پاکستان میں سرمایہ کاری کرنیوالی جرمن کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کی جائیگی

پاکستان میں سرمایہ کاری کرنیوالی جرمن کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کی جائیگی

  



فیصل آباد (بیورورپورٹ) جرمنی کی تیس کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان موجودہ تجارتی حجم کو بڑھانے کیلئے مزید جرمن سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور اس سلسلہ میں آئندہ سال 2سے3تجارتی وفود پاکستان کا دورہ کریں گے ۔ یہ بات پاکستان میں جرمنی کے سفیر برنارڈ شجلاہک نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں بزنس کمیونٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اس اجلاس میں آل پاکستان بیڈ شیٹس اینڈ اپ ہولسٹری ، آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن، پاکستان ہوزری مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ، پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن سمیت کئی دیگر تجارتی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی ۔ انہوں نے بتایا کہ تین ماہ پہلے ہی وہ پاکستان آئے ہیں اور وہ چاہتے تھے کہ پہلی فرصت میں فیصل آباد کا دورہ کیا جائے جسے پاکستان کی معیشت میں کلیدی اہمیت حاصل ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ دوہفتے قبل ہی انہوں نے لاہور کے دورہ میں حکومتی ، سرکاری حکام اور پارلیمانی ارکان کے علاوہ سرکردہ تاجروں اور صنعتکاروں سے بھی ملاقات کی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی تاجروں سے براہ راست رابطوں کیلئے انہوں نے پنجاب کا دورہ کیا اور اب یہ ضروری تھا کہ فیصل آباد کی بزنس کمیونٹی سے بھی رابطے بڑھائے جائیں ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ روز فیصل آباد آئے تھے اس دوران انہوں نے چند ٹیکسٹائل یونٹوں کا دورہ کرنے کے علاوہ نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی اور جامعہ زرعیہ کا بھی دورہ کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھانا چاہتے ہیں اور اس سلسلہ میں پیش رفت بھی ہوئی ہے مگر روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے اس کے اثرات نظر نہیں آرہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ موجودہ حکومت برآمدات بڑھانے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں جو بڑی کمپنیاں کام کر رہی ہیں وہ زیادہ تر کراچی اور لاہور میں ہیں جبکہ محض چند اسلام آباد تک محدود ہیں ۔ ایس ایم ای سیکٹر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جرمنی کا یہ شعبہ بہت کامیاب مگر کنزرویٹو ہے ۔ ان کی کوشش ہو گی کہ وہ اس شعبہ سے تعلق رکھنے والوں کو پاکستان لے کر آئیں ۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ سال ٹیکسٹائل اور کیمیکل سے متعلقہ جرمنی کے دو وفود پاکستان آئیں گے جبکہ قابل تجدید توانائی کے بارے میں بھی ایک وفد کو پاکستان لانے کی کوشش کی جائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ ان وفود کے ذریعے دونوں ملکوں کے ایس ایم ای سیکٹرز کے درمیان رابطوں کو بڑھانے کی کوشش کی جائے گی ۔ انہوں نے ایس ایم ای سیکٹر کو ہی ملکی معیشت کی ترقی کا انجن قرار دیا اور کہا کہ توقع ہے کہ ان رابطوں سے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارتی تعلقات میں مزید اضافہ ہو گا ۔ انہوں نے پاکستان سے جرمنی کیلئے برآمدات کو بڑھانے کے سلسلہ میں کہا کہ اس سلسلہ میں جرمنی میں پاکستانی سفیر کے تعاون سے جرمن کے اہم چیمبرز میں سرمایہ کاری کیلئے سیمینار منعقد کرائے جاسکتے ہیں ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں اپنے بھر پور تعاون کا بھی یقین دلایا ۔ انہوں نے ماحولیات، صحت گڈ گورننس اور خاص طور پر ووکیشنل ٹریننگ کے شعبہ میں بھی جرمنی کے تعاون کا ذکر کیا اور بتایا کہ انہوں نے خواتین کو پاکستانی معیشت کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے حوالے سے آج ہی نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی اور جامعہ زرعیہ کے حکام سے بات چیت کی ہے ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں مقامی سوساءٹی کو سازگار ماحول پیدا کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جرمنی میں ووکیشنل اور عملی تربیت پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے اس سلسلہ میں فیصل آباد کی یونیورسٹیوں سے فیکلٹی کے تبادلوں پر بات چیت ہو سکتی ہے ۔ ویزوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں فوری یقین دہانی نہیں کرا سکتے تاہم ان کی کوشش ہو گی کہ آئندہ ملاقات میں اس حوالے سے کم شکایت ہو ۔ جرمنی کے شعبہ اکنامک کے سربراہ مارٹن ہرزر نے بھی خطاب کیا اور پاکستان اور جرمنی کے درمیان دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کیلئے کی جانے والی کوششوں کا ذکر کیا ۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے قائم مقام صدر ظفر اقبال سرور نے فیصل آباد اور فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے بارے میں بتایا اور کہا کہ اگرچہ ٹیکسٹائل فیصل آباد کی شناخت ہے مگر دیگر شعبے بھی پاکستان کی سماجی اور معاشی ترقی میں اپنا بھر پور حصہ ڈال رہے ہیں ۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جرمنی کی 3ارب یورو کی درآمدات کے برعکس اس ملک کیلئے پاکستان کی برآمدات صرف 1;46;3ارب یورو ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ سی پیک نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی نئی راہیں کھول دی ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کیلئے جرمنی کے ادارے قابل تجدید توانائی، ٹیکسٹائل مشینری کی تیاری، آٹو موبائل ، کیمیکل انجینئرنگ اور دیگر متعلقہ شعبوں میں براہ راست سرمایہ کاری کریں تاکہ تجارتی تعلقات کو برابری کی سطح پر لانے کے ساتھ ساتھ یہ ادارے وسط ایشیائی ریاستوں کو بھی اپنی برآمدات کر سکیں ۔ اس سے قبل فیصل آباد اور فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری بارے ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی ۔ سوال و جواب کی نشست میں ڈاکٹر حبیب اسلم گابا، انجینئر احمد حسن ، فیصل آباد وومن چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی صدر محترمہ قراۃ العین ، محترمہ روبینہ امجد، ڈاکٹر سجاد ارشد، عمران احمد، نوید گلزار اور دیگر ممبروں نے بھی حصہ لیا ۔ آخر میں عمران احمد نے قائم مقام صدر ظفر اقبال سرور کے ہمراہ جرمن سفیر کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی شیلڈ پیش کی ۔ جبکہ انجینئر عاصم منیر نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔ آخر میں اجلاس کے شرکاء نے جرمن سفیر کے ہمراہ گروپ فوٹو بھی بنوایا ۔

مزید : کامرس