ملک میں 80فیصد معدے اور جگر کے مریض ہیں،پروفیسر امان عباسی

ملک میں 80فیصد معدے اور جگر کے مریض ہیں،پروفیسر امان عباسی

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے رجسٹرار پروفیسر امان اللٰہ عباسی نے کہا ہے کہ جنرل او پی ڈی میں ڈاکٹرز سے رجوع کرنے والے 80فیصد افراد کی شکایات کا تعلق امراض جگر و معدہ (گیسٹروانٹرولوجی) سے ہوتا ہے، یہ بات انہو ں نے ڈاؤ میڈیکل کالج کے آراگ آڈیٹوریم میں پاکستان سوسائٹی آف گیسٹرو انٹرولوجی سندھ چیپٹر کے اشتراک سے فنکشنل گیسٹرو انٹرولوجی ڈس آرڈر کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے بہ حیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی، سیمینار سے ان کے علاوہ پروفیسر بدر فیاض زبیری، پروفیسر شہاب عابد، ڈاکٹر روم پرکاش، ڈاکٹر لبنی کمانی اور ڈاکٹر نازش بٹ نے بھی خطاب کیا، جبکہ سینئر فیکلٹی ممبرز اور طلبا کی بڑی تعداد بھی موجود تھی، پروفیسر امان اللٰہ عباسی نے کہا کہ گیسٹرو ایسوفیگل ری فکلس ڈیزیز (گرڈ) کے کسی متاثر مریض کے روز مرہ کے کام متاثر ہوتے ہیں، اس کی کیفیت ایک نڈھال مریض کی نہیں ہوتی، مگر کوالٹی آف لائف متاثر ہوتی ہے، معدے اور غذائی نالی سے الٹے بہاؤ کے باعث پھپھڑے اور خود ایسو فیگس (غذائی نالی) متاثر ہوتے ہیں، انہوں نے کہا کہ گرڈ کی بنیادی علامات میں سینے میں جلن، سینے میں درد اور معدے سے تیزابیت کا اوپر کی جانب آجانا شامل ہیں، انہوں نے بیماری کا باعث بننے کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ موٹاپا، سگریٹ نوشی اور سستی و کاہلی کے باعث جسمانی سرگرمیوں کا نہ ہونا ہے، مگر یہ ناکافی وجوہات ہیں، بعض دواوؤں کا استعمال بھی اس بیماری کا سبب بنتا ہے، انہو ں نے کہا کہ معدے سے تیزابیت کے ُاُبل پڑنے کے باعث غذائی نالی کی لائننگ متاثر ہوتی ہے، جسے بیرٹس ایسوفیگس کہتے ہیں ِ اور مرض بڑھنے کے باعث کینسر میں تبدیل ہوسکتا ہے، انہوں نے معدے کے امراض سے بچنے اور کوالٹی آف لائف کو بہتر کرنے کے لیے طرز زندگی اور کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی لانے پر زور دیا، ڈاکٹر امان اللٰہ عباسی نے کہا کہ گیسٹرو انٹرولوجی میں وہ سرجری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، مریض دواؤ ں سے بہتری کی جانب بڑھ رہا ہو تو سرجری کی ضرورت نہیں رہتی، سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر بدر فیاض زبیری نے قبض کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ شکایت عمومی طور پر 11تا 23فیصد افراد کو ہوتی ہے

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر