پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر پر سائبر وار شدت اختیار کر گئی

پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر پر سائبر وار شدت اختیار کر گئی

  



نئی دہلی (آئی این پی)ماہرین نے بتایا ہے بھارت اور پاکستان ایک خطرناک سائبر وار شروع کئے ہوئے ہیں کیونکہ دونوں ممالک کشمیر پر اپنے موقف کے مطابق انٹیلی جنس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر تے ہیں۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق سائبر سیکیورٹی کمپنیوں کا کہنا ہے دونوں ممالک میں ریاستی حمایت یافتہ ہیکنگ میں تیزی دیکھی گئی ہے جس میں ایک دوسرے کے عہدیداروں،فوجی اہلکاروں، کاروباری اداروں اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا جاتاہے۔ان سائبر حملوں میں تیزی آرہی ہے۔ دونوں ممالک کے سیکنگ گروپس نے اپنے ٹول تیار کیے ہیں اور دوسرے ممالک سے بھی ہیکنگ سافٹ ویئر خریدے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف سائبر گینگز کی خدمات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔صورتحال کی نگرانی کرنیوالی سائبر سکیورٹی کمپنیوں کے مطابق دونوں ممالک کی حکومتیں اپنی سرحدوں کے اندر موجود کارکنوں اور صحافیوں کو نشانہ بنانے کیلئے بھی اسی طرح کی تکنیک استعمال کرتی ہیں۔پچھلے ایک سال کے دوران آن لائن حملوں میں تیزی سے اضافے نے دونوں ممالک کے مابین ایک جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ امریکہ میں قا ئم ایک کمپنی، نیٹ اسکاٹ نے کہا اس وقت وہ چھ ہندوستانی اور تین پاکستانی اعلی درجے کے گروہوں کا سراغ لگا رہی ہے، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے وہ ریاستی حمایت یافتہ ہیکر ہیں۔کمپنی نے بتایا ہے انفرادی کمپین اور مال وئر زکی تعداد حالیہ مہینوں میں ڈرامائی انداز میں بڑھ چکی ہے۔اگرچہ سائبر حملوں کو کسی ملک سے جوڑنااکثر مشکل ہوتا ہے لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ان گروہوں کو دہلی اور اسلام آباد کی حمایت حاصل ہے اور وہ "جغرافیائی سیاسی تصادم" میں مصروف ہیں۔نیٹ سکاٹ کے سیکیورٹی ڈویژن میں ریسرچ مینیجر رچرڈ ہمل نے بتایا، "ہم بہت پراعتماد ہیں کہ ہیکرز گروپ ریاستی سرپرستی میں ہندوستان اور پاکستان دونوں کی حکومتوں کے لئے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بھارت نسبتابڑے سائبر آپریشنز کرتا ہے اور ہندوستانی گروپوں نے چین کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

سائبر وار

مزید : صفحہ اول