پنجاب اسمبلی نے سزا دہی بل منظور کر لیا، محکموں کی آڈٹ رپورٹس کمیٹی کے سپرد

پنجاب اسمبلی نے سزا دہی بل منظور کر لیا، محکموں کی آڈٹ رپورٹس کمیٹی کے سپرد

  



لاہور(این این آئی)پنجاب اسمبلی نے سزا دہی پنجاب بل 2019منظور کر لیا، اجلاس میں مختلف محکموں کے اکاؤنٹس کی آڈٹ رپورٹس بھی پیش کی گئیں جنہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ٹو کے سپرد کر دیا گیا، مسلم لیگ (ن) کاسابق وزیر داخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ شہید کی تصویر اتارنے پر احتجاج کیا۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز بھی ایک گھنٹہ 43منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد مزاری کی صدارت میں شروع ہوا۔اجلاس میں صوبائی وزیر ڈاکٹر مراد راس نے محکمہ سکولزایجوکیشن کے بارے میں سوالوں کے جوابات دئیے۔ صوبائی وزیر ڈاکٹر مراد راس نے بتایا کہ صوبہ بھر کے سرکاری سکولوں کے ہیڈز کی خالی آسامیاں مارچ2020 تک پر کر لی جائیں گی۔نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے عظمی بخاری نے کہا کہ پاکستان کے معروف گلوکارہ شوکت علی علیل ہیں،کسی حکومتی شخصیت نے ان کی تیمارداری کی زحمت نہیں کی۔صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ شوکت علی کے علاج کے تمام اخراجات حکومت نے برداشت کئے،اب وہ اپنے گھر شفٹ ہوچکے ہیں۔ اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی طاہر خلیل سندھو نے پنجاب اسمبلی سے سابق وزیر داخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ کی تصویر ہٹانے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ تے ہوئے شہید ہوئے۔پنجاب اسمبلی سے ان کی تصویر اتارنا افسوسناک ہے۔ سرکاری کارروائی کے دوران حکومت پنجاب کے مالی سال 2018-18کے اخراجات،ریو نیو ریسپٹ 2018-19،19اضلاع کی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز کی مالی سال 218-19،19اضلاع کی ہیلتھ اتھارٹی کی مالی سال2018-19،میٹرو پولٹین کارپوریشن لاہور،6میونسپلز کارپوریشن کے مالی سال 2018-19،12ڈسٹرکٹ کونسل کے مالی سال 2018-19،راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی تعمیر کی مالی سال 2016-17،کمرشل کم کار پارکنگ پلازن کی تعمیر کی مالی سال 2016-17،اور پبلک سیکٹر انٹر پرائز ز کی مالی سال 2018-19کی آڈٹ رپورٹس ایوان میں پیش کی گئیں جنہیں سپیکر نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ٹو کے سپرد کردیا۔پنجاب اسمبلی کے ایوان نے سزا دہی پنجاب 2019 کا بل منظور کر لیا۔ بل کے مسودے کے مطابق مختلف کیسز میں ایک ہی طرح کے جرم پر سزا اورجرمانے کی نوعیت مختلف نہیں ہوگی بلکہ تمام کیسز میں سزااورجرمانے کا یکساں اطلاق ہوگا اور اس کیلئے سات زونز بنائے گئے ہیں،کسی بھی جرم کی شدت اور نوعیت کو جانچنے کیلئے 4درجہ بندیاں کر دی گئیں، بل میں دہشتگردی، مذہبی انتہا پسندی اور کم عمر بچوں کے خلاف جرائم کی شقیں شامل ہیں،بل مذہبی، سیاسی اور ثقافتی بنیادوں پر ہونے والے جرائم کی سزاؤں کا بھی احاطہ کرے گا،بل میں سزاؤں کو چار درجہ بندیوں میں تقسیم کیا گیا ہے،زون اے میں کم سزائیں جبکہ بی، سی اور ڈی میں بتدریج اضافہ کیا گیا ہے،سزاؤں کا تعین کرتے ہوئے جرم کے مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے۔ ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلاس آج (جمعرات) سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا۔علاو ہ ازیں پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پنجاب پروبیئشن اینڈپیرول سروس بل 2019ء کی منظوری دیدی۔ چیئر پرسن قائمہ کمیٹی برائے داخلہ مسرت جمشید چیمہ کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کے کمیٹی روم میں اجلا س ہوا جس میں صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امورجناب محمد بشارت راجہ نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ کمیٹی کے اجلاس میں پنجاب پروبیئشن اینڈپیرول سروس بل 2019ء کے نکات پر تفصیلی غوروخوض کیا گیا۔ اس موقع پر محکمہ داخلہ کے افسران نے بل پر بریفنگ دی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ پنجاب کی جیلوں میں 32ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 48ہزار سے زائد قیدی ہیں اس لئے پروبیئشن اینڈپیرول سروس میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے 1926 کا آرڈیننس اور 1927 کے رولز کے مطابق سسٹم چلایا جا رہا ہے۔ قیدیوں کی پروبیئشن کیلئے کورٹ آرڈر کرتی ہے اور پیرول پر رہائی کیلئے محکمہ داخلہ کی کمیٹی فیصلہ کرتی ہے۔ 1960 کے آرڈیننس کے تحت پروبیئشن پر آفیسرز قیدیوں کی کونسلنگ کرتے ہیں۔ بل کے اغراض و مقاصد کے مطابق پروبیشن آفیسر زکیلئے سروس سٹرکچر بنانا، ان کی تعداد میں اضافہ کرنا، قیدیوں کی مشکلات کو دور کرنا اور ان کیلئے کونسلنگ کو ممکن اور بہتر بنانا ہے۔ قائمہ کمیٹی نے بل کو منظور کر لیا جسے اب باضابطہ منظوری کیلئے ایوان میں پیش کیا جائے گا۔

پنجاب اسمبلی/قائمہ کمیٹی

مزید : صفحہ آخر