ویٹرنری یونیورسٹی‘ دودھ دینے والے جانوروں کی صحت کے موضوع پر سپوزیم

ویٹرنری یونیورسٹی‘ دودھ دینے والے جانوروں کی صحت کے موضوع پر سپوزیم

  



لاہور(پ )یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور کے ڈیپا رٹمنٹ آف کلینیکل میڈیسن ایند سر جر ی نے پنجاب ایگریکلچر ریسر چ بو رڈ کے با ہمی اشتراک سے گذشتہ روز صحت مند حوا نہ معیاری دودھ کی ضما نت کے تھیم پر صحت بخش معیاری دودھ کی پیداوار کو بہتر بنانے کے حوا لے سے گا ئے;47; بھینسو ں کے حوا نہ کی صحت کے مو ضو ع پر دوسرے سا لا نہ سمپو زیم کا انعقاد کیا ۔ افتتا حی تقریب کی صدارت یونیورسٹی آف ایجو کیشن کے وا ئس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طلعت نصیر پا شا (ستا رہ امتیا ز) نے کی جبکہ دیگر اہم شخصیات میں ایڈیشنل سیکر ٹر ی لا ئیو سٹاک اینڈ ڈیر ی ڈیو یلپمنٹ ڈیپا ر ٹمنٹ پنجا ب ڈاکٹر اقبا ل شا ہد، ڈین فیکلٹی آف ویٹر نری سا ئنس پرو فیسر ڈاکٹر کامران اشرف ،چیئر مین ڈیپا رٹمنٹ آف کلینیکل میڈیسن ایند سر جر ی ڈاکٹر سید سلیم احمد کے علا وہ مو یشی پال حضرات، فارم مینیجر ،پرو فیشنلز ، طلبہ و فیکلٹی ممبران اور تحقیق کار و ں کی بڑ ی تعداد نے شر کت کی ۔ اُ س موقع پر افتتا حی تقریب سے خطاب کر تے ہو ئے پروفیسر پا شا نے کہا کہ اگر دودھ دینے والے مو یشی کا حوا نہ صحت مند ہے تو اُس مو یشی کو پا لنے وا لا کسان بھی صحت مند اور خو شحا ل ہی ہو گاکیونکہ دودھ دینے والے مو یشی کا حوانہ سا ڑو مر ض کا شکار ہونا جا نور کی صحت و زندگی اور مو یشی پال کسان کے لیئے معا شی نقصا ن کا با عث ہے ۔

 اُ نہو ں نے سمپو زیم کے آرگنا ئزر کو نصیحت کی کہ مو یشی پال کسانوں کی رہنما ئی کے لیئے ایک سو شل میڈ یا آ گا ہی مہم شرو ع کریں اور ویڈیو کلپ بنا کر کسا نو ں کو مسٹا ءٹس (ساڑو)بیما ری سے بچا ءو، احتیا طی تدا بیر،علاج اور بیمار جا نور کے دودھ دوہنے کے طریقہ کار کے بارے میں آ گا ہی فارمرز تک پہنچا ئی جا ئے اور پوسٹ گریجو یٹ طلبہ اس مہم میں اپنا کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ ڈاکٹر اقبال شاہد نے کہا کہ محکمہ لا ئیو سٹاک مسٹا ءٹس جیسے مہلک مر ض پر قا بو پا نے کے طرف خصو صی تو جہ دے رہا ہے اور اس مرض کی تشخیص کے حوا لے سے محکمہ لا ئیو سٹاک ویٹر نری یونیورسٹی کو اپنی تمام تر ممکنہ معاونت فراہم کرنے کے لیئے ہمہ وقت اما دہ ہے ۔ ڈاکٹر کامران اشرف نے کہا کہ اگر دودھ دینے والے مو یشی کا ایک بھی تھن سا ڑو جیسے مہلک مر ض کا شکا ر ہو جا ئے تو سوزش کیوجہ سے مویشی کا پورا حوا نہ بر ی طرح متا ثر ہو کر خرا ب ہو جا تا ہے اور اس سے نا صرف دودھ کی پیدا وار میں فر ق پڑ تاہے بلکہ وہ مو یشی پال کسان کے لیئے معا شی نقصان کا با عث بھی بنتا ہے لہذا ویٹر نری یونیورسٹی نے اس حوا لے سے اہم مو ضو ع پرسمپو زیم کا انعقاد کیا ہے ۔

سمپوزیم کے انعقاد کا مقصدمو یشی پال حضرات، تحقیق کارو ں اور فارم مینیجر کو ایک چھت تلے اکٹھا کر نا تھا اور دودھ دینے والے مویشیو ں گا ئے بھینسوں کے

حوا نہ کی بیماری سا ڑو سے متعلقہ مختلف مو ضو عات جن میں بیما ری کی علا مات، جا نور کے ساتھ بر تا ءو، بیما ری سے بچا ءوکی احتیا طی تدا بیر کو زیر بحث لا نا تھا اور

گا ئے بھینسو ں کے حوا نہ کی تحقیق ، اپلیکیشن اور سروسز میں ہو نے والی حا لیہ تر قی کے بارے میں شر کا کو جدید تحقیقی نالج سے روشنا س کر وا نا بھی تھا ۔

ایک رو زہ سمپو زیم میں ما ہرین نے معیاری دودھ کے لیئے حوا نہ کی صحت ،پاکستانی مو یشیو ں (گا ئے،بھینسو ں ) میں مسٹا ءٹس( ساڑو) کی مو جودہ حا لت

اور خطرے کا تجزیہ،حوا نہ کے مسا ئل،سا ڑو کس طر ح سے ہو تا ہے اور یہ کس طر ح سے بڑ ھتا ہے ،دا ئمی سا ڑو کے ساتھ کس طر ح بر تا ءو کیا جا تا ہے،دودھ دینے والے مویشیو ں کے ریوڑ کی طبی روک تھام، حوا نہ کی صحت اور مویشیو ں کی تو لیدی کارکردگی، ڈیر ی فارم پرمویشیو ں کے حوا نو ں کی نگرا نی اور غذا ئیت و انتظام،سا ڑو بیما ری کی روک تھام میں حا لیہ تر قی اور مویشیو ں میں سا ڑو بیما ری کی روک تھام کے لیئے ویکسین کے کردار سے متعلقہ مختلف مو ضو عات پر تفصیلی لیکچرز دیے ۔

مزید : کامرس