نوشہرہ میں دویونین کونسلوں کی زرعی اراضی پر قبضہ کیخلاف زمیندار سراپا احتجاج

نوشہرہ میں دویونین کونسلوں کی زرعی اراضی پر قبضہ کیخلاف زمیندار سراپا ...

  



نوشہرہ (بیورورپورٹ) سی پیک سٹی کے نام پر ضلع نوشہرہ کے چھ موضع جات اور دو یونین کونسلوں کی تقریباً 85 ہزار کنال زرعی اراضی پر حکومت کی غیرقانونی قبضے کے خلاف اہلیان علاقہ، زمینداراور کاشتکار سراپا احتجاج زرعی اراضی کو قبضہ کرکے ہمیں بے روزگار اور ہمارے بچوں کے منہ سے نوالہ چھینا جارہا ہے کسی صورت اور کسی نام پر بھی ہم اپنی زمینیں دینے پر رضامند نہیں پی ایچ اے اور ایف ڈبیلو او من مانیاں چھوڑے ہم اپنی قیمتی زرعی اراضی کسی صورت دینے کیلئے تیار نہیں صوبائی حکومت، نوشہرہ ضلعی انتظامیہ، ایف ڈبلیو او، پی ایچ اے سمیت دیگر سرکاری ادارے باز نہ آئیں تو ہم آنے والے پولیو مہم سے بائیکاٹ اور سول نافرمانی کا اعلان کرکے جیل بھرو تحریک سے بھی گریز نہیں کریں گے اس سلسلے میں ضلع نوشہرہ کے چھ موضع جات مصری بانڈہ، میشک، علی محمد، مغلکی، نندرک اور میاں عیسیٰ کے عمائدین، زمیندار، کاشتکاروں سابق تحصیل ممبر سیف الرحمان، کونسلر صدبر، ارباب خان، راز محمد، سفارش علی، مقدر خان، رحم سید، شاہ فرزند، سابق چیئر مین ستانہ گل،تلاوت خان، کامران شہزاد، علی گوہر سلیم اللہ، علی شیر، حاجی معاز خان چمن خان، نثار خان اور سابق کونسلر عبداللہ نے مغلکی میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان چھ موضع جات اور دو یونین کونسلوں کا 84972 کنال زرعی اراضی کبھی میگا سٹی، کبھی موٹروے سٹی ایم ون، کبھی ایجوکیشن سٹی اور اب سی پیک کے نام پر قبضہ کیاجارہا ہے اور عدالتی حکم امتناعی کے باوجود حکومت، ضلعی انتظامیہ کئی بار سیکشن فور لگاچکی ہے جو خلاف قانون ہے انہوں نے کہا کہ اب ہماری قیمتی زرعی اراضی سی پیک سٹی کے نام سے قبضہ کرنے کی سازشیں ہورہی ہے لیکن تعجب اس بات کی ہے کہ سی پیک سے متعلق تمام امور وفاقی حکومت نمٹارہی ہے لیکن یہاں پراب پی ایچ اے اور ایف ڈبلیو او کے مابین معاہدہ ہوا ہے آخر یہ معاہدہ کس قانون کے تحت ہوا ہے کیونکہ مالکانہ حقوق ہمارے پاس ہے اور مالکانہ حقوق ہماری بجائے پی ایچ اے استعمال کررہی ہے حالانکہ پی ایچ اے(پرونشنل ہاؤسنگ اتھارٹی) جوکہ صوبائی محکمہ ہے اور صوبائی محکمہ ہونے کے ناطے وہ سی پیک بارے کوئی کام نہیں کرسکتا کیونکہ سی پیک امور نمٹانا وفاقی حکومت کا کام ہے انہوں نے مزید کہا کہ پی ایچ اے اور ایف ڈبلیو او خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ ملی بھگت کرکے نہ صرف سی پیک سٹی کے نام پر ہماری قیمتی زرعی اراضی قبضہ کرنے کی کوشش کرکے نہ صرف رائے عامہ کو گمراہ کررہا ہے بلکہ ان علاقوں کے محنت کش، زمینداروں اور کاشتکاروں کو اپنی زرعی اراضیوں سے محروم کرکے شعبہ زراعت ناقابل تلافی نقصان پہنچارہے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ساتھ ایف ڈبلیو او ضلعی انتظامیہ پی ایچ اے نے ظلم کی انتہا کردی ہے کہ ہمارے قبرستانوں کی زمینیں بھی قبضہ کی ہوئیں ہیں جو کہ انسانی، مذہبی اخلاقی اقدار کی منفی ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر