر علی خانؒ نے اپنی پوری قوتِ ایمانی سے ان فتنوں کا مقابلہ کیا۔ اسی طرح تحریک خلافت کی راہنمائی کے سلسلے میں مولانا ظفر علی خانؒ نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا لیکن 1924ء میں ترکی والوں نے ہی خلافت کا منصب ختم کردیا اور برصغیر پاک و ہند کے مسلمان اس صورت حال کو دیکھتے ہی رہ گئے۔ تحریک ترکِ موالات میں بھی مولانا ظفر علی خانؒ نے اپنا بھرپور سیاسی و صحافتی کردار ادا کیا اور اس موضوع پر اپنے موقف کا اظہار ”زمیندار“ کے ذریعے کیا۔

مولانا ظفر علی خانؒ کے والد ماجد مولانا سراج الدین احمد خانؒ کا انتقال 6دسمبر 1909ء کو ہوا، جس کے بعد ظفر علی خانؒ نے زمیندار کی ادارت سنبھالی۔ یکم جنوری 1910ء کے زمیندار میں انہوں نے اپنے احوال و کوائف تحریر کئے۔ مولانا ظفر علی خانؒ دکن میں ایک ادیب اور شاعر کی حیثیت سے اُبھرے، اس دوران پنجاب اور لاہور سے اُن کے قلبی مراسم رہے۔ جب پنجاب واپسی کا مرحلہ درپیش ہوا تو براستہ بمبئی لاہور آئے۔ مولانا ظفر علی خانؒ کی زندگی کے بعض اہم واقعات میں نواب محسن الملک کی وفات کا واقعہ بھی ہے جو 1907ء میں ہوئی۔ 1907ء میں ہی دکن میں ایک تھیٹر کا انعقاد کیا گیا، جس کی مولانا نے سخت مخالفت اور اس پر کڑی تنقید کی۔

جولائی 1914ء میں دنیا بھر میں پہلی جنگ عظیم کا آغاز ہوا جو نومبر 1918ء میں اختتام پذیر ہوئی۔ ابھی نومبر 2018ء میں یورپی ممالک میں اس جنگ کے خاتمے کی سوسالہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے۔برصغیر پاک و ہند کے سیاسی و سماجی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے مولانا ظفر علی خانؒ اس بات کو بھانپ گئے تھے کہ تمام ہندو مسلم اختلافات انگریزوں کے پیدا کردہ ہیں اور وہ ”نقسیم کرو اور حکومت کرو“۔DIVIDE AND RULEکی پالیسی پرگامزن ہیں وہ مسلمانوں کے مقابلے میں سرکاری ملازمتوں میں ہندوؤں کو اس لئے زیادہ اہمیت دیتے ہیں کہ مسلمان ہندوؤں سے بدظن ہو جائیں۔ انگریزوں کی یہ بدنیتی اُس وقت کھل کر سامنے آگئی جب 1947ء میں تقسیم برصغیر کے وقت کشمیر، حیدر آباد دکن، جوناگڑھ، گورداس پور اور مسلم اکثریت کے بے شمار دوسرے علاقے مسلمانوں کی بجائے ہندوؤں کو دے دیئے گئے جو اب تک پاکستان اور بھارت میں اختلافات اور جنگوں کی بڑی وجہ بنے ہوئے ہیں۔ دراصل انگریزوں اور مسلمانوں کا باہمی تعلق فاتح اور مفتوح کا تھا، انگریزوں نے ہندوستان کو فتح کیا تھا اور مسلمان مغلوب ہوگئے تھے۔ انگریزوں نے 1857ء سے 1947ء تک مسلمانوں کے ساتھ یہی تعصب برقرار رکھا۔ مولانا ظفر علی خانؒ نے مسلم لیگ میں شامل ہو کر قائد اعظمؒ اور دیگر بڑے راہنماؤں کے ساتھ تحریک پاکستان کی جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا۔ 1937ء سے 1947ء تک مولانا ظفر علی خانؒ نے مسلم لیگ کے جسد میں ایک نئی روح پھونک دی اور مسلمانانِ برصغیر کو پاکستان کی منزل تک پہنچانے کے لئے شبانہ روز محنت کی۔ وہ 1940ء میں مسلم لیگ کے اُس تاریخی جلسہ میں شامل تھے جس میں قرار داد پاکستان پیش کی گئی۔ انہوں نے قرار داد پاکستان اور دیگر ضروری تقاریر کا اُردو ترجمہ فی البدیہہ طور پر پیش کیا۔ حضرتِ قائد اعظمؒ، علامہ اقبالؒ اور نوابزادہ لیاقت علی خانؒ، مولانا ظفر علی خانؒ کی بے مثال جدوجہد کے بے حد قدر دان تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ بزرگ ترین راہنماؤں کے ساتھ ساتھ مولانا ظفر علی خانؒ کی شخصیت اپنی مثال آپ تھی۔

چونکہ مولانا ظفر علی ایک بہت بڑے عاشق رسولؐ تھے، جب غازی علم الدین شہید کی شہادت کا مرحلہ آیا تو مولانا نے اس موقعہ پر اپنی شاعری کے ذریعے دنیا بھر کے ضمیر کو بیدار کرنے کی کوشش کی۔ جب برصغیر کی آزادی کے جرم میں بھگت سنگھ کو پھانسی دی گئی تو مولانا ظفر علی خانؒ نے اُس وقت بھی ایک فعال کردار ادا کیا۔

رسولِ اکرمؐ کی ختمِ نبوت اور ختم رسالت کا مسئلہ مولانا کی غیرتِ ایمانی کا مسئلہ تھا جس پر انہوں نے ”زمیندار“ کے صفحات کو وقف کررکھا تھا اور آپ نے اس موضوع پر سینکڑوں نظمیں اور ہزاروں اشعار کہے جو آپ کے مجموعہ ”ارمغانِ قادیاں“ میں شامل ہیں۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی طویل جدوجہد آزادی اور تحریک پاکستان کے دوران مسلمان قوم کو بہت سے نشیب و فراز کا سامنا کرنا پڑا کہیں منافقت اور تعصب پر مبنی موہن داس، کرم چندگاندھی اور جواہر لال نہرو کی سیاست تھی تو کہیں مولانا ظفر علی خانؒ جیسے راہنماؤں کے لئے قیدو بند اور اخبار کی بندش کی سزائیں تھیں آج جب ہم ٹیلی وژن چینلز کے ٹاک شوز میں بعض لوگوں کی خرافات اور گالی گلوچ سے لبریز بیانات سنتے ہیں تو ہمیں وہ بلند مرتبہ لیڈر نظر آتے ہیں، جنہیں مخالفین اور دشمنوں سے بھی بات کرنے کا سلیقہ تھا۔

حضرت علامہ اقبالؒ نے جس طرح خواب غفلت میں مبتلا مسلمان قوم کو بیدار کرکے پاکستان کا تصور دیا اور مولانا ظفر علی خانؒ نے قائد اعظمؒ کی قیادت میں اس خواب کو عملی جامہ پہنایا تو یہ ساری جدوجہد ایک لازوال اور بے مثال جدوجہد ہے۔ دس لاکھ سے زائد مسلمانوں نے اس مملکت خدا داد پاکستان کے قیام کے لئے نہ صرف ہجرت کے دُکھ جھیلے بلکہ جانوں کا نذرانہ پیش کیا، خواتین کی عصمتوں کو لوٹا گیا۔ ہندوستان میں مقیم مسلمانوں کواپنا گھر بار، اعزہ واقربا اور اپنی وسیع جائیدادیں چھوڑ کر ایک نوزائیدہ مملکت کی طرف آنا پڑا۔ راستے میں موت اور ظلم و ستم کے پہرے تھے۔ مسلمانوں کے اِس دُکھ کو محسوس کرکے اُسے اپنے شعروں کے قالب میں جس طرح ڈھالا وہ مولانا ظفر علی خانؒ تھے۔

1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد سرسید احمد خانؒ نے رِسالہ اسباب بغاوت ہند لکھ کر انگریزوں کو مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم اور نانصافیوں سے آگاہ کیا۔

1885ء میں جب کانگریس کا قیام عمل میں آیا تو مسلمان راہنماؤں اور سیاستدانوں کو بھی اُمتِ مسلمہ کی بہتری کے لئے اقدامات کرنے کا خیال آیا۔ 1898ء میں جب سرسید احمد خان کا انتقال ہوا تو برصغیر کے مسلمانوں کی سیاست کا چلن بدلنا ضروری ہوگیا تھا۔ اندریں حالات 1906ء میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا۔ ان سارے مراحل میں مولانا ظفر علی خانؒ اپنی کوششوں کے ساتھ سرگرم عمل اور پیش پیش تھے۔

1880ء میں البرٹ بل پیش ہوا، جس کے ذریعے گورے اور کالے کی تفاوت دور کرنے کی کوشش کی گئی۔

سرسید احمد خانؒ نے 28دسمبر 1887ء کو محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے اجلاس میں ایک پرمغز لیکچر دیا۔ مولانا ظفر علی خانؒ ان تمام معاملات میں اپنے آپ کو ساری صورت حال سے مُنسلک رکھتے تھے۔ چونکہ ملک پر انگریزوں کی حکومت تھی، اس لئے علی گڑھ کے فارغ التحصیل نوجوان دیسی ریاستوں کی ملازمتوں کو ترجیح دیتے تھے۔

مولانا ظفر علی خانؒ کے منتخب اشعار

رب العالمین

عصر تیری عطاؤں پر نہیں پڑتا خطاؤں کا

جسے پیدا کیا اُس کو دیا ہے آب و ناں تونے

حمد باری تعالیٰ

مجال چون و چرا کی تیری حضوری میں

نہیں کسی کو وہ جاہل ہو یا کہ ہوعلام

آوازہئ حق

ہم کو دیا ہے پیغام عرب نے ایک خدا اور ایک رسول

اب نہیں ایسی کوئی دعا جو آتے ہی لب پر ہو نہ قبول

مقامِ حیرت

میرے کس کام میری دانش مشکل کشا آئی

سمجھ تیری ذرا مجھ کو نہ اے میرے خدا آئی

میدانِ عرفات میں میری مناجات

پھر لگا یا رب میرے دل میں وہ اگلی سی لگن

میرے سر کو جذبہئ توحید سے سرشار کر

رحمۃ للعالمین

وہ اُٹھا خاکِ بطحا سے سعادت کا امیں ِ ہوکر

علم بردار حق، بن کے سپہ سالارِ دیں ہو کر

صاحب معراج

لائے براق جبرائیل کس لئے اس کے واسطے

ہوتی تھی جس کی رات گنبد عرش پہ نماز

شہید کربلا

حسین ابن علیؓ نے کی ہے قائم اک مثال ایسی

کہ تقلید اُس کی تقدیر حیاتِ جاودانی سے

شانِ اسلام

صدیقؓ ہوئے تصدیق میں ہم فاروقؓ بنے تفریق میں ہم

ایماں طلبی میں بوذر ہیں خیبر شکنی میں صفدر ہیں

توکل

خُدا اپنے بندوں سے غافل نہیں ہے

نہ بُھولا جو تجھ کو نہ بُھول اس کو تو بھی

سرنگا پٹم

اے سرنگا پٹم اے گنج شہیدانِ کرام

آخری وقت میں اسلام کی غیرت کی نمود

نماز

پڑھتے نہیں ہیں قوم کے لیڈر نماز کیوں

کھویا گیا ہے قوم سے یہ امتیاز کیوں

متفرق اشعار

نُورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائیگا

٭٭٭

خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

٭٭٭

تہذیبِ نَو کے مُنہ پہ وہ تھپڑ رسید کر

جو اِس حرام زادی کا حُلیہ بگاڑ دے

٭٭٭

نکل جاتی ہو سچی بات جسکے منہ سے مستی میں

فقیہہ مصلحت بیں سے وہ رند بادہئ خوار اچھا

٭٭٭

سلیقہ مَے کشی کا ہو تو کرسکتی ہے محفل میں

نگاہ لطف ساقی مفلسی کا اعتبار اب بھی

مزید : ایڈیشن 1