انسدادِ بدعنوانی کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ تیزی سے جاری

انسدادِ بدعنوانی کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ تیزی سے جاری

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر اینٹی کرپشن سہیل انور سیال کی ہدایت پر محکمہ اینٹی کرپشن کی جانب سے انسداد بدعنوانی کے خلاف کارروائیوں کے سلسلہ مزید تیز کر دیا گیا ہے اس ضمن میں محکمہ اینٹی کرپشن کا ڈائریکٹر اسکارپ کے دفتر پر چھاپہ مارکر 14غیر قانونی تقرریوں کا متعلقہ ریکارڈ کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے اعلی حکام کی ہدایت پر شائع ہونے والی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے (SCARP) خیرپور کے دفتر پر چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے سال 14. 2013 کے دوران ایکس سی این جی ایچ مصطفی ڈاہری کے جعلی دستخط سے 14غیر قانونی تقرریاں کرکے ضلع خیرپور میں تعینات کرنے کے ریکارڈ و دستاویزات کو تحویل میں لے لیا ہے۔دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ریٹائرڈ آڈیٹر مشتاق سولنگی کی ملی بھگت سے ایس سی آر پی کے افسران، آڈیٹر ٹریڑری آفس کے ساتھ ایس سی آر پی کہ یونین عملہ کے صدر اصغر مکول اور سب انجینئر نبی بخش نے اپنی آئی ڈی کھولی اور غیر قانونی طور پر تنخواہ کا اجرا کردیا۔اس ضمن میں ہیلپر آفتاب مکول اور چوکیدار ایم حنیف کی سروس بک کی دو تصدیق شدہ نقول کرواتے ہوئے متعلقہ ریکارڈ کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔جبکہ غیر قانونی تقرریوں کے ریکارڈ کی مزید فراہمی کے لیے ایکس سی این اسکارپ ٹیوب ویل ڈویژن، اسکارپ ڈرینیج ڈویژن اور ورکشاپ ڈویژن اسکارپ خیرپور کو مراسلہ جاری کردیا گیا ہے تاکہ تحقیقات کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے تفتیش کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے اور غیر قانونی تقرریوں میں ملوث افراد کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر