بر آمدات بڑھا کر جنوبی ایشیا میں بڑی معاشی قوت بن سکتے ہیں: لاہور چیمبر

بر آمدات بڑھا کر جنوبی ایشیا میں بڑی معاشی قوت بن سکتے ہیں: لاہور چیمبر

  



لاہور(کامرس ڈیسک) لاہور چیمبر کے صدر عرفان اقبال شیخ نے کہا ہے کہ برآمدات میں اضافہ ہی پاکستان کو معاشی استحکام اور جنوبی ایشیا کی بڑی معیشت بننے کی منزل تک لے جاسکتا ہے لہذا ان عوامل پر قابوپانا ضروری ہے جو برآمدی شعبے کو متاثر کررہے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کی سربراہی چیف انسٹرکٹر اکرم علی خواجہ کررہے تھے۔ سینئر نائب صدر علی حسام اصغر نے بھی اس موقع پر خطاب کیا جبکہ ایگزیکٹو کمیٹی ممبران فیاض حیدر، حاجی آصف سحر، ذیشان سہیل ملک اور ملک محمد خالد بھی موجود تھے۔ عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ برآمدات بڑھانے کے لیے چند مصنوعات اور چند مصنوعات اور چند منڈیوں پر انحصار ترک کرنا ہوگا، اس کے علاوہ ویلیوایڈیشن پر بھی توجہ دی جائے تاکہ انجینئرنگ، حلال فوڈ، فارماسیوٹیکل اور ٹیکسٹائل سمیت دیگر سیکٹرز عالمی تجارت میں بڑا حصہ حاصل کرسکیں۔ انہوں نے وفد کو آگاہ کیا کہ لاہور چیمبر نے اس سال ایکسپورٹ ایمرجنسی ڈیکلیئر کررکھی ہے اور اس سلسلے میں ایک سہولیاتی ڈیسک بھی قائم کردیا گیا ہے۔ سوالات کے جوابات دیتے ہوئے عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ موجودہ ٹیکس نظام میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے، انہوں 4.5فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک یا دوفیصد پرافٹ مارجن کے مقابلے میں یہ بہت زیادہ ہے جسے کم ہونا چاہیے۔ مارک اپ ریٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مئی 2018ء میں یہ ساڑھے چھ فیصد تھا جو جولائی 2019ء میں 13.25فیصد تک پہنچ گیا، اس کی وجہ سے صنعتوں کے لیے سرمائے کا حصول بہت مہنگا ہوگیا ہے اور وہ وسعت و استعداد کار میں اضافے سے قاصر ہیں، مارک اپ ریٹ سنگل ڈیجٹ ہونا چاہیے۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ روپے کی قدر میں تیزی سے کمی نے صنعت و تجارت اور معیشت کے لیے بڑے مسائل پیدا کیے اور کاروباری شعبہ طویل المدت منصوبہ بندی سے قاصر رہا، حکومت کو اس طرف بالخصوص توجہ دینی ہوگی۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر علی حسام اصغر نے کہا کہ علاقائی ممالک، وسطی ایشیائی ریاستوں، مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں سے ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے علاقائی تجارت کے فروغ، مخصوص مصنوعات اور اہداف پر مبنی ماکیٹنگ کی حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔

مزید : کامرس