وزیراعظم کی زیر صدار ت ہنگامی اجلاس، آرمی چیف کی توسیع کا پھر نیا مسودہ تیار، کابینہ نے منظوری دیدی، سمری میں غلطیوں پر شدید اظہار پرہمی

وزیراعظم کی زیر صدار ت ہنگامی اجلاس، آرمی چیف کی توسیع کا پھر نیا مسودہ ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے سینئر ارکان اور قانونی ٹیم کے ہنگامی اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے نیا مسودہ تیار کرلیا گیا، نیا مسودہ سپریم کورٹ کے اعتراضات کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا، مسودہ تیارکرنے کیلئے معروف قانونی ماہر ین کی خدمات لی گئیں، جس کی بعد ازاں کابینہ ارکان نے منظوری بھی دیدی،وفاقی کابینہ سے منظوری کیلئے سمری ارکان کابینہ کو خصوصی میسیجیز کے ذریعے سرکولیٹ کی گئی تھی، آرمی چیف کی موجودگی میں تین بڑے فیصلے بھی کیے گئے کہ فوج اور عدلیہ کے ٹکراو کا تاثر زائل کیا جائے جبکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے قانون اور آئین سے ہٹ کرکوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا،(آج) جمعرات تک ہر صورت معاملہ حل کرنے پر اتفاق طے پایا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ۔ اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے وکیل و سابق وزیر قانون فروغ نسیم، اٹارنی جنرل انور منصور اور ماہر قانون بابر اعوان سمیت سیکریٹری قانون بھی شریک تھے۔بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں سپریم کورٹ میں ہونیوالی سماعت پرمشاورت کی گئی۔ سپریم کورٹ کیاٹھائے گئے سوالات پرغورکیاگیا۔ وزیراعظم کی لیگل ٹیم نے سپریم کورٹ کے اعتراضات پرشق واربریفنگ دی۔ جبکہ سپریم کورٹ کے سمری پراٹھائے گئے اعتراضات پرآرمی چیف سے بھی مشاورت کی گئی۔اجلاس کے دوران آرمی چیف کی مدت ملازمت مین توسیع کیلئے سپریم کورٹ کے اعتراضات کی روشنی میں نیامسودہ تیار کیا گیا۔نیامسودہ سپریم کورٹ کیاعتراضات کومدنظررکھ کربنایاگیا اور اس کی تیاری کیلئے معروف قانونی ماہرین کی خدمات لی گئیں۔ وفاقی کابینہ سے منظوری کیلئے سمری ارکان کابینہ کو سرکولیٹ کردیا گیا ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران حکومت نے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے فیصلے پر ہر صورت قائم رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے قانونی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ آج مکمل تیاری کیساتھ سپریم کورٹ میں پیش ہوا جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ حکومت کسی بھی قسم کا غیر قانونی یا غیر آئینی قدم نہیں اٹھائے گی۔ اجلاس کے دوران یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ہر صورت یہ تاثر زائل کیا جائے کہ فوج اور عدلیہ کے درمیان کسی قسم کا ٹکراو ہے۔اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے قانون اور آئین سے ہٹ کر ہوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ جبکہ یہ تمام معاملہ جمعرات(آج) تک ہر صورت حل کر لیا جائے گا۔ اس سے قبل آرمی چیف وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعظم ہاؤس پہنچے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے موجودہ بحران کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کرنے کیلئے کابینہ کے سینئیر اراکین کا اجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں لیگل ٹیم نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم آفس میں بلائے گئے اجلاس میں سپریم کورٹ کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات پر مشاورت کی گئی۔ جبکہ وزیراعظم عمران خان نے اجلاس میں بابر اعوان کو بھی خصوصی طور پر بلایا۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اہم مشاورتی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی،وزیراعظم عمران خان نے سمری میں باربارغلطیوں پراظہاربرہمی ،عدالتی اعتراضات سمری کی تیاری کے وقت کیوں نظرانداز ہوئے؟عدالتی فیصلے کے بعدغفلت کے مرتکب افسران کیخلاف کارروائی ہوگی۔بدرمی چیف نیبھی سمری اورنوٹیفکیشن میں فرق پرتحفظات کا اظہارکیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی اعتراضات سمری کی تیاری کیوقت کیوں نظرانداز ہوئے؟عدالتی فیصلے کے بعدغفلت کے مرتکب افسران کیخلاف کارروائی ہوگی۔

اجلاس

اسلام آباد (آن لائن) وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی نوجوان آبادی ملک کے بیش قیمت اثاثہ ہے، نوجوانوں کے اس ٹیلنٹ کو مثبت طریقے سے برؤے کار لانے کی ضرورت ہے، حکومت کی اولین ترجیح نوجوانوں کے لئے نوکریوں کے مواقع پیدا کرنا اور معاشی عمل کو تیز کرنا ہے، اس مقصد کے لئے روایتی طریقوں سے ہٹ کر غیر روایتی (آؤٹ آف دا باکس) سوچ اپنانے کی ضرورت ہے، وزراء اور صوبائی چیف سیکرٹری صاحبا ن اپنے اپنے متعلقہ محکموں میں ایسے ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی کریں جہاں محض سہولت کاری، قوانین کو آسان بنا کریا کم مالی وسائل لگا کر ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع کیا جا سکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں معاشی عمل کو تیز کرنے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ و نجی شعبے کی شراکت داری سے مختلف شعبوں میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقدہوا۔ اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور نجی شعبے کے تعاون سے مختلف حکمت عملی اور رائج طریقہ کار سے ترقیاتی منصوبوں کے اجراء کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں سے جہاں معاشی عمل تیز ہوتا ہے وہاں نوکریوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں تاہم حکومت کے محدود وسائل کی وجہ سے بعض اہم ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد نہیں کیا جا سکتا۔ اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی یہ کوشش ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دیا جائے اور نجی شعبے کی شراکت داری میں ہر ممکنہ سہولت فراہم کی جائے تاکہ سماجی و معاشی ترقی کاعمل تیز ہو اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں۔ اجلاس میں توانائی، مواصلات، ہوابازی، سیاحت، لاجسٹک،ٹیکنالوجی، ویسٹ منیجمنٹ، سوشل سیکٹر، رئیل اسٹیٹ اور اس کے علاوہ مختلف دیگر شعبوں میں متعدد ایسے منصوبوں کی نشاندہی کی گئی جن میں نجی شعبے کی شراکت داری کو یقینی بنا کر ان ترقیاتی منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی ملک کے بیش قیمت اثاثہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کے اس ٹیلنٹ کو مثبت طریقے سے برؤے کار لایا جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح نوجوانوں کے لئے نوکریوں کے مواقع پیدا کرنا اور معاشی عمل کو تیز کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لئے روایتی طریقوں سے ہٹ کر غیر روایتی (آؤٹ آف دا باکس) سوچ اپنانے کی ضرورت ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ توانائی، انفراسٹرکچر، سیاحت، مواصلات و دیگر شعبوں میں متعدد ایسے منصوبے موجود ہیں جہاں حکومت کی جانب سے نجی شعبے کی سہولت کاری، قوانین اور عوام کو آسان بنا کر یا حکومت کی جانب سے کم سے کم وسائل مالی وسائل برؤے کار لا کر ترقیاتی عمل کو تیز کیا جا سکتا ہے اور اربوں روپے کے منصوبوں کا اجراء کیا جا سکتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے وزراء اور صوبائی چیف سیکرٹری صاحبانان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے متعلقہ محکموں میں ایسے ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی کریں جہاں محض سہولت کاری، قوانین کو آسان بنا کریا کم مالی وسائل لگا کر ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع کیا جا سکتا ہے۔ عمران خان نے کہاہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے موصول ہونے والی ترسیلات ملکی معیشت میں اہم حیثیت رکھتی ہیں، بیرون ملک پاکستانی ملک کا اثاثہ ہیں ان کی سہولت کاری کے لئے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا، موجودہ حکومت نے مشکل ترین معاشی صورتحال میں حکومت کی باگ ڈور سنبھالی،حکومتی کوششوں کی وجہ سے آج ملک میں معاشی استحکام ہے اور سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہوا ہے اور مثبت رجحان سامنے آیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی صدارت میں ہونے والے حکومتی معاشی ٹیم کے اجلاس میں کیا۔اجلاس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے قانونی طریقوں سے ملک میں ترسیلات زر بھیجنے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے مجوزہ مراعاتی پیکج وزیرِ اعظم کو پیش کر دیا گیا اور مراعاتی پیکج میں ترسیلات زر کے فروغ کے حوالے سے بنکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کو خصوصی مراعات دیے جانے کی تجویز دی گئی۔جبکہ ترسیلات زر کے حوالے سے بنکوں کو دی جانے والی مراعات میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹرانزیکشن کے لئے مطلوبہ رقم کی مقدار کو بھی کم کیے جانے کی تجویز سامنے آئی،وزیر اعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا فارن ایکسچینج ریمٹنس کارڈ کی تجدیدسے اسے مزید بہتر بنانے کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ غیر ممالک سے قانونی طریقوں سے ملک میں بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے فروغ کے لئے پرموشن اسکیم کے اجرا کی تجویز۔ اس سکیم کے تحت قرعہ اندازی کے ذریعے بیرون ملک سے ترسیلات زر بھیجنے والے پاکستانیوں کو انعامات دیے جائیں گے۔ بیرون ملک جانے والے افراد کے لئے بنک اکاؤنٹ کھولنے کی شرط لازمی قرار دی جائے ۔ پاکستان پوسٹ کی جانب سے بتایا گیا کہ ترسیلات زر میں سہولت کاری کے لیے پاکستان پوسٹ کے مقرر ڈاکخانوں کی تعداد 240سے بتدریج بڑھا کر 3200کر دی جائے گی جہاں سے بیرون ملک سے موصول ہونے والی ترسیلات متعلقہ خاندانوں کی دہلیز تک پہنچائی جائیں گی وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ طاقتور ممالک اپنے تجارتی مفادات کے سبب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر خاموش ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی قونصل جنرل کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں آر ایس ایس نظریے کی فاشسٹ ذہنیت دکھائی ہے۔انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ قابض بھارتی انتطامیہ نے 100 روز سے مقبوضہ جموں و کشمیر کا محاصرہ کر رکھا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ طاقتور ممالک اپنے تجارتی مفادات کے سبب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر خاموش ہیں۔

عمران خان

مزید : صفحہ اول