مہنگائی کی دہائی کون سنے گا؟ 

مہنگائی کی دہائی کون سنے گا؟ 

  



ملک بھر میں عام آدمی نے مہنگائی پر بانہیں سر پر رکھی ہوئی ہیں۔ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے جملہ اقدامات ٹھوس نتائج دینے سے قاصر رہے ہیں۔ جوں جوں عام آدمی کا عرصہ حیات تنگ ہو رہا ہے توں توں عوام میں مایوسی پھیلتی جارہی ہے اور حکومت کے لئے اپنی سیاسی ساکھ کو سنبھالا دینا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں مولانا فضل الرحمٰن کا آزادی مارچ تازہ ہوا کا جھونکاثابت ہوا ہے اور انہیں عوام کی خاموش تائید حاصل رہی ہے۔ عام آدمی تبدیلی چاہتا ہے تاکہ ملک میں معاشی سرگرمیاں بحال ہوں اور مہنگائی سے چھٹکارا حاصل ہو سکے۔

سوال یہ ہے کہ ملک میں مہنگائی کی دہائی کون سنے گا؟ کیا سپریم کورٹ کو اسی طرح مہنگائی کا نوٹس لینا چاہئے جس طرح سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے چینی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف سوؤ موٹو نوٹس لیا تھا۔ اگر ایسا ہوا تو حکومت کے لئے مزید مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں اور اس کی سیاسی حدود مزید سکڑ سکتی ہیں۔

وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر نے کہا ہے کہ ہمارے دورحکومت میں مہنگائی بڑھی تاہم اس کی ذمہ دار گزشتہ حکومتوں کی ناقص پالیسیاں ہیں‘مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے نیا طریقہ کار بنا رہے ہیں‘آڑھتیوں پر بھی ہاتھ ڈالیں گے‘ دسمبر تک گردشی قرضہ کو صفر تک لایا جائے گا‘ ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل جاری ہے اور ادارہ سے ملازمین کو فارغ کرنے کا کوئی منصوبہ یاارادہ نہیں ہے‘ہم بیرونی قرضوں کی واپسی کے تمام ریکارڈ توڑیں گے‘ حکومت نے گزشتہ سال دس ارب ڈالر کا غیرملکی قرضہ اتارا، رواں سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 65فیصدکمی آئی جس کے باعث آئندہ مہینوں میں مہنگائی میں کمی ہوگی۔احتجاج کرنے والی پارٹیوں کے دور میں مہنگائی زیادہ بڑھی تھی،سندھ حکومت نے گندم کی خریداری نہیں کی جس وجہ سے آٹے کی قیمت میں اضافہ ہوا‘بیرونی سرمایہ کاری میں 137فیصداضافہ ہوا ہے۔

مشیرتجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ مہنگائی بہت بڑا مسئلہ ہے جسے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن مہنگائی کم کرنے کا کوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتے جبکہ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہناہے کہ حکومت کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ تمام لوگوں کو سرکاری اداروں میں نوکریاں دے سکے۔ایکسچینج ریٹ نارمل اورمستحکم ہوچکا ہے‘اس میں اتار چڑھاؤ ٹل گیا ہے‘کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پہلی بار سرپلس ہوگیا ہے۔اشیائے خورودنوش کی قیمتیں جلد کنٹرول میں آجائیں گی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کیلئے مالیاتی پالیسی کا اعلان کردیا جسکے تحت شرح سود کو 13.25 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے۔مرکزی بینک کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی کی موجودہ لہر آئندہ مہنگائی میں کمی کے امکان کو متاثر کرسکتی ہے،کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کی اہم وجہ ہے، اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ معیشت سست روی کا شکار ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 73 اعشاریہ 5 فیصد کمی آئی ہے۔اہم زرعی پیداوار تخمینوں کے مطابق جبکہ کپاس کی پیداوار ہدف سے کم رہنے کا امکان ہے، معیشت کی سست روی کے باعث نجی شعبے کے قرضوں میں 4 اعشاریہ 1 فیصد کمی ہوئی ہے، بزنس کے لیے ماحول میں بہتری آئی ہے، مہنگائی کی شرح 5? سے 7? کی کی حد پر لانے کیلئے آئندہ چوبیس مہینے مناسب ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق مہنگائی بلندی کی جانب گامزن ہے جبکہ غذائی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے،تاہم متوقع طور پر یہ اثرات عارضی ہوسکتے ہیں اور مالی سال20 کے لیے اوسط گرانی کا اسٹیٹ بینک کا 11 سے 12 فیصد پر تخمینہ بڑی حد تک برقرار رہا ہے۔مرکزی بینک کے مطابق ایک طرف، مہنگائی بلندی کی طرف مائل ہے۔ 

دوسری طرف، غذائی قیمتوں میں ہونے والے اضافے اس بلندی کے پس پردہ بنیادی اسباب ہیں جو متوقع طور پر عارضی ہیں۔ جاری کھاتے میں مستحکم بہتری اور مالیاتی دْور اندیشی کے تسلسل کی بنا پر مارکیٹ کے احساسات بتدریج بہتر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اعتمادِ کاروبار کے تازہ ترین سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ کاروباری ادارے مستقبل قریب میں مہنگائی میں کمی کی توقع کر رہے ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ غذائی قیمتوں میں حالیہ اضافوں کے باوجود مہنگائی کی توقعات مستحکم رہیں گی۔ 

مسائل اور بھی بہت ہیں مگر مہنگائی نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس لئے کھانے پینے کی چیزوں سمیت روز مرہ استعمال کی تقریباً تمام اشیا کی روز بروز بڑھتی ہوئی قیمتوں، جو اب غریبوں کے علاوہ متوسط طبقے کی رسائی سے بھی باہر ہو چکی ہیں، کے خلاف ہر طرف چیخ و پکار ہو رہی ہے۔ گراں فروشی روکنے کے لئے وزیراعظم کی ہدایات بھی بیاثر ہو گئی ہیں۔ انتظامیہ کے مقرر کردہ نرخ بری طرح پٹ گئے ہیں چھاپوں، سزاؤں اور جرمانوں کے باوجود آٹے، دال، گوشت، سبزیوں اور پھلوں وغیرہ کے من مانے نرخ وصول کئے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ 

ہے کہ مہنگائی کے ذکر پر کوئی عذر لنگ تراشنے کے بجائے حکمران بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ گرانی نے لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ ایک تقریب میں شرکاء کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اعتراف کیا کہ عوام مہنگائی سے بہت پریشان ہیں۔ مہنگائی دراصل ملک کی مجموعی معاشی صورتحال میں پیدا ہونے والی خرابیوں اور کمزوریوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے صدر مملکت کی نظر میں ماضی کی کرپشن اور غلط فیصلوں کی وجہ سے جنم لیا، دونوں کا حصہ پچاس پچاس فیصد ہے۔ تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ پی ٹی آئی کی حکومت اس صورتحال پر قابو پا لے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی ترقی کے لئے سیاسی استحکام اور ملکی مفادمیں حکومت اور اداروں کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے۔ اُنہوں نے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ سیاسی ماحول کو بہتر بنایا جائے۔ یہ بھی کہا کہ عمران خان کے آنے کے بعد خارجہ محاذ پر ہم نے اچھی خاصی پیش رفت کی تاہم ملکی سطح پر خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے۔ اسی تقریب میں گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے بھی اظہار خیال کیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ معاشی ترقی کی شرح کم ہو گئی ہے لیکن غیر ملکی سرمایہ آرہا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں، درآمدات کی وجہ سے متاثرہ شعبے بہتر ہو رہے ہیں، معاشی حالات اب بہتری کی جانب گامزن ہیں اور امید ہے کہ عوام کو جلد مزید خوش خبریاں ملیں گی۔ رضا باقر نے کراچی ایوانِ صنعت و تجارت سے خطاب میں بھی معیشت کی بہتری کی نوید سنائی اور کہا کہ ٹیکسٹائل کی صنعت میں بھی بہتری آرہی ہے۔ اس سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمد میں اضافہ ہوگا۔ اس امر میں شک و شبے کی کوئی گنجائش نہیں کہ وزیراعظم عمران خان کی معاشی ٹیم اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ زبوں حال ملکی معیشت کی بحالی کے لئے سرگرمی سے کام کر رہی ہے لیکن اقتصادی ڈھانچے میں غیر روایتی تبدیلیوں کے مثبت اثرات یک لخت نہیں بلکہ بتدریج ظاہر ہونگے۔ فی الوقت حکومت کا ہدف کرنٹ خسارے سے نجات حاصل کرنا تھا۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے مطابق اس خسارے میں پہلے ہی 63فیصد کمی آچکی ہے اور برآمدات میں 3.8فیصد اضافہ ہوا ہے۔ آئی ایم ایف نے ٹیکس وصولی کا جو ہدف مقرر کیا تھا مشیر خزانہ نے توقع ظاہر کی ہے کہ ٹیکس ریونیو اس سے زیادہ حاصل کر لیا جائے گا۔ حکومت ترقیاتی کاموں پر بھی توجہ رہی ہے۔ مختلف وزارتوں اور محکموں کی وزیراعظم کو پیش کی جانے والی رپورٹ کے مطابق، عوامی فلاح و بہبود کے 35منصوبوں پر عملدرآمد ہو چکا ہے جبکہ 28پرکام جاری ہے اس کے علاوہ سنٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے 272ارب 70کروڑ روپے کے 13بڑے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی ہے۔ روزگار کے مواقع بہتر ہو رہے ہیں اور ضروری اشیا کی قلت کی وجہ سے مہنگائی میں ہر سال جو اضافہ ہو جاتا ہے اسے بھی کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ ان اقدامات سے معیشت میں بہتری آئے گی جس سے گرانی جیسے مسائل بھی حل کرنے میں مدد ملے گی۔

تحریک انصاف کے وزراء نے مہنگے ٹماٹر پر دلچسپ نوعیت کے بیانات اور مشورے دیے ہیں، ان کے بیانات پر سوشل میڈیا صارفین کے تبصرے اور تنقید کا بازار گرم رہا۔پی ٹی آئی وزراء اور مشیر خزانہ کے جن بیانات کے خوب چرچے رہے، ان میں ملک میں ٹماٹر 17 روپے کلو میں دستیاب ہے، مہنگائی کا فائدہ ہمارے کسان بھائیوں کو ہوا اور ٹماٹر کی جگہ دہی استعمال کرنے مشورہ شامل ہے۔

ٹماٹر سے متعلق حکمران جماعت تحریک انصاف کے وزراء اور مشیران کے بیانات پر سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے انہیں معاشیات کے نوبل انعام کے لیے تجویز کردیا ہے۔مہنگائی میں اگرچہ سبزیاں بھی عوام کی پہنچ سے دور ہیں، مہنگائی سے نمٹنے کیلیے حکومتی وزراء نے کام کرنے کے بجائے مفت مشورے بانٹنا شروع کردیے ہیں۔

سوشل میڈیا اور عام محفلوں میں سب سے زیادہ چرچا وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور کا ہے، جنہوں نے مہنگائی کی بھی انوکھی منطق پیش کی اور مثبت پہلو ڈھونڈ لائے۔عوام ابھی علی امین گنڈا پور کے بیان کے سحر سے نکلے ہی نہ تھے کہ خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے ٹماٹروں کی قلت کا زبردست توڑ پیش کردیا۔چند روز پہلے وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کے مٹر پانچ کلو بتانے پر میڈیا بریفنگ میں سوالات کی ایسی بھرمار ہوئی جیسے کسی سیل پر لوگ سستی اشیا کے لیے ٹوٹ پڑے ہوں۔

وزیراعظم کا نئے پاکستان کا تصور ریاستِ مدینہ کی طرز پر ایسی مملکت کی تشکیل ہے جہاں امیر و غریب سب کے ساتھ برابری کا سلوک ہو، سب کو یکساں اور تیز تر سماجی و معاشی انصاف ملے۔ معاشرہ نفرتوں اور تعصبات سے پاک ہو، جمہوری آزادیوں کا احترام کیا جائے۔ مکمل داخلی امن و استحکام ہو اور بیرونی دنیا سے برابری اور باہمی مفاد کی بنیاد پر بہترین تعلقات استوار ہوں۔ اس مقصد کے لئے خود حکومت کو بھی بعض ذمہ داریاں نبھانا پڑیں گی۔ ملک میں اس وقت مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہے اس کا سدباب کرنا ہو گا۔ بجلی و گیس کے نرخ اور ٹیکس بڑھائے جا رہے ہیں جبکہ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ حکومت نئے ٹیکسوں کے نفاذ اور ٹیکسوں کی شرح بڑھائے بغیر بھی ٹیکس آمدنی 82ارب ڈالر تک بڑھا سکتی ہے۔ ایسے میں غریب عوام پر مالی بوجھ بڑھانے کی بجائے ماہرین کے پیشہ ورانہ مشوروں سے فائدہ اٹھایا جائے ٹیکس چوری روکنے کے لئے قانونی کمزوریوں کو دور کیا جائے، ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے اور وصولیوں کے لئے ہونے والے غیر ضروری اخراجات پر قابو پایا جائے، وزیراعظم جلد غصے میں آنے کا بھی ٹھنڈے دل سے جائزہ لیں انہوں نے مغلوب الغضب ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ بہتر ہوگا کہ وہ سیاسی حریفوں کے بارے میں اپنا لہجہ نرم کریں سخت باتیں کہنے اور مذاق اڑانے سے گریز کریں تاکہ سیاسی حالات پرسکون اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے فضا سازگار ہو سکے۔

تصاویر

وزیر اعظم نواز شریف

وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ 

وفاقی وزیر حماد اظہر

آئی ایم ایف

ٍٍ بے رونق بازاروں کی تصویر

سرخیاں 

کیا سپریم کورٹ کو مہنگائی کا نوٹس لینا چاہئے؟

صدرِ مملکت نے اعتراف کیا کہ عوام مہنگائی سے بہت پریشان ہیں 

وزراء نے مہنگے ٹماٹر پر دلچسپ بیانات اور مشورے دیے ہیں 

مزید : ایڈیشن 1