امریکی حکام کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کیوں نہ جاسکے،کانگریس مین

امریکی حکام کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کیوں نہ جاسکے،کانگریس مین

  



واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) امریکی کانگریس مین بریڈ شرمن نے وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام سے پوچھا ہے کہ وہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے کیوں نہیں جاسکے اور اگر بھارتی حکومت نے سکیورٹی وجوہات پر ان کو داخلے کی اجازت نہیں دی تو یورپی یونین کے پارلیمنٹ ارکان کو اس نے کیسے وہاں جانے دیا۔ انہوں نے امریکہ کی قائم مقام معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز کے نام ایک کھلے خط میں اس طرح کے متعدد سوالات اٹھائے ہیں، انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ بائیس اکتوبر کو ایوان نمائندگان کی امور خارجہ کی جنوبی ایشیاء میں انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی میں پیشی کے دوران وزارت خارجہ کے حکام کے درخواست کی گئی تھی کہ وہ کشمیر کے معاملے پر بند کمرے میں بریفنگ دیں جس پر اب جلد عمل ہوتا چاہیے مسٹر شرمن جو خود بھی وزارت خارجہ کی اس ذیلی کمیٹی کے اہم رکن ہیں خط میں مزید سوال کئے ہیں کہ بتایا جائے کہ امریکی سفارت کاروں نے کتنی مرتبہ 5 اگست کے بعد کشمیر کا دورہ کرنے کی درخواست کی ہے کتنی مرتبہ انہیں دور کرنے کی اجازت ملی ہے؟ بھارتی حکومت نے اگر ان دوخواستوں کے جواب میں انکار کیا ہے تو اس کی انہوں نے کہا وجوہات دی ہیں۔

کانگریس مین

مزید : صفحہ اول