کراچی،اکادمی ادبیات کا انتظار حسین کی یاد میں لیکچر کا اہتمام

کراچی،اکادمی ادبیات کا انتظار حسین کی یاد میں لیکچر کا اہتمام

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیا ت پاکستان کراچی کے زیراہتمام ملک کے نامور افسانہ نگار، تنقید نگار، شاعر انتظار حسین کی یاد میں ”خصوصی لیکچر“اور”محفل مشاعرہ“ کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت معروف شاعر،آفسانہ نگار، پروفیسر خیا ل آفاقی نے کی، مہمان خصوصی امریکا سے آئے ہوئے معروف شاعر ایاز مفتی، گجراتی ادب کے معرف ادیب کھتری عصمت علی پٹیل تھے۔ معروف شاعر افسانہ نگار پروفیسر خیال آفاقی نے صدارتی خطاب میں خصوصی لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ ایک خود مختار مملکت کے طورپر پاکستان کے قیام کے آس پاس ابھرنے والے ادیبوں میں انتظار حسین کا نام بہت جلد اہمیت اختیار کرگیا۔ انہوں نے اس نوآزاد مملکت کو اپنی نسل کے لیے ایک تخلیقی چیلنج قرار دیا اور اس مملکت کے ادب و فن کو ایک نئی، واضع اور منفرد شناخت عطا کی۔ یوں انتظارحسین کانام، پاکستانی ادب کے معماروں میں شامل ہونے کا مستحق ہے۔ افسانہ و ناول، تنقید،ترجمہ،سفرنامہ صحافت،کالم خاکہ، مزاحیہ مضمون، ڈرامہ۔۔۔غرضیکہ انتظارحسین نے نثرکی کم وبیش سبھی اصناف میں طبع آزمائی کی ہے لیکن ان کا اصل میدان افسانہ ہے جس میں انہوں نے نہ صرف فنی کامیابی حاصل کی ہے بلکہ اس انداز پر اتنے گہرے،ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں کہ آج جس طور پر افسانہ کھا جاتا ہے، اس کا تعین ان سے اتفاق یا اختلاف کیے بغیر ممکن نہیں۔ داستان اور کتھا سے لے کر مابعد جدید رویے کی حامل علامتی کہانی تک، انہوں نے اپنے افسانوی ادب میں اتنے انداز اختیار کیے ہیں کہ ان کو پڑھنا دراصل کہانی کی پوری تاریخ کو سمیٹ لینا ہے۔ اس موقع پرامریکا سے آئے ہوئے معروف شاعر ایاز مفتی نے کہاکہ پاکستان آنے کے بعد انتظار حسین نے پہلے پہل ہفتہ روزہ ”نظام“ میں مُدیر کے طور پر ملازمت اختیار کی۔ اس کے بعد سے ان کاذریعہ معاش بڑی حد تک صحافت ہی رہا انہوں نے جن اخبارات میں ملازمت کی، ان میں تفصیل یہ ہے۔ روزنامہ ’امروز‘ لاہوربہ حیثیت سب ایڈیٹر۱۹۴۹ء تا ۱۹۵۳،روزنامہ ’آفاق‘ لاہوربہ حیثیت سب ایڈیٹراور کالم نگار ۱۹۵۵؁ء تا ۱۹۵۷؁ء روزنامہ ’مشرق‘ لاہوربہ حیثیت کالم نگار،۱۹۶۳؁ء تا ۱۹۸۸؁ء ماہ نامہ ”ادب لطیف“ کی ادارت اس کے علاوہ ہے۔ انتظار حسین کی طویل ترین وابستگی روزنامہ ”مشرق“ سے رہی جہاں وہ شہر کے حوالے مستقل کالم اور ادبی فیچر لکھتے رہے۔ان تحریروں کا انتخاب کتابی شکل میں شائع ہوچکاہے۔۱۹۸۸ء میں وہ روزنامہ ”مشرق“ سے ریٹائر ہوگئے اور اس کے بعد آزاد قلم صحافی و ادیب کے طور پر کالم لکھتے آئے ہیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے کہا کہ عہد حاضر کے نامور ناول نگار اور صاحب طرز کہانی کا ر انتظار حسین کسی تعار ف کے محتاج نہیں ۶۰ برس کے طویل عرصے کو محیط ان کا تخلیقی سفر ہماری ادبی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ انتظار حسین کی تحریریں ان کے ناول، ان کے افسانے، ان کی یاداشتیں، ان کے مضامین ہمار ے عصری ادبی سرمایہ کا انتہائی اہم حصہ ہیں۔انتظار حسین نے اپنی ادبی زندگی کی ابتداء شاعری سے کی۔ ن م راشد کی”ماورا“ سے گہرا اثرقبول کیا اور اس انداز میں آزاد نظمیں لکھنے کا آگاز کیا۔ لیکن جلد ہی وہ شاعری سے افسانہ نگاری کی طرف آگئے۔ ۱۹۸۲؁ء میں ”بستی“ کو آدم جی ادبی ایوارڈ دیے جانے کا اعلان ہوا۔پاکستان رائٹرگلڈ کے سیکریٹری جنرل کے نام ایک خط میں انتظار حسین نے لکھا ”میں اپنے آپ کو اس اعزاز کا مستحق نہیں سمجھتا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر