کراچی،چوتھی بین الاقوامی واٹر کانفرنس کا انعقاد

کراچی،چوتھی بین الاقوامی واٹر کانفرنس کا انعقاد

  



کراچی (پ ر)کراچی میں چوتھی کراچی بین الاقوامی واٹر کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیاجس کا مقصد واٹر اورانرجی فوڈ پر مل کر کام کرنے والے آبی شعبے کے رہنماؤں‘ اداکاروں اور کھلاڑیوں کو اکٹھا کرنا ہے۔ واٹر انرجی فوڈ نیکسز میں پانی کی مرکزیت تجزیہ کاروں کیلئے بطور آلہ اور عمل کی مثال ہے۔اس کانفرنس کے ذریعے بڑی عالمی‘ علاقائی اور قومی تنظیمیں اور ان کے نمائندے‘ محققین‘ پیشہ ور افراد‘ فیصلہ سازوں‘ کاروباری جدت پسندوں‘ پریکٹیشنرز‘ ماہرین‘ خواتین کے گروپوں‘ نوجوانوں کے گروپوں اور ڈبلیو ای ایف کے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کے درمیان تبادلہ خیالات‘نئی سوچ کو فروغ دینے‘ جدید حل تیار کرنے اور اکیسویں صدی کے پانی کے ایجنڈے پر کام کرنے کا موقع میسر آئے گا۔کانفرنس کے پہلے دن کا آغاز حصار فاؤنڈیشن کے چیئر پرسن مسٹر اشرف کپاڈیہ نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے اس موقع پر حصار فاؤنڈیشن کا ایک مختصر تعارف پیش کیاجو پانی‘ خوراک اور معاش کے تحفظ کے لئے فعال ہے۔ اس کے بعد حصار فاؤنڈیشن کی بانی سیمی کمال نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر بات کرتے ہوئے اسے واٹر انرجی فوڈ نیکسیز اور عالمی نیکسیز میں پانی کی مرکزیت سے مربوط کیا۔ اینگرو کارپوریشن کے سربراہ غیاث خان نے صاف پانی تک رسائی کی بابت گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ دار کارپوریشنوں کی حیثیت سے ہمیں اپنے پانی کے استعمال کی نگرانی‘ پیمائش اور تجزیہ کرنا ہوگا تاکہ اپنے پانی کے انتظام کو بڑھانے کے مواقع پیدا کرسکیں۔ انہوں نے سرکاری اور نجی شعبوں پر زور دیا کہ وہ مستقبل میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے مل کر کام کریں۔ڈیوگریٹی ڈشٹنگویش فیلو ڈاکٹر رابرٹو لینٹن نے اپنے کلیدی خطاب میں اکیسویں صدی کے چیلنجوں اور واٹر فوڈ انرجی نیکسیز کے بارے میں اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔انہوں نے پائیدار ترقیاتی اہداف کو سب سے اہم چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے پانی‘ خوراک اور توانائی کی حفاظت کے مابین باہمی تعلقات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے ان تینوں اہم چیلنجوں پر مشترکہ طور پر غور کرنے کی قدر پر تبادلہ خیال کیا اور مخصوص سیاق و سباق میں ان باہمی تعلقات کی چند مثالیں فراہم کیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر